گذشتہ رات ورلڈ کپ فٹ بال کا پہلا سیمی فائنل ہوا۔ نتیجہ یوں نکلا، سپین دو، فرانس صفر۔ یعنی سپین دو گولوں کی سبقت سے جیت گیا، مگر بعض اوقات صرف سکور بورڈ میچ کی درست حقیقت نہیں بیان کر پاتا۔
میرا یہ تفصیلی کالم پہلے سیمی فائنل کی اسی حقیقی صورت اور روح کو دکھانے کی ایک طالب العِلمانہ کوشش ہے۔
فرانس کا کھیل مجھے اس ورلڈ کپ میں پسند رہا، کلیان امباپے، اولیسے اور عثمان ڈیمبیلے کی وجہ سے میری سپورٹ ان کے ساتھ تھی۔ رات مگر فرانسیسی ٹیم کی بے بسی دیکھ کر افسوس ہو رہا تھا۔
سپین نے فرانس کو صرف دو گول سے نہیں ہرایا، اس نے اسے اپنی مرضی کا کھیل کھیلنے ہی نہیں دیا۔ اب آتے ہیں ان آٹھ فیکٹرز، پوائنٹ یا سیکرٹس کی طرف جن کی وجہ سے سپین فاتح ہو کر فائنل میں پہنچا۔
پہلا راز: مڈفیلڈ پر قبضہ
فٹ بال کے عام ناظرین کی نظر گول کرنے والوں پر جاتی ہے، مگر کوچز جانتے ہیں کہ بڑے میچ اکثر مڈفیلڈ میں جیتے جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں
سپین کے مڈ فیلڈرز روڈری، فابیان روئز اور ان کے ساتھیوں نے فرانسیسی مڈفیلڈ کو مسلسل دباؤ میں رکھا۔ گیند وصول کرنے والے کھلاڑی کو وقت کم ملا، جگہ کم ملی اور سوچنے کا موقع بھی کم ملا۔فرانس کے کئی حملے شروع ہونے سے پہلے ہی دم توڑ گئے۔ یہ وہ مرحلہ تھا جہاں سیمی فائنل کا رخ متعین ہوا۔
فرانس آگے بڑھنے کے راستے کیوں نہ بنا سکا، اس کا جواب خود امباپے نے دنے دے دیا۔ میچ کے بعد اس نے کہا کہ مڈفیلڈ میں وہ تین کے مقابلے میں دو تھے، اور سپین کے سامنے یہ بہت مشکل کام ہے۔
فابیان رویز اور روڈری کو کھیلنے کے لیے کھلا وقت ملتا رہا، پریسنگ میں فرنچ کھلاڑیوں کے باہمی رابطے کی کمی تھی۔
امباپے خیال میں فرانس کو ایک کے مقابلے ایک والا پریس کرنا چاہیے تھا تاکہ سپین کو دوڑنے پر مجبور کیا جاتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تجزیہ کسی کمنٹیٹر یا سپورٹس کالم نگار کا نہیں بلکہ خود فرانسیسی کپتان اپنے کوچ کی حکمت عملی پر انگلی رکھ رہا ہے، وہ بھی شکست کے فوراً بعد کیمروں کے سامنے۔

بات دراصل یہ تھی کہ فرانسیسی کوچ دیشیمپ نے سپین کے سامنےمیدان کے وسط میں یعنی مڈ فیلڈ میں صرف دو کھلاڑی چوامینی اور رابیو، اتارے، جبکہ سپین مڈ فیلڈ کو کھلاڑیوں سے بھر دیتا ہے۔ روڈری، جو پچھلے سال کا بیلن ڈی اور جیت چکا ہے، فابیان رویز اور دانی اولمو نے یہ جنگ اس طرح جیتی کہ فرانس کو سنبھلنے کا موقعہ ہی نہ ملا۔
دوسرا راز: امباپے کو تنہا کر دینا
میچ کے بعد کپتان کلیان امباپے پر تنقید ہورہی ہے۔ بہت سوں نے اس کا موازنہ ناروے کے ایرلنگ ہالاند کے ساتھ کیا جو انگلینڈ کے ساتھ کوارٹر فائنل میں مکمل فیل ہوگیا یہ فٹ بال کی روایت ہے۔ جب بڑا کھلاڑی جادو نہ دکھا سکے تو تمام تیر اسی کی طرف چلتے ہیں۔
اصل سوال مگر یہ ہے کہ امباپے کو اپنا جادو دکھانے کا موقع کتنا ملا؟
سپین نے فرانسیسی مڈفیلڈ اور حملہ آور لائن کے درمیان وہ راستے بند کر دیے جن سے گیند امباپے تک پہنچتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا کے خطرناک ترین فارورڈز میں سے ایک کھلاڑی بھی عام سا نظر آنے لگا۔ یہ امباپے کی ناکامی کم اور سپین کی کامیابی زیادہ تھی۔
یہ البتہ ماننا پڑےگا کہ سیمی فائنل امباپے کا لکی دن نہیں تھا، اس نے دو تین بار کوشش کی مگر گیند گول پوسٹ سے اوپر چلی گئی، عام طور پر ایسا نہیں ہوتا، مگر اس میچ میں ہوا۔ میچ کے اٹھاسی ویں منٹ میں فرانس کو فری کک ملی، ڈی کے تھوڑا باہر۔
کمنیٹیٹر کہہ رہے تھے کہ یہ آخری چانس ہے۔ اگر تب گول ہوجاتا تو انجری ٹائم کے سات آٹھ منٹ میں فرانس برابر کر سکتا تھا ۔ امباپے کو بھی پتہ تھا کہ یہ کتنا اہم موقعہ ہے۔ اس نےایک زوردار کک لگائی مگروہ گول پوسٹ سے دو تین میٹر اوپر سے نکل گئی، گول کیپر کو روکنے کی زحمت ہی نہیں کرنا پڑی۔
تیسرا راز: یامال صرف فارورڈ نہیں تھا

دنیا سپین کے نوجوان فارورڈ /رائیٹ ونگر لامین یامال کے ڈرِبلز، رفتار اور مہارت کی بات کرتی ہے۔ سیمی فائنل میں ہم سب نے اس کا ایک اور روپ دیکھا۔ یامال نے اس میچ میں جان لڑا دی تھی۔ 19 سالہ یامال ایک لمحے میں فرانس کی ڈی پر حملہ آور ہوتا، اپنی ڈربلنگ سے گیند بھگا کر رائیٹ کارنر میں لے جاتا یا پھر اندر کٹ کر کے خطرہ بن جاتا اور پھر گیند چھن جانے کے چند ہی لمحوں بعد یہ اپنی ڈی میں واپس پہنچ جاتا۔
کئی مواقع پر وہ فرانسیسی حملہ آوروں کو روکنے میں بھی شریک تھا۔ دو بار تو اس نے دیوانہ وار امباپے کے ساتھ دوڑتے ہوئے اسے ٹیکل کیا اور پھر گرا دیا۔
بعض فارورڈ کھلاڑی پیچھے آ کر مدد کرتے ہیں مگر یامال غیر معمولی لگا۔ اس کی انرجی حیران کن تھی، فائٹنگ سپرٹ نہایت متاثرکن۔ وہ رسمی طور پر پیچھے آ کر دفاع کی مدد نہیں کر رہا تھا، بلکہ جان لڑا رہا تھا۔ یہ سپین کے لئے ایکس فیکٹر ثابت ہوا۔ دراصل یہی جدید فٹ بال ہے۔آج کا بڑا کھلاڑی صرف حملہ آور نہیں، پورے نظام کا حصہ ہوتا ہے۔
خود سپینی کےتجربہ کار کھلاڑی روڈری نے میچ سے پہلے یہی کہا تھا کہ یامال گیند کے ساتھ اور گیند کے بغیر، دونوں طرح اہم ہے اور بہت ذہین لڑکا ہے۔ اکسٹھویں منٹ میں تو یامال نے کوبارسی کا خوبصورت پاس لے کر ڈین کو چکما دیا اور گیند گول میں ڈال کر جشن بھی شروع کر دیا، مگر وہ نہایت معمولی فرق سے آف سائیڈ نکلا۔ ورنہ سکور تین صفر ہوتا۔
چوتھا راز: ڈیفنڈرز کوکوریلا اور پورو

اگر صرف سرخیوں پر نظر ڈالی جائے تو شاید فارورڈ یامال اور پنالٹی کک پر گول کرنے والا سٹرائیکر اویارزابال سب سے نمایاں دکھائی دیں۔ خاکسار کے نزدیک سیمی فائنل کے خاموش ہیروز دو سپینی فل بیکس تھے۔
گھنگھریالے بالوں والے مارک کوکوریلا کا دفاع فرانسیسی حملوں کی راہ میں دیوار بن گیا۔ اس کے بروقت ٹیکل اور درست پوزیشننگ نے مخالف ونگرز کی زندگی آسان نہیں رہنے دی۔
آخری منٹوں میں جب فرانس نے بہت دباو ڈالا، تب کوکوریلا نے دو بار امباپے کو نہایت عمدگی اور درستگی سے ٹیکل کیا اور گیند کلیئر کر دی۔
دوسری جانب پیڈرو پورو کی کہانی خود ایک الگ کالم مانگتی ہے۔ اس نے انگلش کلب ٹوٹنہم کے ساتھ ایسا سیزن گزارا تھا جسے بھلا دینا ہی بہتر ہے، اس ورلڈ کپ کا آغاز بھی اس نے بینچ پر بیٹھ کر کیا۔ کوبے وردے کے خلاف بے جان کارکردگی کے بعد کوچ ڈی لا فیونتے نے سوچا کہ دائیں طرف کچھ مہم جوئی والا بندہ چاہیے اور پورو کو اتار دیا۔
کل رات اس نے نے جدید فل بیک کی مکمل تصویر پیش کی۔ دفاع بھی، حملہ بھی اور گول بھی۔ پیڈرو فل بیک ہے، ڈیفنڈر اوپر آ کر اٹیک کی مدد کرتے ہیں، مگر رات اس نےکمال ہی کر دیا۔ صرف دفاع نہیں کیا۔ اس نے گول بھی کیا، حملے میں مسلسل شریک رہا، اور دفاعی ذمہ داری بھی نبھائی۔
توقع یہ تھی کہ فرانسیسی حملہ آوروں کے ڈر سے وہ اپنے آدھے میدان میں دبکا رہے گا، مگر ہوا یہ کہ فرانس کے ونگرز اس کے پیچھے دوڑتے دوڑتے ہانپ گئے۔ دوسرا گول یوں ہوا کہ پیڈرو پورو گیند لےکر آگےبڑھا۔گیند بھگائی، مخالف دفاع سمجھ رہا تھا کہ یہ پاس دے گا۔ وہ خود گیند لے کر آگے بڑھا، ڈی کے قریب پہنچ کر پاس دیا، پھر رکنےکے بجائے آگے بڑھتا گیا، اسے ریٹرن پاس ملا تو پیڈرو نے کمال مہارت کے ساتھ گیند کو بڑھایا اور بہت خوبصورت فیلڈ گول کر دیا۔ یہ گول امباپے اور میسی کی سطح کا تھا۔ اس نے بہت فرق ڈالا اور فرانس کے حوصلے کو ایک لحاظ سے توڑ ڈالا۔

ایک فل بیک کا ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں گول کرنا اور ساتھ ساتھ دفاعی نظم بھی برقرار رکھنا معمولی بات نہیں۔ پورو اب فرنینڈو ہیئرو کے بعد وہ دوسرا سپینی ڈیفنڈر ہے جس نے ایک ہی ورلڈ کپ میں ایک سے زیادہ گول کیے۔
آئرش ٹائمز نے لکھا کہ کوکوریلا اور پورو دونوں دنیا کے بہترین ونگرز کے سامنے شاندار رہے۔ کوکوریلا نے فرانس کے حملے اپنی طرف بند رکھے، ایک بار امباپے کا خطرناک شاٹ آخری لمحے پائوں سے روک کر کارنر کے لیے موڑا اور پھر نوے ویں منٹ میں جب امباپے سپینی باکس میں گھسا تو ٹانگ پھنسا کر گیند چھین لی۔ اس ٹیکل پر اس نے یوں جشن منایا جیسے خود گول کر دیا ہو۔ کسی نے ٹھیک لکھا کہ یہ ایک منظر پورے میچ کی کہانی ہے۔
پانچواں راز: گول کیپر اونائی سیمون کی آہنی دیوار

فٹ بال میں بعض اوقات گول کیپر اس وقت یاد آتا ہے جب وہ غلطی کر بیٹھے۔ سپین کے گول کیپر اونائی سیمون خوش قسمتی سے اس قسم کے گول کیپر نہیں۔اس ورلڈ کپ میں اس نے پہلے ہی ایک ریکارڈ بنایا جب مسلسل پانچ میچوں میں کلین شیٹ حاصل کی یعنی اس کے خلاف گول ہی نہیں ہوا۔ سیمی فائنل میں بھی اس کی کارکردگی بہت اچھی رہی۔
آخری 15 منٹ میں فرانس نے واپسی کی کوشش کی۔ امباپے نے بھی کوشش کی، ڈیمبیلے نے بھی مگر سپین کے گول کے سامنے ایک پراعتماد اور مستحکم محافظ کھڑا تھا۔ اس نے ڈیمبیلے کی ایک پاور فل کک روکی۔
اس نے 41ویں منٹ میں اپنا گول چھوڑ کر باہر نکل کر امباپے سے گیند چھینی، جیسے کوئی 11ویں ڈیفنڈر ہو۔ گیند دوئے کے پاس گئی، اس نے باکس کے باہر سے شاٹ مارا، مگر سائمن واپس پہنچ کر اسے بھی روک چکا تھا۔ یہی جدید گول کیپنگ ہے، اور اسی لیے سپین اتنی اونچی دفاعی لائن رکھ سکتا ہے۔ اس ورلڈ کپ میں سپین کے خلاف سب سے کم گول ہوئے۔ گولڈن گلووز کا یہ بہت مضبوط امیدوار بن چکا ہے۔
چھٹا راز: بینچ کی طاقت
جدید فٹ بال صرف ابتدائی گیارہ کھلاڑیوں کا کھیل نہیں رہا۔ اس قدر تیز ، جارحانہ کھیل ہوتا ہے کہ آخری پندرہ بیس منٹ میں تازہ دم جنگجو اتارنے پڑتے ہیں۔ سوال مگر یہ ہے کہ کیا باہر بیٹھے بنچ پر اتنے عمدہ کھلاڑی موجود ہیں؟ سپین کا بنچ تگڑا اور مضبوط ہے۔ سپینی کوچ نے بلکہ ایک دو کھلاڑیوں جیسے مورینو کو رکھا ہی آخری پندرہ بیس منٹ کے لیے تھا۔ پرتگال کے خلاف ناک آوٹ میچ میں مورینو نے بطور متبادل گراونڈ میں آ کر فیصلہ کن گول کر دیا۔
سیمی فائنل میں بھی سپینی ٹیم نے آخری مرحلے میں چار پانچ تبدیلیاں کیں۔ تازہ دم کھلاڑی میدان میں آئے اور ٹیم کی توانائی برقرار رہی۔ فرانس دباؤ بڑھا رہا تھا، مگر سپین کی دوڑ کم نہیں ہو رہی تھی۔ یہ وہ فرق ہے جو ناک آؤٹ میچوں میں فیصلہ کن ثابت ہوتا ہے۔
ساتواں راز: کوچنگ بورڈ پر فتح

سپینی کوچ لوئس ڈی لا فوئنٹے کو اس کامیابی کا پورا کریڈٹ ملنا چاہیے۔ یہ دراصل دو گیم تھیوریز کا مقابلہ تھا جو سپینی کوچ نے جیتا۔ سپین کا سٹائل اور ہے،فرانس کا اس سے مختلف۔
تجزیہ کار اور سابق فٹ بال لیجنڈ سپینی کوچ کی تخلیقی سٹریٹیجز کو سراہ رہے ہیں۔ اس میچ میں سپین نے خاص طور پر اپنی رائیٹ ونگ اور رائیٹ سائیڈ کو مؤثر انداز میں استعمال کیا۔ پورو، یامال اور مڈفیلڈرز نے مل کر فرانس کے بائیں حصے پر مسلسل دباؤ برقرار رکھا۔ آپ دیکھیں کہ دونوں گول رائٹ سائیڈ سےحملوں کے باعث ہوئے۔پہلے یامال کی وجہ سے پنالٹی ملی اور پھر پیڈرو کا فیلڈ گول۔ درحقیقت یہ محض حملے نہیں تھے۔ یہ منصوبہ بندی تھی ،یہ تیاری تھی ،یہ کوچنگ تھی۔یہی چیز بڑے مقابلوں میں فرق پیدا کرتی ہے۔
ای ایس پی این کے سینیئر تجزیہ کار گیبریلے مارکوٹی نے اس شکست کی سب سے گہری وضاحت کی۔ اس کے مطابق دیشیمپ کا طریقہ کار یہ رہا ہے کہ ٹیم کو ذہنی طور پر تیار کرو، حکمت عملی سادہ رکھو، اور اپنے حملہ آوروں کے انتظار میں رہو کہ وہ کوئی کمال کر دیں۔ جب آپ کے پاس دنیا کے بہترین حملہ آور ہوں تو یہ سوچ بری بھی نہیں۔ مگر مارکوٹی کہتا ہے کہ یہ نسخہ اسی وقت تک چلتا ہے جب تک آپ کا سامنا ایسے حریف سے نہ ہو جو آپ سے گیند بھی چھین لے، جگہ بھی چھین لے اور ہر موڑ پر آپ سے زیادہ محنت کرے۔
ویسے فرنچ کوچ دیشمب ایک بڑے کوچ ہیں مگر ان کا عہد بھی اب تمام ہونے کو ہے۔ ورلڈ کپ کے بعد دیشیمپ فرانس کے کوچ کا عہدہ چھوڑ رہا ہے۔ چودہ سال اس نے یہ ٹیم چلائی، دو ہزار اٹھارہ میں ورلڈ چیمپین بنایا اور دو ہزار بائیس میں فائنل تک لے گیا۔ اب اس کا آخری میچ ہفتے کو میامی گارڈنز میں تیسری پوزیشن کا وہ مقابلہ ہو گا جسے دیکھنا کوئی پسند نہیں کرتا۔ ایسے کوچ کا سفر اس طرح تمام ہو تو دل تھوڑا اداس ضرور ہوتا ہے۔
آٹھواں راز: فرانس کے پاس بی پلان نہیں تھا
فٹ بال میں بعض اوقات مخالف ٹیم آپ کا پہلا منصوبہ ناکام بنا دیتی ہے۔ تب سوال پیدا ہوتا ہے کہ پلان بی کیا ہے؟فرانس کے پاس اس سوال کا تسلی بخش جواب نظر نہیں آیا۔ پچھلے بعض میچز میں فرانسیسی کھلاڑی اپنے مخصوص فینسی انداز میں پاسنگ سے آگےبڑھ جاتے تھے۔ اس میچ میں بھی کھلاڑی کئی مرتبہ اندازے سے پاس کھیلتے رہے۔ بعض پاس وہاں گئے جہاں کوئی ساتھی موجود ہی نہیں تھا۔ بہت بار سپینی کھلاڑی پہلے ہی خلا ختم کر چکے تھے وہ پاس خود ہتھیا لیتے۔
امباپے، ڈیمبیلے اور اولیسے جیسے کھلاڑیوں کی اصل طاقت اوپن سپیس میں میں کھیلنا ہے، مگر سپین نے انہیں ایسی جگہیں فراہم ہی نہیں کیں۔ یوں فرانس کی سب سے بڑی طاقتیں پورے میچ میں پوری طرح استعمال نہ ہو سکیں۔ فرنچ کوچ کے پاس اگر کوئی پلان بی ہوتا تو وہ پہلے ہاف کے بعد اسےاستعمال کرتا یا دو ہائیڈریشن بریک سےفائدہ اٹھاتا یا پھر متبادل کھلاڑی اتار کر کچھ نیا، تخلیقی،منفرد کرتا۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ نتیجہ پھر متوقع تھا۔ شکست ، بری شکست۔
اصل سبق












