Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چین نے پہلی بار ’دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹ‘ کو زمین پر اتار لیا

زیادہ تر راکٹ صرف ایک بار استعمال کے لیے بنائے جاتے ہیں اور ان کے مختلف حصے یا تو سمندر میں گر جاتے ہیں (فوٹو: سوشل میڈیا)
چین نے جمعے کو پہلی بار دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹ کو کامیابی سے زمین پر اتار لیا، جسے اس کے خلائی پروگرام اور راکٹ لانچنگ کی لاگت میں کمی کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق اس کامیابی کے بعد چین دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹوں کی ٹیکنالوجی میں امریکہ کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں آ سکتا ہے، جہاں اب تک ایلون مسک کی کمپنی ’سپیس ایکس‘ اور جیف بیزوس کی ’بلو اوریجن‘ اس شعبے میں نمایاں رہی ہیں۔
چین کی قومی خلائی ادارے ’سی این ایس اے‘ کے مطابق ’لانگ مارچ-10 بی‘ راکٹ نے مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بج کر 15 منٹ پر جنوبی چین کے صوبہ ہائی نان میں واقع لانچنگ مرکز سے پرواز کی اور ایک سیٹلائٹ کو کامیابی سے مدار میں پہنچایا۔
ادارے کے مطابق ’اس کے بعد راکٹ کے پہلے مرحلے، یعنی وہ نچلا حصہ جو راکٹ کو زمین سے بلند کرنے کے لیے ابتدائی طاقت فراہم کرتا ہے، کو سمندر میں موجود ایک پلیٹ فارم کی مدد سے کامیابی سے واپس حاصل کر لیا گیا۔‘
چین کے سرکاری نشریاتی ادارے ’سی سی ٹی وی‘ نے فضائی مناظر نشر کیے، جن میں راکٹ کو نیچے اترتے ہوئے اور پھر پلیٹ فارم پر سست انداز میں اترتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
سی این ایس اے نے کہا کہ ’یہ مشن چین کی جانب سے کسی راکٹ کے پہلے مرحلے کی پہلی کامیاب کنٹرولڈ ریکوری ہے، جبکہ سمندر میں جال کے ذریعے راکٹ کو واپس حاصل کرنے کا یہ دنیا کا بھی پہلا کامیاب تجربہ ہے۔‘
ادارے نے اس کامیابی کو چین کی دوبارہ استعمال ہونے والی راکٹ ٹیکنالوجی میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا۔
’لانگ مارچ-10 بی‘ راکٹ، ’سپیس ایکس‘ کے ’فالکن 9‘ کے برعکس، لینڈنگ کے لیے ٹانگوں (لینڈنگ لیگز) کا استعمال نہیں کرتا۔
چین کی اکیڈمی آف لانچ وہیکل ٹیکنالوجی کے ماہر چن مویے کے مطابق جال کے ذریعے راکٹ واپس حاصل کرنے کا نظام منفرد فوائد رکھتا ہے۔
انہوں نے چینی اخبار ’گلوبل ٹائمز‘ کو بتایا کہ موجودہ ریکوری کے طریقوں کے مقابلے میں یہ نظام راکٹ کی لینڈنگ کی ضروریات سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔
زیادہ تر راکٹ صرف ایک بار استعمال کے لیے بنائے جاتے ہیں اور ان کے مختلف حصے یا تو سمندر میں گر جاتے ہیں، فضا میں جل کر ختم ہو جاتے ہیں یا پھر مدار میں خلائی ملبے کی صورت میں رہ جاتے ہیں، جبکہ راکٹ کا پہلا مرحلہ اس کا سب سے مہنگا حصہ تصور کیا جاتا ہے۔
چن مویے کے مطابق ’جال کے ذریعے ریکوری کا طریقہ راکٹ کی ساخت کو مزید سادہ بناتا ہے، کیونکہ اس میں لینڈنگ لگز کی ضرورت نہیں رہتی، جس سے راکٹ کا وزن بھی کم ہو جاتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’وزن میں کمی سے راکٹ زیادہ وزن مدار میں لے جانے اور مجموعی آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے کے قابل ہو جاتا ہے۔‘
راکٹ کے کسی حصے کو دوبارہ استعمال کرنے سے سیٹلائٹس اور خلائی جہازوں کی لانچنگ کی لاگت کم کی جا سکتی ہے، جبکہ ’لانگ مارچ-10‘ راکٹوں کی سیریز کو خاص طور پر چین کے مستقبل کے انسان بردار چاند مشنز کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔

شیئر: