Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

یومِ آزادی پر قومی پرچم کو کیسے استعمال کیا جائے گا؟ پنجاب حکومت کا قوانین پر سختی سے عملدرآمد کا فیصلہ

قانون کے تحت پاکستان کا پرچم کسی بھی گاڑی کے بونٹ، چھت یا پچھلے حصے پر کسی عام کپڑے کی طرح نہیں پھیلایا جا سکتا (فوٹو: اے ایف پی)
یومِ آزادی کی آمد سے چند ہفتے قبل حکومتِ پنجاب نے صوبے بھر کے تمام سرکاری محکموں، یونیورسٹیوں، کالجوں، سکولوں اور طبی اداروں کو قومی پرچم کے باقاعدہ ڈیزائن اور اس کے استعمال سے متعلق قوانین پر سختی اور من و عن عمل درآمد کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد 14 اگست کی تقاریب کے دوران قومی پرچم کے تقدس کو پامال ہونے سے بچانا اور بیرون ممالک کے جھنڈے لہرانے کے حوالے سے حکومتی ضابطوں پر عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ ان تازہ ترین ہدایات کے بعد تمام سرکاری و نیم سرکاری محکموں میں پرچم کے سائز، اس کے رنگوں اور اسے لہرانے کے مروجہ طریقوں کی سخت نگرانی کی جائے گی۔
حکومتِ پنجاب کی جانب سے جاری ہونے والا یہ حالیہ حکم نامہ ایک باقاعدہ انتظامی سلسلے کا حصہ ہے جو وفاق سے شروع ہو کر صوبے کے تمام ذیلی اداروں تک پہنچا ہے۔
وفاقی کابینہ ڈویژن نے 3 جولائی کو تمام وفاقی اور صوبائی وزارتوں اور محکموں کو پرچم کے درست استعمال سے متعلق ہدایات پر سختی سے عمل پیرا ہونے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس وفاقی فیصلے کی روشنی میں پنجاب کے محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن یعنی ایس اینڈ جی اے ڈی نے 7 جولائی  کو صوبے کے تمام انتظامی سیکرٹریوں، کمشنروں اور ڈپٹی کمشنرز کو یہ ہدایات ارسال کیں۔
اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اور ایجوکیشن نے  صوبے کے تمام میڈیکل کالجوں، نرسنگ سکولوں، ٹیچنگ ہسپتالوں، دیگر تعلیمی اداروں  اور متعلقہ طبی اداروں کو یہ نوٹیفکیشن جاری کر کے الرٹ کر دیا ہے تاکہ یومِ آزادی پر کسی بھی جگہ قانون کی خلاف ورزی کا کوئی موقع نہ رہے۔
قومی پرچم کے استعمال سے متعلق سخت قوانین
حکومتی احکامات کے مطابق قومی پرچم کی تیاری، ڈیزائن اور اس کو لہرانے کے حوالے سے چند ایسے قوانین موجود ہیں جن پر سختی سے عمل کرنا اب ہر ادارے کے لیے لازم ہے۔
ان قوانین کے تحت پاکستان کا پرچم کسی بھی گاڑی کے بونٹ، چھت یا پچھلے حصے پر کسی عام کپڑے کی طرح نہیں پھیلایا جا سکتا۔ گاڑیوں پر پرچم لہرانے کا حق صرف مخصوص اعلیٰ آئینی اور سرکاری عہدیداروں کو ہی حاصل ہے۔ اس کے علاوہ پرچم کو لہراتے یا اتارتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس کا کوئی بھی حصہ زمین، فرش، پانی یا کسی عام سامان کو نہ چھوئے۔

کسی بھی عام عمارت یا گاڑی پر کسی بیرونی ملک کا پرچم لہرانے پر بھی مکمل پابندی عائد ہے (فوٹو: اے ایف پی)

قوانین میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ قومی پرچم کے اوپر کچھ بھی لکھنا، چھاپنا یا کوئی بھی سیاسی یا ذاتی نشان لگانا سخت منع ہے۔ وفاقی حکومت کی تحریری اجازت کے بغیر کوئی بھی کاروباری شخص یا کمپنی قومی پرچم کو اپنے تجارتی لوگو، ٹریڈ مارک یا کسی بھی کمرشل ڈیزائن کا حصہ نہیں بنا سکتی۔
اسی طرح سفارتی عمارتوں اور مخصوص پروٹوکول کے علاوہ، وفاقی حکومت کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی بھی عام عمارت یا گاڑی پر کسی بیرونی ملک کا پرچم لہرانے پر بھی مکمل پابندی عائد ہے۔ پرچم کے ڈیزائن کو یکساں رکھنے کے لیے اس کا باقاعدہ تناسب تین اور دو کا ہونا چاہیے، جس میں سفید حصہ ایک چوتھائی اور سبز حصہ تین چوتھائی ہونا لازمی ہے۔ اس کے علاوہ سبز اور سفید رنگوں کے لیے پینٹون کوڈز بھی مقرر ہیں تاکہ تیاری کے وقت رنگوں میں کوئی فرق نہ آئے۔
یہ قانون کب بنا؟
ان قوانین کا تاریخی پس منظر 1989 میں بنائے گئے قانون سے جڑا ہے جسے ’انسٹریشنز آن دی ڈیزائن اینڈ یوز آف دی پاکستان فلیگ اینڈ یوز آف فلیگز آف فارن کنٹریز ان پاکستان، 1989‘ کہا جاتا ہے۔
مبصرین کے مطابق 1989 میں جب ملک کے اندر سیاسی منظر نامہ بدل رہا تھا اور ایک طویل عرصے کے بعد جمہوری عمل کی بحالی ہو رہی تھی، تو سیاسی سرگرمیوں، عوامی ریلیوں اور تجارتی اشتہارات میں قومی پرچم کا بے دریغ اور غیر معیاری استعمال دیکھنے میں آیا۔ پرچم کے سائز، رنگوں اور ڈیزائن میں یکسانیت نہ ہونے کے باعث اس کے وقار کو دھچکا لگ رہا تھا، اور مختلف سیاسی جماعتیں اور نجی برانڈز پرچم کو اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

پرچم کے استعمال اور احترام سے متعلق ان بنیادی قواعد میں پہلی بار دسمبر 2025 میں ترمیم کی گئی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

ان حالات کو دیکھتے ہوئے، 1989 میں ایک مربوط قانون بنایا گیا تاکہ ریاست کے سب سے بڑے نشان کی حرمت کو قانون کے دائرے میں لایا جائے۔ اس قانون کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ قومی پرچم کو کسی بھی قسم کی سیاسی، کاروباری یا نجی آلودگی سے پاک رکھا جائے اور دنیا بھر میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے اس پرچم کا سائز اور رنگ ہمیشہ ایک جیسا اور معیاری رہے۔
اب یومِ آزادی کے موقع پر پنجاب حکومت کی جانب سے انہی قوانین پر دوبارہ سختی سے عمل درآمد کروانے کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاست اب اپنی قومی علامات کے تقدس پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
پرچم کے استعمال اور احترام سے متعلق ان بنیادی قواعد میں پہلی بار دسمبر 2025 میں ترمیم کی گئی ہے۔ جس اب گاڑیوں پر پرچم لگانے اور ان کے کمرشل استعمال کو یعنی مختلف تصاویر چھاپنا یا رنگ تبدیل کرنے جیسے اقدامات پر بھی اب مکمل پابندی عائد ہے۔

 

شیئر: