Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ڈنکی لگا کر یورپ جانے والے تین نوجوان اغوا کاروں کے چُنگل میں کیسے پھنس گئے؟

’بیٹا، ہم نے پوری زندگی کی کمائی جمع کر رکھی تھی، ایک میں نے اپنی بیٹی کی شادی کرنا تھی اور دوسرا اپنا مکان پکا کرنا تھا۔‘
فون پر بات کرتے ہوئے زبیدہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگیں اور کہنے لگیں۔’اب وہ سارے پیسے ایجنٹوں نے لے لیے ہیں اور اب مزید مانگ رہے ہیں۔ اب ہمارے پاس تو  بیچنے کو بھی کچھ نہیں بچا۔‘
منگل کو ڈَنکی کے ذریعے بیرون ملک جاتے ہوئے تین نوجوانوں کی ویڈیو سامنے آئی جنہیں زنجیروں میں باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ 
زبیدہ بی بی اِن ہی میں سے ایک نوجوان کی والدہ ہیں۔ یہ کہانی ہے لاہور کے سرحدی گاؤں بھسین کی جہاں سے گذشتہ ماہ ایک ہی وقت میں آٹھ نوجوان ڈنکی لگا کر یورپ جانے کے لیے روانہ ہوئے۔ 
ان میں سے تین نوجوان کسی جرائم پیشہ گروہ کے ہاتھ لگ گئے اور اب اُن کی ویڈیوز بنا کر اُن کے گھر والوں کی بھیجی جا رہی ہیں۔
بھسین گاؤں کے رہائشی محمد حنیف بتاتے ہیں کہ ’اِسی گاؤں کا ایک نوجوان عامر 10 سال قبل ڈنکی لگا کر ترکی گیا تھا، اور اب اس کی واپسی ہوئی ہے۔‘
’اس نے بظاہر گاؤں کے لوگوں کو یہ دکھایا کہ اب اُس کے پاس بہت پیسہ ہے۔ اس نے نیا مکان بنا لیا اور شادی بھی کر لی۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران اس کے سوشل میڈیا پر اس کی ویڈیوز علاقے میں بہت مقبول ہو رہی تھیں۔‘
محمد حنیف کہتے ہیں کہ ’عامر جب واپس آئے تو قریباً ہر نوجوان ہی اُن سے متاثر نظر آیا، اور اُن کی گاڑی میں گھوم پھر بھی رہے تھے۔ گاؤں والوں کو نہیں پتا تھا کہ آگے کیا ہوگا۔‘
اس کہانی میں ٹوئسٹ اس وقت آیا جب محمد حنیف کے مطابق ’7 جون اُن کے گاؤں کے آٹھ نوجوان اچانک غائب ہو گئے۔‘
’ہمارا چھوٹا سا گاؤں ہے اور بارڈر سے صرف ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ شام تک جب لڑکے نہیں ملے تو لوگ پریشان ہو گئے کیونکہ اُن کے فون بھی بند تھے۔‘
محمد حنیف نے مزید بتایا کہ ’اگلے روز لڑکوں نے خود ہی گھر والوں سے رابطہ کیا اور بتایا کہ ہم سب کراچی میں ہیں اور انہوں ںے اپنی ویڈیوز بھیج کر پیسوں کا مطالبہ کیا کہ ہم یورپ جا رہے ہیں۔‘
’اس کے بعد گاؤں والوں نے اُنہیں بہت سمجھایا کہ واپس آجاؤ، لیکن والدین کو مجبور کیا گیا اور پھر جس کے پاس جو تھا انہیں دے دیا گیا۔‘
ان آٹھ نوجوانوں میں دو کزن دلشاد اور اسامہ بھی ہیں۔ دلشاد کی والدہ زبیدہ بی بی نے بتایا کہ ’ہمیں جب فون پر اس نے بتایا کہ وہ کراچی میں ہے تو میرے تو پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔‘
’میں نے دلشاد کو بہت منع کیا لیکن اُس نے بہت زد کی۔ اس کو پتا تھا بہن کی شادی کے لیے جمع کیے گئے پیسے گھر میں پڑے ہیں۔ کہہ رہا تھا جاتے ہی واپس بھیج دوں گا، اور اب زنجیروں میں جکڑا دیکھ کر مجھے غش پڑ رہے ہیں۔‘
یہ نوجوان کراچی کیسے پہنچے؟ اِن آٹھ نوجوانوں نے کراچی میں چند روز گزارے اور اپنی ویڈیوز ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا پر بھی جاری کیں۔ 
جب انہوں ںے گھر والوں کے ذریعے پیسوں کا بندوبست کروا لیا تو پھر اس کے بعد ان لڑکوں کے رابطے بھی منقطع ہو گئے۔ 
محمد حنیف بتاتے ہیں کہ ’کراچی میں ہی پتا چلا کہ ان سب کو عامر نے قائل کیا ہے لیکن وہ خود غائب تھا۔ اُس کے گھر سے معلوم کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ تو واپس چلا گیا ہے، تو اس طرح ساری کڑیاں مل گئیں۔‘
’اصل میں یہ سارا منصوبہ اُسی کا تھا۔ پاکستان ایران بارڈر سے جن تین نوجوانوں کی ویڈیوز آئی ہیں، اغوا کار اب اُن سے چھ چھ ہزار ڈالر مانگ رہے ہیں، اور اتنی رقم تو یہاں کسی کے پاس بھی نہیں ہے۔‘
ڈَنکی لگا کر جانے والے ان نوجوانوں کے اہلِ خانہ نے اس واقعے پر ایف آئی اے کو درخواست دی ہے جس پر عامر کے خلاف انسانی سمگلنگ کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ 
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ’عامر کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، انٹرپول کو بھی متحرک کیا گیا ہے، اور ہر پہلو سے اس کیس کی تفتیش کی جا رہی ہے۔
باقی پانچ نوجوان اغوا کاروں کے چُنگل میں تو نہیں ہیں، تاہم محمد حنیف کے مطابق ’ان کا گھر والوں سے رابطہ ہوا ہے اور وہ واپس آنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔ اب وہ کیسے آئیں گے یہ پتا نہیں ہے، لیکن عامر کہاں ہیں اس بات کا بھی کسی کو کچھ علم نہیں۔‘

شیئر: