چین نے جمعے کو پہلی بار دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹ کو کامیابی سے زمین پر اتار لیا، جسے اس کے خلائی پروگرام اور راکٹ لانچنگ کی لاگت میں کمی کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق اس کامیابی کے بعد چین دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹوں کی ٹیکنالوجی میں امریکہ کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں آ سکتا ہے، جہاں اب تک ایلون مسک کی کمپنی ’سپیس ایکس‘ اور جیف بیزوس کی ’بلو اوریجن‘ اس شعبے میں نمایاں رہی ہیں۔
چین کی قومی خلائی ادارے ’سی این ایس اے‘ کے مطابق ’لانگ مارچ-10 بی‘ راکٹ نے مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بج کر 15 منٹ پر جنوبی چین کے صوبہ ہائی نان میں واقع لانچنگ مرکز سے پرواز کی اور ایک سیٹلائٹ کو کامیابی سے مدار میں پہنچایا۔
مزید پڑھیں
-
انسانوں کو مریخ پر لیجانے والے راکٹ کا تجربہNode ID: 106821
-
ناسا کے خلائی مشن نے سورج کے قریب پہنچنے کا اعزاز حاصل کر لیاNode ID: 890624
ادارے کے مطابق ’اس کے بعد راکٹ کے پہلے مرحلے، یعنی وہ نچلا حصہ جو راکٹ کو زمین سے بلند کرنے کے لیے ابتدائی طاقت فراہم کرتا ہے، کو سمندر میں موجود ایک پلیٹ فارم کی مدد سے کامیابی سے واپس حاصل کر لیا گیا۔‘
چین کے سرکاری نشریاتی ادارے ’سی سی ٹی وی‘ نے فضائی مناظر نشر کیے، جن میں راکٹ کو نیچے اترتے ہوئے اور پھر پلیٹ فارم پر سست انداز میں اترتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
سی این ایس اے نے کہا کہ ’یہ مشن چین کی جانب سے کسی راکٹ کے پہلے مرحلے کی پہلی کامیاب کنٹرولڈ ریکوری ہے، جبکہ سمندر میں جال کے ذریعے راکٹ کو واپس حاصل کرنے کا یہ دنیا کا بھی پہلا کامیاب تجربہ ہے۔‘
ادارے نے اس کامیابی کو چین کی دوبارہ استعمال ہونے والی راکٹ ٹیکنالوجی میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا۔
’لانگ مارچ-10 بی‘ راکٹ، ’سپیس ایکس‘ کے ’فالکن 9‘ کے برعکس، لینڈنگ کے لیے ٹانگوں (لینڈنگ لیگز) کا استعمال نہیں کرتا۔
چین کی اکیڈمی آف لانچ وہیکل ٹیکنالوجی کے ماہر چن مویے کے مطابق جال کے ذریعے راکٹ واپس حاصل کرنے کا نظام منفرد فوائد رکھتا ہے۔
https://t.co/jtCmasw3Y0 pic.twitter.com/ZsbVRk6FS0
— Andrew Jones (@AJ_FI) July 10, 2026












