Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے مشہور ‘مونال ریسٹورنٹ‘ کو گرانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد کے مشہور مونال ریسٹورنٹ، لا مونتانا اور دیگر تجارتی مراکز کو مسمار کرنے کے سپریم کورٹ کے 2024 کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ 
پیر کو وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے جاری فیصلے میں جائیداد کی ملکیت، لیز اور انتظامی امور سے متعلق تمام تنازعات کو واپس ماتحت عدالتوں اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں کو بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت کے  جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی آئینی بینچ نے کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی ( سی ڈی اے) اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کی جانب سے دائر کردہ اپیلوں پر سماعت کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔
وکلاء کے دلائل اور قانونی نکات
سماعت کے دوران سی ڈی اے، ایم سی آئی اور ریسٹورنٹ مالکان کے وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ مارگلہ ہلز کی مذکورہ زمین پر ملٹری ڈائریکٹوریٹ آف فارمز اور سی ڈی اے کے درمیان ملکیت کا دیرینہ تنازع ہے، جس کا حتمی فیصلہ ابھی سِول کورٹ میں ہونا باقی تھا۔ 
وکلاء کے مطابق سپریم کورٹ نے اس بنیادی قانونی طریقہ کار کو نظرانداز کرتے ہوئے براہِ راست مسمار کرنے کا حکم دیا تھا، جبکہ یہ کاروبار قانونی لیز اور بھاری سرمایہ کاری کے بعد شروع کیے گئے تھے۔
عدالت کے  ریمارکس
بینچ کے سربراہ جسٹس حسن اظہر رضوی نے سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کی قانونی خامیوں کی نشان دہی کرتے ہوئے واضح کیا کہ عدالتیں جذباتی ہو کر یا عوامی دباؤ میں فیصلے نہیں کرتیں، بلکہ قانون اور دستیاب ریکارڈ کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے۔ 
عدالت نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کا کام ٹرائل کورٹ بننا نہیں ہے جب ایک معاملہ پہلے ہی متعلقہ فورمز پر زیرِ سماعت تھا، تو مسمار کرنے جیسے انتہائی اقدامات کا حکم نہیں دیا جانا چاہیے تھا۔ 
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ماحولیاتی تحفظ بلاشبہ اہم ہے، لیکن اس کا حل ریگولیٹری قوانین کے تحت ضابطے بنانا ہے، نہ کہ قانونی طور پر قائم کاروباروں کو ختم کرنا۔
وفاقی آئینی عدالت نے ہدایت کی ہے کہ زیر التوا سول اور ٹرائل کورٹس ان معاملات کو سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کے مشاہدات سے متاثر ہوئے بغیر، قانون اور میرٹ کی بنیاد پر تیزی سے طے کریں۔
فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ زمین اور ریسٹورنٹس سے جُڑے تمام انتظامی اور ریگولیٹری فیصلے اب متعلقہ اتھارٹیز قانون کے مطابق کرنے کی مجاز ہوں گی۔
مسمار کرنے کا حکم کیوں دیا گیا تھا؟
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب جون 2024 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں، اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے تحفظات اور ماحولیاتی آلودگی کا نوٹس لیتے ہوئے ایک تاریخی فیصلہ سنایا تھا۔ 
اس وقت کی اعلیٰ عدالت نے مارگلہ ہلز کے قدرتی ماحول اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے مونال سمیت تمام ریسٹورنٹس کو تین ماہ کے اندر مکمل طور پر بند کرنے اور ڈھانچے کو مسمار کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد ستمبر 2024 میں انتظامیہ نے آپریشن کرتے ہوئے ان ریسٹورنٹس کو سیل کر دیا تھا۔
آئینی عدالت کے موجودہ فیصلے کے بعد مونال ریسٹورنٹ کیس کی قانونی صورت حال مکمل طور پر تبدیل ہو گئی ہے، اور اب یہ تمام کیسز اسلام آباد کی مقامی سول کورٹس اور ہائی کورٹ میں واپس جائیں گے جہاں زمین کی اصل ملکیت اور ماحولیاتی قوانین کے دائرہ کار کا نئے سرے سے ٹرائل ہو گا۔

شیئر: