پاکستان کی سعودی عرب پر حوثیوں کے میزائل حملے کی شدید مذمت
منگل 14 جولائی 2026 10:32
عثمان جدون نے یمن کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کیا (فوٹو: ایکس)
پاکستان نے یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب پر کیے گئے بیلسٹک میزائل حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور ساتھ ہی مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں مذاکرات اور خطے میں تناؤ کم کرنے پر زور دیا ہے۔
منگل کو اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے یمن کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔‘
مزید پڑھیں
خیال رہے کہ سعودی عرب نے کہا ہے کہ ’اس نے پیر کو ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے حملے کو ناکام بنایا ہے۔ جنوبی علاقے کی طرف داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کو روک دیا۔‘ ایس پی اے کے مطابق عرب اتحاد کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بیان میں کہا ’سعودی فضائی دفاعی نظام نے جنوبی علاقے کی جانب داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کے خطرے سے نمٹا ہے۔‘
اس سے قبل یمن کی مسلح افواج نے کہا تھا کہ ’اس نے پیر کو صنعا ایئرپورٹ کے رن وے کو نشانہ بنایا تاکہ ایک ایرانی طیارے کو لینڈنگ سے روکا جا سکے۔‘
سعودی حکام کے مطابق ’مملکت کے جنوبی علاقے کی جانب داغے گئے میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا۔‘
پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’ہم برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور اس کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔‘
پاکستان اور سعودی عرب نے گزشتہ سال ستمبر میں دوطرفہ دفاعی تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک ملک پر مسلح حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، اور دونوں نے باہمی سلامتی کے شعبے میں تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔
عثمان جدون نے یمن کی خودمختاری، آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’یمن میں دیرپا امن صرف اقوام متحدہ کی سہولت کاری میں یمنی قیادت میں ہونے والے امن عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔‘ ان کے بقول ’مزید کشیدگی جنگ سے متاثرہ ملک میں پہلے سے موجود انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دے گی، جہاں برسوں سے جاری تنازع، بے گھر ہونے اور معاشی مشکلات نے عوام کو شدید متاثر کیا ہے۔‘
پاکستانی سفارت کار نے حوثیوں کی جانب سے اقوام متحدہ کے اہلکاروں، امدادی کارکنوں اور سفارتی عملے کی مسلسل من مانی حراست کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی عمارتوں اور اثاثوں پر قبضے کی بھی مذمت کی اور ان تمام افراد کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔
عثمان جدون نے مزید کہا کہ ’پاکستان خطے میں مذاکرات، سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی کے فروغ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ ہم تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ رابطوں کے ذرائع کھلے رکھیں، ایسے اقدامات سے گریز کریں جو کشیدگی میں اضافہ کریں، اور اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق تنازعات کا پرامن حل تلاش کریں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان خطے میں امن، استحکام اور باہمی افہام و تفہیم کے فروغ کے لیے کی جانے والی تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔‘
