عمان کے قریب حملے کا نشانہ بننے والے جہاز کے لاپتہ انڈین میرین انجینیئر کی لاش برآمد
عمان کے قریب حملے کا نشانہ بننے والے جہاز کے لاپتہ انڈین میرین انجینیئر کی لاش برآمد
بدھ 15 جولائی 2026 13:51
انڈین بحری کارکنوں کی یونین کے ایک عہدیدار نے لاش ملنے کی تصدیق کی ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)
عمان کے ساحل کے قریب حملے کا نشانہ بننے والے ایک کارگو بحری جہاز سے لاپتا ہونے والے انڈین میرین انجینیئر کی لاش مل گئی ہے۔
خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق انڈین بحری کارکنوں کی یونین کے ایک عہدیدار نے بدھ کو لاش ملنے کی تصدیق کی ہے۔
انڈیا کے مغربی شہر پونے سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ ہیرمب کرمارکر ایک میرین انجینیئر تھے اور وہ اتوار کو سائپرس کے جھنڈے والے بحری جہاز ’جی ایف ایس گلیکسی‘ پر حملے کے بعد لاپتہ ہو گئے تھے۔
فارورڈ سی مینز یونین آف انڈیا کے عہدیدار منوج یادو نے بتایا کہ ’مجھے منگل کی شام جہاز کی کمپنی کے مالک کی جانب سے اطلاع دی گئی کہ عمان کے کوسٹ گارڈ نے ہیرمب کرمارکر کی لاش مل گئی ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’لاش اس اطلاع کے تقریباً 60 گھنٹے بعد ملی، جب پہلی مرتبہ ان کے لاپتہ ہونے کی خبر موصول ہوئی تھی۔‘
حملے کے بعد جہاز پر موجود دیگر 23 افراد کو اتوار ہی کے روز بچا لیا گیا تھا جن میں 10 انڈین شہری بھی شامل تھے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ’حملے کے نتیجے میں جہاز میں آگ لگ گئی اور اس کے انجن روم کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ امریکہ نے اس حملے کا الزام ایران پر عائد کیا۔‘
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق انڈیا دنیا بھر میں مرچنٹ شپنگ کے لیے عملہ فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے، جہاں 2025 کے دوران تین لاکھ 20 ہزار سے زائد فعال میرین ورکرز خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
حملے کے بعد جہاز پر موجود دیگر 23 افراد کو اتوار ہی کے روز بحفاظت بچا لیا گیا تھا (فائل فوٹو: روئٹرز)
منگل کو انڈین وزارت خارجہ نے خطے میں کارگو جہازوں پر حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’تجارتی جہازوں اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔‘
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا تھا جب ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کیا اور اپنے پڑوسی خلیجی ممالک کی جانب میزائل اور ڈرون حملے کیے۔‘
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے 28 فروری کو جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی ترسیل ہوتی تھی اور یہ گزرگاہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا ایک اہم مرکز سمجھی جاتی ہے۔