پاکستان کی مجوزہ پانچ سالہ آٹو پالیسی (2026.31) اس وقت ملک کے سیاسی اور کاروباری حلقوں میں بحث کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب حکومت نئے وفاقی بجٹ کے تناظر میں آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت امپورٹ ڈیوٹیز کم کرنے کے دباؤ میں ہے، وہیں مقامی مینوفیکچررز اور اراکینِ پارلیمان ٹیرف میں کمی کے اس نئے فارمولے کو ملکی صنعت کے لیے نقصان دہ قرار دے رہے ہیں۔
مقامی آٹو انڈسٹری کا موقف ہے کہ حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو خوش کرنے کے لیے ملکی صنعت کی ’قربانی‘ دے رہی ہے۔
مزید پڑھیں
-
حکومت کی نئی آٹو پالیسی سے صارفین کو کیا فوائد ملیں گے؟Node ID: 580886
-
نئی آٹو پالیسی سے اون منی کلچر کے خاتمے کا ’زیادہ امکان نہیں‘Node ID: 631196
-
نئی گاڑیاں 20 فیصد مہنگی کیوں، نرخ کم کیسے ہوں گے؟Node ID: 646316
اس کا کہنا ہے کہ مقامی مینوفیکچررز کو اعتماد میں لیے بغیر تیار کیا جانے والا یہ ڈرافٹ پاکستان کو ایک بار پھر مینوفیکچرنگ اکانومی سے صرف ایک ’امپورٹ مارکیٹ‘ میں تبدیل کر دے گا۔
حکومت کی مجوزہ آٹو پالیسی کیا ہے؟
پاکستان کی وفاقی حکومت کی مجوزہ آٹو پا پالیسی کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ وہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار آٹو سیکٹر کو حاصل امپورٹ پروٹیکشن (درآمدی تحفظ) کو ختم یا انتہائی کم کرنے کا اراداہ رکھتی ہے۔
اب تک مقامی صنعت کاروں کو تحفظ دینے کے لیے باہر سے آنے والی نئی گاڑیوں پر بھاری کسٹمز اور ریگولیٹری ڈیوٹیز عائد ہوتی تھیں، جس کی وجہ سے مقامی کمپنیوں کو مارکیٹ پر مکمل کنٹرول حاصل تھا۔
تاہم آئی ایم ایف کی شرط کے تحت اس تحفظ کو بتدریج ختم کیا جا رہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ آنے والے سالوں میں امپورٹڈ گاڑیاں مقامی گاڑیوں کے مقابلے میں سستی یا ان کے برابر ہو سکتی ہیں۔

نئی پالیسی میں درآمدی پرزوں پر ڈیوٹی کم ہونے کی وجہ سے کار ساز کمپنیوں کے لیے باہر سے تیار پرزے منگوانا سستا ہو جائے گا۔ مقامی وینڈرز کا احتجاج اسی بات پر ہے کہ اس سے ملک میں گزشتہ تین دہائیوں سے ہونے والی اربوں روپے کی ’لوکلائزیشن‘ یعنی مقامی پرزہ سازی کی صنعت ختم ہو جائے گی۔
پالیسی میں ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے اور الیکٹرک گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ کے لیے 2031 تک کے جو اہداف مقرر کیے گئے ہیں، ماہرین معیشت ان کو پاکستان کے موجودہ حالات میں غیر حقیقی قرار دے رہے ہیں۔
تنقید کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک اس وقت بجلی کے شدید بحران اور چارجنگ انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی کا شکار ہے۔
مقامی انڈسٹری کا کہنا ہے کہ ایسے میں روایتی گاڑیوں پر 'کاربن ٹیکس' لگا کر ان کی قیمتیں بڑھانا صارفین پر اضافی بوجھ تو ڈالے گا، لیکن انفراسٹرکچر نہ ہونے کے باعث الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں فوری اضافہ ممکن نہیں دکھائی دیتا۔
اس حوالے سے مقامی آٹو انڈسٹری اور پرزہ جات بنانے والی تنظیم 'پاپام' کا موقف ہے کہ امپورٹڈ پرزوں پر ٹیکس کم کرنے اور سات سال پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دینے سے پاکستان کے کارخانے بند ہو جائیں گے۔

انڈسٹری سے وابستہ شخصیات کے مطابق اس پالیسی سے گزشتہ تیس سال کی اربوں روپے کی سرمایہ کاری ڈوب سکتی ہے اور کارخانے بند ہونے سے آٹو سیکٹر کے تین لاکھ سے زیادہ ملازمین بے روزگار ہو سکتے ہیں۔
صنعت کاروں کا الزام ہے کہ حکومت مقامی کمپنیوں سے مشورہ کیے بغیر آئی ایم ایف کی شرطیں مان رہی ہے، جس سے پاکستان چیزیں بنانے والے ملک کے بجائے صرف باہر کا مال بیچنے والی مارکیٹ بن کر رہ جائے گا۔
آٹو سیکٹر کے ماہرین کا تجزیہ ہے کہ حکومت اور مقامی انڈسٹری کے درمیان یہ تنازع دراصل 'صارفین کے فائدے' اور 'ملکی صنعت کے تحفظ' کا ایک بڑا تضاد ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے چند بڑی کمپنیوں کو جو ٹیرف تحفظ حاصل تھا، اس کی وجہ سے یہاں نہ تو گاڑیوں کی کوالٹی بین الاقوامی معیار کے مطابق ہو سکی اور نہ ہی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ میں رہیں۔
اب حکومت آئی ایم ایف کے دباؤ میں سہی مگر مارکیٹ کو کھول کر مسابقت پیدا کرنا چاہتی ہے تاکہ صارفین کو سستی اور معیاری گاڑیاں مل سکیں۔

تاہم دوسری جانب ماہرین متنبہ کر رہے ہیں اگر حکومت نے مقامی پرزہ سازوں کو کوئی متبادل ریلیف یا مراعات نہ دیں تو ملک میں بڑے پیمانے پر بے روزگاری اور اس سیکٹر سے سرمایہ نکالا جانا معیشت کے لیے ایک نیا بحران کھڑا کر سکتا ہے۔
گاڑیوں کے تجزیوں کے لیے معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’پاک گیئر‘ کے بانی اور آٹو موبائل ماہر مہران خان سہگل کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مہنگی اور پرتعیش گاڑیوں پر ٹیکس بڑھانے کا فیصلہ تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن مقامی طور پر تیار ہونے والی ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں پر اضافی ٹیکس لگانے کی تجویز کی کوئی منطق نظر نہیں آتی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ماضی میں جو خریدار دو کروڑ روپے میں 'آڈی' جیسی لگزری کار خرید سکتے تھے، اب قیمتیں بڑھنے کے باعث انہیں اسی بجٹ میں 'ہیول' جیسی گاڑیاں مل رہی ہیں۔
مہران سہگل نے اردو نیوز کو بتایا کہ پرتعیش گاڑیاں خریدنے والے طبقے کو قیمتوں سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا؛ اگر وہ پانچ کروڑ روپے کی گاڑی خرید سکتے ہیں تو وہ سات کروڑ بھی دے دیں گے۔
تاہم اگر حکومت واقعی ماحول دوست گاڑیوں کو فروغ دینا چاہتی ہے تو اسے مقامی سطح پر تیار ہونے والی الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کو سستا کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے تجویز دی کہ کاروں کے علاوہ ماحول دوست موٹر سائیکلوں اور کمرشل ٹرکوں کی تیاری کو بھی اس نئی پالیسی کا لازمی حصہ بنانا چاہیے۔












