لاہور: 20 لاکھ روپے کا چالان واجب الاد، 421 گاڑیوں کا مالک ٹریفک پولیس کے شکنجے میں کیسے آیا؟
منگل 9 جون 2026 16:30
ادیب یوسفزئی - اردو نیوز، لاہور
پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ٹریفک پولیس کی جانب سے ای چالان نادہندگان کے خلاف جاری کارروائی کے دوران ایک ایسا معاملہ سامنے آیا ہے جس نے اہلکاروں کو بھی حیران کر دیا۔
ٹریفک پولیس کے مطابق جنرل ہولڈ اپ کے دوران ایک موٹرسائیکل سوار کو روکا گیا اور پنجاب میں متعارف کرائے گئے ڈیجیٹل انفورسمنٹ سسٹم ’ون ایپ‘ کے ذریعے اس کی موٹرسائیکل کی ملکیت اور ریکارڈ کی جانچ کی گئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ چند سیکنڈ میں سامنے آنے والے ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ موٹرسائیکل کے مالک باز محمد کے نام پر مجموعی طور پر 421 گاڑیاں، رکشے اور موٹرسائیکلیں رجسٹرڈ ہیں۔
لاہور ٹریفک پولیس کے ترجمان عارف علی رانا نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’باز محمد ملتان روڈ کے علاقے کے رہائشی ہیں اور قسطوں پر گاڑیاں فراہم کرنے کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔‘
عارف علی رانا کے مطابق ’ابتدائی معلومات سے پتا چلا ہے کہ رجسٹرڈ گاڑیوں میں قریباً 90 فیصد موٹرسائیکلیں شامل ہیں۔‘
ترجمان کے مطابق ’ریکارڈ میں باز محمد کے نام پر مجموعی طور پر 1526 ای چالان بھی واجب الادا ہیں جن کی مالیت 20 لاکھ 88 ہزار 800 روپے سے زائد بنتی ہے۔‘
’موٹرسائیکل سوار کو روکنے کے بعد اس کی موٹرسائیکل قبضے میں لے کر تھانہ مسلم ٹاؤن منتقل کر دی گئی ہے جبکہ معاملے سے متعلق مزید جانچ کے لیے محکمہ ایکسائز اور سیف سٹی اتھارٹی کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔‘
ترجمان سٹی ٹریفک پولیس کے مطابق ’سیف سٹی کو باضابطہ خط لکھ کر ریکارڈ کی مزید تصدیق اور کلیئرنس حاصل کرنے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔‘
پنجاب میں حال ہی میں متعارف کرائے گئے ’ون ایپ‘ نظام کا مقصد ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کی نشان دہی اور چالان کے عمل کو ویڈیو اور ڈیجیٹل شواہد کی مدد سے زیادہ شفاف بنانا ہے۔ ٹریفک پولیس کے مطابق اسی نظام کے ذریعے جنرل ہولڈ اپ کے دوران یہ غیر معمولی ریکارڈ سامنے آیا۔
چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) لاہور سید عبدالرحیم شیرازی کی ہدایت پر ای چالان نادہندگان کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لائی جا رہی ہے۔
ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ لاکھوں روپے مالیت کے واجب الادا ای چالان وصول کرنا حکام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی جاری رہے گی۔
حکام کے مطابق اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد لاہور میں مشتبہ یا غیر معمولی رجسٹریشنز کی جانچ کے دائرہ کار کو بھی مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔
’اس سے یہ معلوم کیا جا سکے کہ ایک ہی شخص کے نام پر اتنی بڑی تعداد میں گاڑیوں کی رجسٹریشن کس بنیاد پر ہوئی ہے اور آیا اس حوالے سے مزید جانچ کی ضرورت ہے یا نہیں؟