پاکستان کی وفاقی حکومت نے عالمی سٹریمنگ کمپنی نیٹ فلکس سمیت دیگر بڑے او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر پاکستانی ڈراموں اور فلموں کی باقاعدہ نمائش کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کے ایک حالیہ بیان کو پاکستان کی شوبز اور ڈیجیٹل صنعت میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنی ایک تفصیلی پوسٹ میں لکھا کہ ’حکومتِ پاکستان اس وقت نیٹ فلکس اور ایمازون پرائم جیسے عالمی سٹریمنگ جائنٹس کے ساتھ ان کے موجودہ ’ریجنل فریم ورک‘ (علاقائی ڈھانچے) کو تبدیل کرنے یا اس میں ترمیم کے لیے مذاکرات کر رہی ہے۔‘
مزید پڑھیں
-
کیا پاکستانی فلم ’میرا لیاری‘ انڈین ’دھورندر‘ کا جواب ہے؟Node ID: 903817
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’اس کوشش کا بنیادی مقصد پاکستانی تخلیق کاروں کے لیے پائیدار شراکت داری کے راستے کھولنا اور عالمی سطح پر پاکستانی مواد کے لیے منصفانہ اور مساوی حصہ حاصل کرنا ہے۔‘
احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ کوششیں حکومت کے قومی برآمد پروگرام ’اُڑان پاکستان‘ کا حصہ ہیں، جس کے تحت کلچرل اور کری ایٹیو انڈسٹری کو ملکی معیشت اور برآمدات کا ایک اہم ستون تسلیم کیا گیا ہے۔
انہوں نے اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حکومت ایک متوازی حکمتِ عملی کے تحت پاکستان کا اپنا خودمختار ڈیجیٹل پلیٹ فارم تیار کرنے پر بھی کام کر رہی ہے تاکہ ملکی کہانیوں کو دنیا بھر میں پیش کیا جا سکے۔
ماضی میں بھی ایسی کوششیں ہو چکیں
عالمی سٹریمنگ پلیٹ فارمز پر پاکستانی مواد کی باقاعدہ اور مستقل موجودگی کا خواب نیا نہیں ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے پاکستانی حکومت، وزارتِ اطلاعات اور وزارتِ آئی ٹی مسلسل اس کوشش میں مصروف رہی ہیں کہ کسی طرح ان عالمی کمپنیوں کو پاکستان میں براہِ راست سرمایہ کاری پر آمادہ کیا جائے۔

تاہم، ان کوششوں کی راہ میں اب تک کئی بڑی انتظامی، معاشی اور ریگولیٹری رکاوٹیں حائل رہی ہیں۔
بین الاقوامی ادائیگیوں کا مسئلہ
پاکستان میں پے پال جیسے عالمی ادائیگیوں کے نظام کی عدم موجودگی اور بین الاقوامی کریڈٹ کارڈز کے استعمال کی کم شرح کی وجہ سے نیٹ فلکس جیسی کمپنیوں کے لیے پاکستان میں سبسکرپشن ماڈل کو وسعت دینا ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔
ریگولیٹری اور سنسرشپ کے قوانین
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور پیمرا کے روایتی قوانین اور ڈیجیٹل سنسرشپ کی پالیسیوں کے باعث عالمی او ٹی ٹی پلیٹ فارمز ہمیشہ یہاں براہِ راست قدم رکھنے سے ہچکچاتے رہے ہیں، کیونکہ سٹریمنگ پلیٹ فارمز مواد کی تخلیقی آزادی پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے۔
ماضی میں بھی وفاقی وزرائے اطلاعات اور آئی ٹی نے نیٹ فلکس کی اعلیٰ انتظامیہ سے ورچوئل اور براہِ راست ملاقاتیں کیں، ان کو پاکستان میں اپنے دفاتر کھولنے کی دعوت دی اور ٹیکس مراعات کی پیشکش بھی کی لیکن کوئی مثبت پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
’مسئلہ صرف انڈین لابی کا نہیں، معیار کا بھی ہے‘
پاکستان کے معروف اداکار، آرٹسٹ اور سابق نگران وفاقی وزیر برائے ثقافت و قومی ورثہ جمال شاہ نے اس بارے میں ’اردو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے ایک اہم پہلو کی طرف اشارہ کیا۔
جمال شاہ کا کہنا تھا کہ ’اس وقت نیٹ فلکس پر’انڈین لابی‘ کا اثر و رسوخ موجود ہے اور مواد کی منظوری کے عمل میں بھی وہاں کے لوگوں کا کافی کردار ہے، اس لیے ہمیں ان تمام چیلنجز کو مدِ نظر رکھنا ہوگا۔‘
تاہم، انہوں نے بیرونی عوامل کے ساتھ ساتھ اندرونی خامیوں کی طرف بھی اشارہ کیا۔ ان کا ماننا ہے کہ ’پاکستان کو نیٹ فلکس کے مقرر کردہ عالمی معیار پر بھی نظر رکھنی ہوگی۔‘
’اس وقت پاکستان میں جو ڈرامے بن رہے ہیں، ان میں سے زیادہ تر نیٹ فلکس کے معیار کے نہیں ہیں۔ ہمارے ڈراموں کا شاید صرف پانچ فیصد مواد ہی ایسا ہے جو اس وقت نیٹ فلکس پر نمائش کے لیے پیش کیے جانے کے قابل ہے۔ ہمیں اگر اپنا مواد عالمی پلیٹ فارمز پر لانا ہے، تو پروڈکشن کی کوالٹی کو بھی اسی سطح پر لے جانا ہوگا۔‘

جمال شاہ کے مطابق، پاکستانی انڈسٹری کو سب سے پہلے اپنی ‘پروڈکشن ویلیو‘ پر کام کرنے کی ضرورت ہے، جس میں فوٹوگرافی، ساؤنڈ مکسنگ، سنیماٹوگرافی اور اداکاری کا معیار عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’نیٹ فلکس پر ہر قسم کا مواد بنتا ہے اور وہاں روایتی سنسرشپ نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ پاکستانی پروڈیوسرز کے لیے شاید اس کھلے ماحول سے مطابقت پیدا کرنا ایک بڑا چیلنج ہو۔‘
ان سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا نیٹ فلکس پر جانے والا پاکستانی مواد کسی دوسرے پلیٹ فارم پر چل سکے گا؟ تو سابق وزیرِ ثقافت کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ پاکستان اور نیٹ فلکس کے درمیان ہونے والے ’معاہدے کی شرائط‘ پر منحصر ہے، کیونکہ دنیا بھر میں ایسا مواد بھی موجود ہے جو نیٹ فلکس کے ساتھ ساتھ دیگر متوازی پلیٹ فارمز پر بھی بیک وقت نشر ہوتا ہے۔
’مسئلہ معیار کا نہیں، سیاست کا ہے‘
دوسری جانب، پاکستان کے معروف فلم اور ڈرامہ تجزیہ نگار ہارون شعیب نے حکومت کی ان کوششوں کو قابلِ تعریف قرار دیا ہے، تاہم ان کا ماننا ہے کہ ہمیں متبادل راستوں پر بھی غور کرنا ہوگا۔
ہارون شعیب نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ پاکستانی مواد میں معیار کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’پاکستانی ڈراموں کو دنیا بھر میں پہلے ہی لگ بھگ ایک ارب اردو بولنے والے لوگ دیکھتے ہیں، خواہ ان کا تعلق بنگلہ دیش اور انڈیا سے ہو یا وہ یورپ اور امریکہ میں مقیم اس خطے کے تارکینِ وطن ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی ڈرامہ پروڈکشنز عالمی سطح پر نیٹ فلکس جیسے پلیٹ فارمز پر نمائش کے لیے پیش کی جا سکتی ہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’نیٹ فلکس اور دیگر بڑے سٹریمنگ پلیٹ فارمز کے علاقائی دفاتر پڑوسی ملک میں قائم ہیں، جس کی وجہ سے پاکستانی مواد کو وہاں جگہ نہ ملنے کے پیچھے بڑی وجہ 'سیاسی' ہے نہ کہ پروڈکشن کوالٹی۔‘
تاہم، انہوں نے مقامی پروڈیوسرز کو مشورہ دیا کہ ’وہ اگر عالمی سطح پر جانا چاہتے ہیں، تو انہیں اپنے ڈراموں کی کہانیوں میں گہرائی لانا ہوگی اور تاریخی و ثقافتی موضوعات کو شامل کرنا ہوگا۔‘

’ہمارے ہاں نسل در نسل چلنے والی کہانیوں کی شدید کمی ہے، جس پر اب فوکس کرنا ہوگا۔ جنوبی کوریا اگر اپنی ثقافت پر مبنی مواد سے دنیا کو متاثر کر سکتا ہے، تو پاکستان بھی ایسا کر سکتا ہے۔‘
قومی او ٹی ٹی پلیٹ فارم اور ’تسلسل‘ کا چیلنج
ہارون شعیب کا حکومت کی جانب سے پاکستان کا اپنا قومی او ٹی ٹی پلیٹ فارم بنانے کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ماضی قریب میں بھی ’اردو فلکس‘ جیسے تجربات کیے گئے، لیکن وہ زیادہ مقبول نہیں ہو سکے۔
ان کے مطابق، ایسے منصوبوں کی ناکامی کی بڑی وجہ تسلسل کا نہ ہونا ہے۔ حکومت یا نجی سطح پر اگر کوئی اپنا خودمختار پلیٹ فارم لایا جاتا ہے، تو اس کے لیے مستقل مزاجی اور طویل مدتی پلاننگ کی ضرورت ہوگی۔
انہوں نے معاشی نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’پاکستانی صارفین میں ’سبسکرپشن‘ (پیسے دے کر مواد دیکھنے) کی عادت نہیں ہے، اس لیے کسی بھی نئے پلیٹ فارم کو لانچ کرتے وقت صارفین کے اس رویے کو لازمی مدِ نظر رکھنا ہوگا۔‘












