پاکستان کے صوبہ پنجاب میں اب کوئی بھی نئی گاڑی رجسٹریشن سرٹفیکیٹ اور نمبر پلیٹ حاصل کیے بغیر شوروم سے باہر سڑک پر نہیں آ سکے گی۔
محکمۂ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب نے صوبے بھر میں گاڑیوں کی خرید و فروخت اور ان کے سرکاری ریکارڈ میں اندراج کے نظام کو شفاف، محفوظ اور مربوط بنانے کے لیے ایک بڑا اور سخت فیصلہ کیا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل ایکسائز عمر شیر چٹھہ نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اب نئی گاڑی کی خریداری کے وقت ہی اس کی رجسٹریشن کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے اور اس مقصد کے لیے تمام کارساز کمپنیوں اور مینوفیکچررز کو باقاعدہ مراسلے جاری کر دیے گئے ہیں۔‘
مزید پڑھیں
انہوں نے کہا کہ ’ان نئی ہدایات کے تحت پنجاب میں فروخت ہونے والی ہر نئی گاڑی کا اندراج اب شوروم کے اندر ہی یقینی بنایا جائے گا، جس کے بعد بغیر نمبر پلیٹ کے گاڑی سڑک پر لانے کا کلچر ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔‘
محکمۂ ایکسائز کی جانب سے مینوفیکچررز کو لکھے گئے خطوط میں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے تمام مجاز ڈیلرز اور ان کی موٹر برانچز کی مروجہ تفصیلات فوری طور پر محکمۂ ایکسائز کے ساتھ شیئر کریں۔ جیسے ہی کمپنیوں کی طرف سے ان ڈیلرز کی فہرستیں فراہم کی جائیں گی، محکمۂ ایکسائز ان تمام ڈیلرز کو ’ڈیلرز وہیکل رجسٹریشن‘ یعنی ڈی وی آر سسٹم کے تحت باقاعدہ لائسنس جاری کرے گا۔
اس نئے طریقۂ کار کے تحت کوئی شہری جب بھی پنجاب کے شناختی کارڈ پر نئی گاڑی خریدے گا، تو یہ شوروم مالک یا ڈیلر کی قانونی ذمہ داری ہوگی کہ وہ خریدار کو گاڑی کی چابی دینے سے قبل خود محکمۂ ایکسائز سے اس کی رجسٹریشن کا عمل مکمل کروائے اور نمبر پلیٹ لگا کر گاڑی مالک کے حوالے کرے۔
ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق، اس وقت پنجاب بھر میں 102 بڑے ڈیلرز کے پاس پہلے سے ہی یہ ڈی وی آر لائسنس موجود ہے، اور اب اس نیٹ ورک کو صوبے کے ہر چھوٹے بڑے شوروم تک پھیلایا جا رہا ہے۔

عمر شیر چٹھہ کہتے ہیں کہ ’دلچسپ بات یہ ہے کہ گاڑی کی خریداری کے وقت ہی اس کی رجسٹریشن کروانے کا یہ قانون کوئی نیا نہیں ہے، بلکہ یہ ضابطہ ایکسائز کے قوانین میں ایک طویل عرصے سے موجود ہے۔ تاہم، ماضی میں انتظامی کمزوریوں، ڈیلرز کی من مانیوں اور خریداروں کی سستی کی وجہ سے اس قانون پر کبھی اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد نہیں ہو سکا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’شورومز سے گاڑیاں بغیر کسی اندراج کے نکل جاتی تھیں اور لوگ مہینوں تک ’اپلائیڈ فار‘ کی تختی لگا کر سڑکوں پر گاڑیاں دوڑاتے رہتے تھے، جس سے نہ صرف حکومت کو ٹیکسوں کی مد میں کروڑوں روپے کا نقصان ہوتا تھا بلکہ سکیورٹی کے لیے بھی خطرات پیدا ہو جاتے تھے۔ محکمۂ ایکسائز نے اب پرانے قانون کی ان خامیوں کو دور کرتے ہوئے اس قانون پر سختی سے عملدرآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
اس نئی پالیسی کا ایک اور اہم پہلو پنجاب کی گاڑیوں کا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں رجسٹرڈ ہونے کا بڑھتا ہوا رجحان بھی ہے۔
گاڑیوں کے کاروبار سے وابستہ محمد سہیل بتاتے ہیں کہ ’گزشتہ کئی برسوں سے یہ رجحان عام ہے کہ پنجاب کے مختلف شہروں اور خاص طور پر لاہور، گوجرانوالہ، راولپنڈی اور فیصل آباد کے رہائشی گاڑیاں پنجاب سے خریدتے ہیں لیکن ان کی رجسٹریشن اسلام آباد سے کرواتے ہیں۔ اس رجحان کی وجہ سے اس وقت اسلام آباد کے ایکسائز ڈیٹا بیس میں گاڑیوں کی تعداد وہاں کی حقیقی مقامی آبادی اور سڑکوں پر موجود گاڑیوں کے تناسب سے کہیں زیادہ ریکارڈ ہو چکی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’لوگ گاڑی کی دوبارہ فروخت پر اچھی قیمت اور رجسٹریشن فیسوں کے فرق کی وجہ سے اسلام آباد کے نمبر کو ترجیح دیتے تھے جس کا براہِ راست نقصان پنجاب کو ہو رہا تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’حکومتِ پنجاب نے اس نقصان کو روکنے کے لیے پہلے ہی ایک پالیسی بنا رکھی ہے کہ پنجاب کی سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں پر پنجاب کا ہی نمبر لگا ہونا چاہیے، اور اب نئی گاڑیوں کو شوروم کے اندر ہی نمبر لگانے کی اس نئی شرط سے اسلام آباد سے گاڑیاں رجسٹر کروانے کا یہ رجحان خود بخود دم توڑ جائے گا۔‘

ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ اس پورے ڈیجیٹل اور انتظامی نیٹ ورک کے فعال ہونے سے عام خریداروں کو بھی بڑی سہولت ملے گی، کیونکہ اب انہیں گاڑی کی رجسٹریشن کے لیے ایکسائز کے دفاتر کے چکر کاٹنے یا ایجنٹوں کے ہاتھوں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں پڑے گی کیوں کہ گاڑی کی رقم میں ہی رجسٹریشن کی فیس شامل ہوگی اور ڈیلر تمام کاغذی کارروائی آن لائن پورٹل کے ذریعے خود پوری کرے گا۔
یوں اس اقدام سے جہاں پنجاب حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہوگا، وہاں سڑکوں پر چلنے والی ہر گاڑی کا ریکارڈ فوری طور پر نظام کا حصہ بن جائے گا، جس سے سکیورٹی کے معاملات کو بہتر بنانے میں بڑی مدد ملے گی۔












