ایک وقت تھا جب پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کو ایشیا کی بہترین فضائی کمپنیوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ پھر ایسا دور بھی آیا جب مالی خسارے، محدود فلیٹ، پرانے طیاروں اور انتظامی مسائل نے قومی ایئرلائن کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا۔
اب نجکاری کے بعد پہلی مرتبہ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ پی آئی اے کے فلِیٹ میں بڑے پیمانے پر اضافہ، بین الاقوامی روٹس کی توسیع اور آپریشنل صلاحیت بہتر بنانے کے منصوبوں پر عملی پیش رفت شروع ہو گئی ہے۔
اسی سلسلے میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے امریکہ کے دورے کے دوران واشنگٹن میں بوئنگ کمپنی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں انہوں نے بوئنگ گلوبل کے صدر برینڈن نیلسن سے ملاقات کی۔
مزید پڑھیں
اس ملاقات میں پی آئی اے کے لیے 16 نئے بوئنگ طیاروں کے حصول کے مختلف امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستانی سرکاری اعلامیے کے مطابق دونوں فریقوں نے خریداری کے لیے بہترین تجارتی اور مالیاتی آپشنز پر غور کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ معاہدے کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی۔
محسن نقوی نے بوئنگ حکام کی جانب سے تعاون کی یقین دہانی پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔
اگرچہ اس ملاقات میں کسی حتمی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم یہ پیش رفت اس لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے کہ یہ پی آئی اے کی نجکاری کے بعد نئے فلیٹ کے حصول کی جانب پہلا بڑا قدم ہے۔
پی آئی اے کو نئے طیاروں کی ضرورت کیوں ہے؟
پی آئی اے کے سامنے اس وقت سب سے بڑا چیلنج اس کا محدود آپریشنل فلیٹ ہے۔
اگرچہ ایئرلائن کے پاس قریباً 30 طیارے موجود ہیں لیکن ان میں سے تمام پروازوں کے لیے دستیاب نہیں۔
پی آئی اے کے نئے سرمایہ کار گروپ کی قیادت کرنے والی عارف حبیب کارپوریشن کے چیئرمین عارف حبیب کے مطابق ’کوشش کر رہے کہ پی آئی اے کے پاس موجود جہازوں کی مرمت کرکے ان کی تعداد بڑھائی جائے لیکن طویل مدت میں صرف اتنا کافی نہیں ہے۔ آئندہ 10 سال میں فلیٹ کو 60 سے زائد جہازوں تک بڑھانے ارادہ رکھتے ہیں۔‘
نجکاری کے بعد کیا بدل رہا ہے؟
پی آئی اے کی نجکاری گزشتہ برس اس وقت مکمل ہوئی جب عارف حبیب کارپوریشن کی قیادت میں ایک کنسورشیم نے 75 فیصد شیئرز خریدنے کا معاہدہ کیا۔
اس معاہدے کے تحت نہ صرف حکومت کو فروخت کی رقم ادا کی جا رہی ہے بلکہ ایئرلائن میں نئی سرمایہ کاری بھی کی جا رہی ہے۔
اس سرمایہ کاری کا مقصد صرف مالی مشکلات کم کرنا نہیں بلکہ فلیٹ میں اضافہ، جدید ٹیکنالوجی، نئے روٹس، آپریشنل کارکردگی اور مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنا بھی ہے۔
واشنگٹن،وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا بوئنگ کمپنی کے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ
اس موقع پر پی آئی اے کی نئی مینجمنٹ کا وفد بھی شامل تھا
وزیر داخلہ محسن نقوی کی بوئنگ گلوبل کے صدر برینڈن نیلسن سے ملاقات
ملاقات میں پی آئی اے کے لئے 16 نئے طیاروں کی خریداری کے لئے اہم پیش رفت pic.twitter.com/Tjh9pJuNjR— Ministry of Interior GoP (@MOIofficialGoP) July 16, 2026
عام مسافروں کو کیا فائدہ ہو گا؟
ہوابازی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پی آئی اے کے بیڑے میں نئے طیارے شامل ہوتے ہیں تو اس کا براہِ راست فائدہ مسافروں کو مل سکتا ہے۔
سینیئر صحافی راجہ کامران نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ محدود فلیٹ کی وجہ سے پی آئی اے اس وقت کئی منافع بخش روٹس پر اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق پروازیں نہیں چلا پا رہی۔ خصوصاً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، برطانیہ اور یورپ کے لیے سفر کرنے والے پاکستانی اکثر نشستوں کی کمی اور محدود پروازوں کی شکایت کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’نئے طیاروں کی شمولیت کے بعد انہی روٹس پر پروازوں کی تعداد بڑھائی جا سکتی ہے جبکہ شمالی امریکا، وسطی ایشیا اور یورپ کے مزید شہروں کے لیے بھی نئی پروازیں شروع کرنے کا امکان پیدا ہو گا۔‘
’اسی طرح اندرون ملک اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ، ملتان، سیالکوٹ، گلگت اور سکردو سمیت مختلف شہروں کے درمیان بھی پروازوں میں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔‘
بیرون ممالک میں مقیم پاکستانی کیا کہتے ہیں؟
خلیجی ممالک، یورپ اور امریکہ سمیت دیگر ممالک میں رہنے والے پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کی بہتری اوورسیز پاکستانیوں کے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ لندن میں مقیم پاکستانی رضا علی کا کہنا ہے ’برطانیہ کے پی آئی اے کی ڈائریکٹ فلائٹس شروع ہونے سے ہمیں بہت فائدہ ہوا ہے۔‘
’جہاں ایک جانب سفر کا دورانیہ کم ہوا ہے وہیں پیسوں کی بھی بچت ہورہی ہے. اور سب سے بڑھ کر اپنے ملک کی ایئر لائن میں سفر کررہے ہیں۔‘
صرف نئے جہاز کافی ہوں گے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کی بحالی کا انحصار صرف نئے طیاروں پر نہیں ہو گا۔













