کراچی میں ڈکیتی کے دوران قتل کیے جانے والے ڈاکٹر آکاش کون تھے؟
کراچی میں ڈکیتی کے دوران قتل کیے جانے والے ڈاکٹر آکاش کون تھے؟
منگل 14 جولائی 2026 12:35
زین علی -اردو نیوز، کراچی
کراچی میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر قتل کیے جانے والے نوجوان ڈاکٹر آکاش کی آخری رسومات آج کراچی کے گارڈن شمشان گھاٹ میں ادا کی گئی ہیں۔
28 سالہ ڈاکٹر آکاش گزشتہ کچھ عرصے سے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جناح ہسپتال) کراچی میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔
ان کے قریبی ساتھیوں کے مطابق وہ نہایت خوش اخلاق، محنتی اور اپنے پیشے سے گہری وابستگی رکھنے والے ڈاکٹر تھے۔ ان کی موت نے ان کے ساتھی ڈاکٹروں کو بھی صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔
کراچی ضلع جنوبی پولیس کے ایس مہزور علی کے مطابق واقعہ کراچی کے علاقے کلفٹن میں پیش آیا، جہاں مسلح ملزمان نے مبینہ طور پر ڈاکٹر آکاش اور ان کے اہل خانہ کو لوٹنے کی کوشش کی اور مزاحمت پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں ڈاکٹر آکاش شدید زخمی ہوئے۔ انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔
کراچی شہر میں اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر کراچی میں بڑھتے ہوئے سٹریٹ کرائمز اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ سے متعلق سوالات اٹھا دیئے ہیں۔
ڈاکٹر آکاش کون تھے؟
ڈاکٹر آکاش کا آبائی علاقہ جھنڈکو ہے جو صوبہ سندھ کے علاقے رانی پور سے کچھ فاصلے پر ہے۔ جھنڈکو علاقے کی بڑی تعداد روہڑی میں بھی رہائش پذیر ہے.
ڈاکٹر آکاش سندھ کے ایک معروف کاروباری خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد شری چند مل نے اردو نیوز کو بتایا کہ ڈاکٹر آکاش ان کے خاندان کے نہایت ذمہ دار فرد تھے اور میڈیکل کے شعبے میں اپنا مستقبل بنانے کے لیے کوششیں کر رہے تھے۔ وہ سرجن بننا چاہتے تھے. وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے ابتدائی مرحلے میں تھے۔ ان کی اچانک موت سے خاندان ایک ایسے فرد سے محروم ہو گیا جس سے مستقبل کے حوالے سے کئی امیدیں وابستہ تھیں۔
ڈاکٹر آکاش کی ہلاکت کے بعد ان کے اہل خانہ، دوستوں، ڈاکٹروں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے کلفٹن کے علاقے تین تلوار پر احتجاج کیا۔
مظاہرین نے ڈاکٹر آکاش کی میت سڑک پر رکھ کر احتجاج ریکارڈ کرایا اور مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جائے اور شہر میں بڑھتی ہوئی ڈکیتیوں اور سٹریٹ کرائمز کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ احتجاج کے دوران علاقے میں ٹریفک کی روانی بھی متاثر رہی.
احتجاج میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ کراچی میں شہری مسلسل عدم تحفظ کا شکار ہیں اور روزانہ پیش آنے والے سٹریٹ کرائمز کے واقعات نے لوگوں کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ملوث ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
کراچی میں گذشتہ کئی برسوں سے جرائم کے بڑھتے واقعات پر شہری متعدد بار احتجاج کر چکے ہیں: فائل فوٹو اے ایف پی
بعد ازاں کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب اور دیگر انتظامی حکام نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کی۔ حکام کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جائیں گی، ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ انتظامیہ کی اس یقین دہانی کے بعد اہل خانہ نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا اور میت کو آخری رسومات کی تیاری کے لیے منتقل کر دیا گیا۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھی ڈاکٹر آکاش کی تصاویر اور یادیں شیئر کی جا رہی ہیں۔
مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے ان کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے مؤثر اور دیرپا اقدامات کیے جائیں۔
جامعہ کراچی شعبہ جرمیات کی سربراہ ڈاکٹر نائمہ سعید نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کراچی شہر میں جرائم کی شرح میں روز بہ روز اضافہ دیکھا جا رہا ہے، سٹریٹ کرائم انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنچ بن چکا ہے. جرائم پیشہ افراد بغیر کسی خوف شہر کے کسی بھی علاقے میں بآسانی کارروائی کرکے فرار ہو جاتے ہیں.
انہوں نے مزید کہا کہ عوام کے جان و مال کی حفاظت انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے، شہر مین قیام امن کے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہونگے.