Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پلیٹس انڈیکس اور ڈالر ریٹ، پاکستان میں پٹرول کی قیمتیں روزانہ طے کرنے کا مجوزہ فارمولا کیا ہے؟

آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور اوگرا کے درمیان اصل مسئلہ بقایا جات اور مالی کلیمز کا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے جس کا اثر پاکستانی مارکیٹ پر بھی دکھائی دے رہا ہے۔

پاکستان میں تبدیل ہوتے ہوئے عالمی حالات کے باعث نہ صرف پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر بڑے اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے بلکہ ملک کے بعض حصوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی لائن میں جزوی کمی بھی دیکھنے میں آئی ہے۔

وفاقی حکومت اس تمام صورتِ حال کے بیچ پیٹرول اور ڈیزل کے نرخوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے لیکن انڈسٹری کے اہم سٹیک ہولڈرز اور پیٹرولیم ڈیلرز نے اس ممکنہ اقدام پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

زیرِنظر رپورٹ یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ ملک بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی فراہمی کا موجودہ سلسلہ کس حد تک متاثر ہوا ہے؟ اس پر وزارتِ پیٹرولیم کا سرکاری موقف کیا ہے؟ اور کیا پاکستان واقعی پیٹرول کے نرخ روزانہ کی سطح پر بدلنے کی پوزیشن میں آ چکا ہے؟
’ملک میں پیٹرول کا وافر سٹاک موجود ہے‘
اُردو نیوز نے ان بڑھتے ہوئے خدشات اور افواہوں کے بعد جب پیٹرولیم ڈویژن کے ایڈیشنل سیکرٹری (پالیسی) اور ترجمان ظفر عباس سے رابطہ کیا، تو انہوں نے سپلائی لائن متاثر ہونے یا ملک میں پیٹرول کی کسی بھی قسم کی قلت کی خبروں کی سختی سے نفی کی۔

وفاقی حکومت پیٹرول اور ڈیزل کے نرخوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

ترجمان وزارتِ پیٹرولیم ظفیر عباس کا کہنا تھا کہ ’ملک میں ایندھن کی فراہمی کے نظام کی مانیٹرنگ روزانہ کی بنیاد پر کی جا رہی ہے اور ذخائر  کے حوالے سے تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔ پاکستان میں ہمیشہ کم از کم تین ہفتوں کا پیٹرولیم سٹاک موجود رہتا ہے اور موجودہ حالات میں بھی یہ سٹاک محفوظ ہیں۔‘
انہوں نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے تحفظات اور سپلائی سے جڑے مسائل کے سوال پر وضاحت کی کہ بعض اوقات مقامی سطح پر مصنوعی بحران پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس کا فوری طور پر ازالہ کیا جا رہا ہے۔
وزارتِ پیٹرولیم ڈویژن کے کچھ دیگر اعلیٰ حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’اردو نیوز‘ کو بتایا کہ ’آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور اوگرا کے درمیان اصل مسئلہ بقایا جات اور مالی کلیمز کا ہے، جس کے باعث ممکنہ طور پر چند کمپنیوں نے عارضی طور پر فراہمی میں جزوی کمی کی ہو گی، تاہم اس کا ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے مجموعی سٹاک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘
حکام نے مزید کہا کہ ’پیٹرول پمپس پر پیٹرول اور ڈیزل کی مسلسل دستیابی کو یقینی بنانا اوگرا اور ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے اور وزارتِ پیٹرولیم اس عمل کو ہر ممکن حد تک سہل بنانے کے لیے سرگرم ہے۔‘
دوسری جانب ان خدشات اور مارکیٹ کی غیر یقینی صورتِ حال کے پیشِ نظر، نیشنل کوارڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل کا ایک اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی اور سپلائی کا جامع جائزہ لیا گیا۔
ادارے کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، اوگرا حکام، ممبر کسٹمز ایف بی آر، اور آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کے نمائندوں نے شرکت کی۔

وزارتِ پیٹرولیم کا کہنا ہے کہ ملک میں ایندھن کی فراہمی کے نظام کی مانیٹرنگ روزانہ کی بنیاد پر کی جا رہی ہے (فوٹو: ریڈیو پاکستان)

اجلاس کے دوران کونسل کو بریفنگ دی گئی کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں اور طلب پورا کرنے کے لیے موجودہ سٹاک کافی ہے۔ اس موقعے پر او سی اے سی کے نمائندوں کی جانب سے سپلائی کے حوالے سے نمایاں کیے گئے خدشات کا جائزہ لے کر ان کا ازالہ بھی کیا گیا۔
کونسل نے اوگرا اور صوبائی حکومتوں کو ذخیرہ اندوزی کے خلاف مؤثر کریک ڈاؤن کرنے اور عوام کو پیٹرول اور ڈیزل کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
نرخوں کے روزانہ تعین کا مجوزہ فارمولا 
وزارتِ پیٹرولیم کے ترجمان سے جب روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین (ڈیلی پرائسنگ) کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت اس تجویز پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا اور یہ معاملہ ابھی زیرِ غور ہے۔‘
یاد رہے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت گزشتہ کچھ عرصے سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی ڈی ریگولیشن پر غور کر رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس سلسلے میں ایک اعلیٰ سطح کی خصوصی کمیٹی بھی قائم کر رکھی ہے، جس میں وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک سمیت دیگر وفاقی وزرا اور متعلقہ اعلیٰ حکام شامل ہیں۔
یہ کمیٹی اس وقت ایک ایسے طریقۂ کار کا بھی جائزہ لے رہی ہے جس کے تحت ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر طے کی جا سکیں گی۔
’روزانہ نرخوں کا تعین قبول نہیں‘
دوسری جانب حکومت کی اس ممکنہ پالیسی اور روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کی تجویز پر پیٹرولیم سیکٹر کے اہم سٹیک ہولڈر یعنی پیٹرول پمپ مالکان نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کیا ہے۔
آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین نعمان علی بٹ نے اس حوالے سے کہا کہ ہمیں ڈیلی پرائس میکانزم کسی صورت قبول نہیں ہے۔ 
اُن کا کہنا تھا کہ ’پہلے ہی ہفتہ وار قیمتوں کے نظام نے پیٹرول پمپ مالکان کے کاروبار کو بری طرح متاثر کیا ہے جس سے ہماری سٹاک مینجمنٹ اور مالی منصوبہ بندی میں مشکلات پیدا ہوئیں۔ اب نرخوں کے روزانہ تعین کا یہ نیا نظام ہمارے کاروباری بحران میں مزید اضافے کا سبب بنے گا۔‘

پیٹرول اور ڈیزل کی بڑے پیمانے پر کسی مستقل قلت کا کوئی امکان نہیں ہے (فوٹو: اے ایف پی)

نعمان علی بٹ کا مزید کہنا تھا کہ ’حکومت اس اہم فیصلے میں پیٹرول پمپ مالکان کو سرے سے ہی اعتماد میں نہیں لے رہی جبکہ کسی بھی پالیسی کی کامیابی کے لیے حقیقی سٹیک ہولڈرز سے مشاورت لازمی ہوتی ہے۔‘
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ’اس فیصلے پر فوری نظرثانی کی جائے اور پیٹرول کی قیمتیں کم از کم ماہانہ بنیادوں پر طے کی جائیں، جو کاروباری استحکام کے لیے زیادہ موزوں ہے۔‘
ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ ان کے تحفظات اگر دور نہ کیے گئے تو وہ آئندہ کے لیے جلد سخت لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
ڈیلی پرائسنگ کیسے ہو گی؟
حکومت کا مجوزہ ’ڈیلی پرائسنگ میکانزم‘ یعنی روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کے نظام کے تحت ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کے نرخوں کا فیصلہ ہفتہ وار بنیادوں کی بجائے روزانہ کی بنیاد پر سنگاپور کی مارکیٹ کے ’پلیٹس انڈیکس‘ اور انٹربینک میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کے عین مطابق کیا جائے گا۔
اس خودکار اور ڈیجیٹل فارمولے میں عالمی مارکیٹ کی روزانہ کی قیمت اور ایکسچینج ریٹ کے ساتھ ساتھ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کے مارجنز، مال برداری کے اخراجات اور سرکاری ٹیکسز کو شامل کر کے روزانہ شام کو نئی قیمت کا حتمی تعین کیا جائے گا۔
اس مجوزہ نظام کے تحت روزانہ رات 12 بجے ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر نئے نرخ خودکار طریقے سے لاگو ہوں گے جس کے لیے اوگرا کا خودکار سافٹ ویئر پیٹرولیم کمپنیوں اور ڈیلرز کو شام کے وقت ہی نئے ریٹس ڈیجیٹل لنک کے ذریعے منتقل کر دے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ’اس روزانہ کی تبدیلی سے جہاں صارفین کو 15 دن بعد ایک ساتھ 15 سے 20 روپے کا بڑا مالی برداشت نہیں کرنا پڑے گا، وہاں  قیمتیں بڑھنے کے خوف سے مارکیٹ میں ہونے والی مصنوعی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کا بھی خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔
اس وقت زمینی حقائق کیا ہیں؟
اس وقت اگر ملک میں پیٹرولیم کی سپلائی اور مجموعی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے، تو پیٹرول پمپ مالکان کا دعویٰ ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے جان بوجھ کر پیٹرول کی سپلائی کم کر دی ہے جس کے باعث لاہور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع اور سندھ کے کچھ حصوں میں پیٹرول کی جزوی قلت کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

پیٹرول پمپس پر پیٹرول اور ڈیزل کی مسلسل دستیابی کو یقینی بنانا اوگرا اور ضلعی انتظامیہ کی  ذمہ داری ہے (فوٹو: اے ایف پی)

دوسری جانب حکومت نے ان تمام افواہوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کے وافر ذخائر دستیاب ہیں۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھیی پیٹرول پمپس پر کسی بڑے بحران یا پیٹرول کی عدم دستیابی دکھائی نہیں دی، تاہم چند پمپ مالکان کا غیر رسمی گفتگو میں کہنا ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کمپنیوں کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی کسی حد تک کم ہوئی ہے۔
ماہرینِ توانائی کیا کہتے ہیں؟
اس تمام صورتِ حال پر اردو نیوز نے توانائی امور کے ماہرین سے بھی بات کی ہے۔
لاہور میں مقیم توانائی امور کے ماہر علی خضر کا کہنا تھا کہ ’انہیں اس وقت ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی بڑے پیمانے پر کسی مستقل قلت کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا البتہ آنے والے دنوں میں قیمتوں میں 30 سے 40 روپے تک کا بڑا اضافہ متوقع ہے۔‘
انہوں نے سپلائی کی جزوی کمی کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں چونکہ سرکاری طور پر نہیں بڑھائی گئیں تو اس لیے شاید آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے ممکنہ مالی نقصان سے بچنے کے لیے سپلائی میں عارضی طور پر کسی حد تک کمی کی ہو۔‘

پیٹرول پمپ مالکان کا دعویٰ ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے جان بوجھ کر پیٹرول کی سپلائی کم کر دی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی کمپنیوں کی پروڈکشن اور سپلائی دوبارہ معمول پر آ جائے گی۔‘
علی خضر سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین حکومت کے لیے ممکن ہو سکے گا؟ تو ان کا جواب تھا کہ ’اس عمل میں کچھ ابتدائی مسائل پیش آتے ہیں تو حکومت کو ان کا سدِباب کرنا چاہیے لیکن مجموعی طور پر اگر حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی پرائسنگ کو ڈی ریگولیٹ کرتی ہے تو اس کے طویل مدتی مثبت اثرات سامنے آئیں گے۔‘
اسی طرح اسلام آباد میں مقیم اوگرا کے سابق رکن اور ماہرِ توانائی محمد عارف کا کہنا ہے کہ ’اس وقت عوام کو کسی بھی قسم کی ہیجانی کیفیت یا غیر یقینی صورتحال کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان میں فی الحال ماضی (ایران امریکہ جنگ کے پہلے فیز) کی طرح کے سنگین حالات کا سامنا نہیں ہے کہ شہریوں کو پیٹرول اور ڈیزل کی مکمل قلت کا سامنا کرنا پڑے۔‘
اُنہوں نے روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ’اس طریقۂ کار سے مثبت نتائج حاصل ہوں گے لیکن اس کے نفاذ سے قبل حکومت کو اپنی تیاری مکمل کرنا ہوگی۔‘ 
انہوں نے مزید کہا کہ ’جب تک گورننس، انتظامی ڈھانچے اور تکنیکی نظام میں اصلاحات نہیں لائی جاتیں، اُس وقت تک روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کے فارمولے کو کامیابی سے نافذ کرنا ممکن نہیں ہوگا۔‘
محمد عارف نے واضح کیا کہ ’ڈیلی پرائسنگ کا نظام متعارف کروانے کے لیے حکومت کو عالمی مارکیٹ کے ’پلیٹس ریٹس‘ سے لے کر مقامی سطح پر معلومات کی بروقت فراہمی اور پمپس کی مانیٹرنگ جیسے تمام تکنیکی پہلوؤں کو سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا۔‘ 
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا  کہ ’ملک میں ایندھن کے بار بار سر اُٹھانے والے بحران کا واحد مستقل حل یہی ہے کہ حکومت قیمتوں کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کی بجائے طلب و رسد کے تحت مارکیٹ فورسز کو قیمتوں کا تعین کرنے کا موقع فراہم کرے۔‘

شیئر: