Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’یہ ہمارا خون ہے‘ ، کزن نے 22 برس بعد اسامہ کو خاندان سے کیسے ملایا؟

آج سے تقریباً 22 برس قبل پنجاب کے ضلع گجرات میں ایک گھر سے بچہ ماں کے دیے پیسوں سے کوئی چیز لینے نکلا اور پھر 22 برس تک واپس لوٹ کر نہ آیا۔ وہ بچہ آج جب 22 برس بعد واپس آیا تو اس میں کراچی کے ایک سماجی کارکن ولی اللہ معروف اور اس بچے کی خالہ سمیت خالہ زاد بہن ڈاکٹر ثمن راؤ نے اہم کردار ادا کیا۔
سنہ 2005 میں گجرات میں گھر سے نکلنے والے محمد اسامہ میاں خان دو دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد اپنے خاندان سے مل پائے ہیں۔
اس سفر میں بے شمار نشیب و فراز آئے۔ سماجی کارکن ولی اللہ معروف کی مسلسل کوششوں اور آخرکار ان کی خالہ اور خالہ زاد بہن ڈاکٹر ثمن راؤ نے خاندان کو ایک جگہ جمع کر کے یہ ملاقات ممکن بنائی۔ محمد اسامہ میاں خان کی یادداشت میں سنہ 2005 کا وہ دن آج بھی دھندلا سا موجود ہے۔
اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’مجھے والدہ نے پیسے دیے تو میں چیز لینے باہر گیا۔ وہاں سے میں راستہ بھٹک گیا اور نہیں معلوم کہاں نکل گیا۔‘ راستہ بھٹکنے کے بعد وہ کسی نامعلوم مقام سے ہوتے ہوئے اسلام آباد کے ایدھی سینٹر جا پہنچے جہاں چند ماہ گزارنے کے بعد انہیں ملتان منتقل کر دیا گیا اور پھر چھ ماہ بعد کراچی شفٹ کر دیے گئے۔
کراچی پہنچ کر اسامہ نے ایک فیکٹری میں کام شروع کیا جہاں سے روز کا خرچہ نکل آتا اور 30 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ میں کپڑے اور کرایہ پورا ہو جاتا۔
سماجی کارکن ولی اللہ معروف نے اردو نیوز کو بتایا ’اسامہ جب پہلی بار ہم سے ملنے آئے تھے تو تقریباً 10 منٹ تک سسکیاں لے کر روتے رہے۔ ان سے بات نہیں ہو پا رہی تھی۔ وہ بہت تنہا اور بے یار و مددگار محسوس کر رہے تھے۔ یہ کراچی میں ایک فیکٹری میں کام کرتے تھے اور وہیں راتیں گزارتے رہے۔ کبھی عید پر یا کسی خوشی غمی پر کہیں جانا نہیں ہوا۔ کسی قسم کی سماجی زندگی تک نہیں تھی۔‘
ولی اللہ معروف بتاتے ہیں کہ جس شیلٹر ہوم میں اسامہ رہے وہاں کے 30 بچوں کو وہ پہلے ہی برسوں اور دہائیوں بعد اپنے خاندانوں سے ملا چکے تھے۔ ’اسامہ نے بھی جب دیکھا کہ ان کے دوست اپنوں سے مل رہے ہیں تو انہوں نے ہم سے رابطہ کیا۔ ہم نے ایک بار سوشل میڈیا پر پوسٹ لگائی لیکن کوئی سراغ نہیں ملا۔ دوسری بار جب پوسٹ لگائی تو ہمیں نتیجہ خیز نتائج ملے اور ان کا خاندان مل گیا۔‘
ان کے مطابق اسامہ کے شناختی علامات میں ان کے ہاتھ اور ٹھوڑی پر زخموں کے نشان، سر پر ایک پرانا نشان، کان کی مختلف بناوٹ اور گھر میں خرگوش اور صحن میں کھڑا شاہ توت کے درخت کی یادیں شامل تھیں جن کی مدد سے ان کے خاندان کا سراغ لگا۔
سوشل میڈیا کی یہ پوسٹ گجرات میں اسامہ کے خاندان تک پہنچی لیکن 22 برس کا خلا یونہی نہیں بھرا جا سکتا تھا۔ ولی اللہ معروف کے مطابق خاندان سے براہ راست رابطہ نہ ہونے کے باعث ابتدا میں کچھ مسائل بھی سامنے آئے۔ ’والدہ اور بھائیوں کو یہ شبہ تھا کہ یہ کوئی فراڈ نہ ہو یا کوئی اور شخص نہ ہو لیکن مسلسل کوششوں اور رابطے کے بعد مسائل حل ہوئے۔‘
ابتداء میں انہیں کسی سے اطلاع ملی کہ اسامہ کا خاندان اسے اپنانے سے کترا رہا ہے لہٰذا انہوں نے ایک ویڈیو بنا کر لوگوں کو آگاہ کر دیا کہ اسامہ کا خاندان ملنے کے باوجود وہ اپنے خاندان سے نہیں مل سکیں گے لیکن پھر ایک نیا موڑ آیا۔
ولی اللہ معروف کے مطابق اسامہ کے آبائی گھر میں کوئی مرد موجود نہیں تھا، دو بھائی بیرون ملک ملازمت کے سلسلے میں مقیم ہیں، اس لیے معاملہ سست روی کا شکار ہو رہا تھا۔ جب اسامہ کی خالہ اور خالہ زاد بہن ڈاکٹر ثمن راؤ کو اس ساری صورتحال کا علم ہوا تو انہوں نے ’اپنے خون کو اپنانے اور انہیں اپنے خاندان سے ملانے کا فیصلہ کیا۔‘
ڈاکٹر ثمن نے فوری ولی اللہ معروف سے رابطہ کر کے صورتحال کا اندازہ لگایا۔ ولی اللہ معروف کے بقول ’ڈاکٹر ثمن نے بہت اچھے طریقے سے بات کی۔ ان کی باتوں سے صلہ رحمی اور انسانیت جھلک رہی تھی اور انہوں نے کہا کہ کوئی ملے نا ملے، ہمارا خون ہے، ہم اسامہ کو ایسے چھوڑ نہیں سکتے۔‘ ڈاکٹر ثمن راؤ نے نہ صرف خود ذمہ داری اٹھائی بلکہ خاندان کے دیگر افراد کو بھی اعتماد میں لینے کی بھرپور کوشش کی۔
ڈاکٹر ثمن راؤ اسامہ کے جانے کے بعد کی کہانی بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’سنہ 2005 میں گجرات سے میرے کزن گھر سے نکلے تھے۔ بچہ تھا اور کبھی واپس نہیں آیا۔ 22 سال تک ان کی ماں اور والد نے بہت ڈھونڈا لیکن وہ نہیں ملا۔ 11 برس قبل ان کے والد کا انتقال ہوا۔ جب وہ وینٹی لیٹر پر تھے تو تب بھی وہ اپنے بڑے بیٹے اسامہ کو یاد کر رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ وہ اپنے بیٹے سے ملنا چاہتے ہیں۔ انسان اپنی پہلی اولاد کبھی نہیں بھول سکتا۔‘
ڈاکٹر ثمن راؤ بتاتی ہیں کہ گھر میں اسامہ سے متعلق بار بار گفتگو ہوتی رہتی تھی۔ ’ہم بھی جب اپنی نانی کے ساتھ ہوتے تو پوچھتے کہ اسامہ اگر یہاں ہوتا تو کیا کر رہا ہوتا؟ کیونکہ ایک فرد جس کا آپ کو کوئی علم نہیں کہ وہ زندہ ہے یا مر گیا۔ جب مر جائے تو فکر ختم ہو جاتی ہے، لیکن اس کا کچھ نہیں معلوم تھا اس لیے ہمیشہ فکر رہتی تھی۔‘
قسمت نے آخرکار وہ موڑ دکھایا جس کا شاید خاندان نے برسوں پہلے امید کرنا چھوڑ دیا تھا۔ ڈاکٹر ثمن راؤ بتاتی ہیں کہ ’ایک دن میرے فون پر دوستوں نے لنکس شیئر کیے۔ میری والدہ نے بھی ایک پوسٹ شیئر کی جس میں اسامہ کا ذکر تھا۔ ہم نے جب تصویر دیکھی تو میری والدہ نے کہا کہ یہ ہمارا اسامہ ہے۔ نانی نے بھی کہا کہ یہ اسامہ ہے۔ انہوں نے پہچانا کیونکہ خون تو خون ہوتا ہے۔‘ اپنانے کے مسئال اور اس شناخت کے بعد ڈاکٹر ثمن راؤ نے ولی اللہ معروف سے رابطہ کیا اور خود تمام انتظامات کا بیڑا اٹھایا۔
بالآخر وہ رات آ پہنچی جس کا انتظار 22 برس سے ہو رہا تھا۔ ڈاکٹر ثمن راؤ نے ایک ہوٹل میں تقریب کا اہتمام کیا جہاں اسامہ کی والدہ، نانی، خالہ، بہنیں اور دیگر عزیز و اقارب جمع ہوئے۔ لاہور گلبرگ کے مقامی ہوٹل میں اسامہ کے رشتہ دار تھے تھے۔ اسامہ کو ویلکم کرنے کے لئے پھولوں کی پنکھڑیاں اور آتش بازی کے لیے پٹاخے بھی لائے گئے تھے۔
ڈاکٹر ثمن راؤ اس لمحے کو یوں بیان کرتی ہیں۔ ’ہمارا پورا خاندان آج اکٹھا تھا۔ سب نے اسامہ کو دل سے خوش آمدید کہا۔ یہ مناظر ناقابل بیان ہیں۔ ان موقعوں پر آپ کو احساس ہوتا ہے کہ خاندان کتنا ضروری ہے اور آپ کے ساتھ کھڑا ہونے والا کتنا ضروری ہے۔‘
اسامہ کے لیے یہ لمحہ کسی خواب کی تعبیر سے کم نہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’مجھے بہت خوشی ہوئی۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اپنوں سے ملیں گے۔‘ اپنے گھر لوٹنے اور والدہ سمیت بہنوں سے ملاقات کا سہرا وہ بلا جھجک ان دو افراد کے سر باندھتے ہیں جنہوں نے ان کی زندگی بدل دی ’مجھے جن کا نام بھی نہیں یاد تھا اس کزن کی وجہ سے آج میں یہاں ہوں۔ ڈاکٹر ثمن راؤ، ان کی والدہ اور ولی اللہ نے ہی میرے لئے سب کچھ کیا۔‘
جب اسامہ ہوٹل پر آئے تو ان کی والدہ، نانی، خالہ اور بہنوں سمیت سب نے انہیں ہار پہنائے اور سب نے انہیں گلے لگا کر 22 برس کی تمام تر تلخیاں بھلا دیں۔ ولی اللہ معروف بتاتے ہیں کہ ’اتنے برسوں بعد کسی کے اچانک لوٹ آنے پر خاندان کا محتاط رد عمل کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے بلکہ فطری انسانی نفسیات کا حصہ ہے لیکن جو چیز اس کہانی کو خاص بناتی ہے وہ ہے ڈاکٹر ثمن راؤ اور اسامہ کی خالہ کا وہ غیر مشروط پیار جس نے تمام شکوک کے باوجود کہا کہ خون کا رشتہ کبھی نہیں جھٹلایا جا سکتا۔‘
تقریب کے اختتام پر ہوٹل پر سب نے کھانا کھایا اور جب وہاں موجود لوگوں نے اسامہ سے پوچھا کہ اب وہ کہاں جائیں گے تو پاس ہی کھڑی ان کی والدہ نے کہا ’کہاں جائے گا؟ اپنے گھر ہی جائے گا ہمارے ساتھ‘ جس کے بعد اسامہ کی دونوں بہنوں نے ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں گاڑی میں بٹھایا اور روانہ ہوئے۔

شیئر: