Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ریاست ہرمز کھلوا سکتی ہے تو کشمیر بھی کھلوا دے: بلاول بھٹو زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری شدید سیاسی و عوامی کشیدگی کے تناظر میں تجویز دی ہے کہ خطے کے حالات کی تحقیقات کے لیے ایک غیر جانبدار ’ٹرتھ اینڈ ری کنسلییشن کمیشن‘ قائم کیا جائے۔
جمعے کو پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے شہر ڈڈیال میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ’کشمیر اور گلگت بلتستان کے لوگ اب ’پرانی تنخواہ‘ پر چلنے کو تیار نہیں ہیں اور انہیں ان کے حقوق دینا ہوں گے۔‘
خطے میں ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری دھرنوں اور مواصلاتی نظام کی معطلی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا ’یہ کس قسم کا نظام ہے کہ یہاں فون ہی نہیں چل رہے۔ اگر ریاستِ پاکستان (آبنائے)ہرمز کھلوا سکتی ہے تو میری گزارش ہے کہ کشمیر بھی کھلوا دیں۔‘
ان کا اشارہ خطے میں جاری کشیدگی کی وجہ سے قائم رکاوٹوں اور انٹرنیٹ و موبائل سروسز کی طویل معطلی کی طرف تھا۔
بلاول بھٹو نے احتجاج کرنے والوں سے بھی اپیل کی کہ اگر کمیشن قائم کر دیا جائے تو وہ اپنی تحریک اس وقت تک روک دیں جب تک یہ تعین نہ ہو جائے کہ قانون کی خلاف ورزی کس نے کی۔
انتخابی مہم کے دوران فائرنگ، ہلاکتیں اور دھرنے
بلاول بھٹو زرداری کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں 27 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل ماحول انتہائی کشیدہ ہے۔ خطے میں گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے بڑے پیمانے پر احتجاج اور جھڑپیں جاری ہیں، جن میں اب تک سکیورٹی اہلکاروں سمیت دو درجن سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں گرفتار ہو چکے ہیں۔
تازہ ترین واقعے میں سابق وزیراعظم کشمیر سردار تنویر الیاس کے قافلے پر پونچھ کے علاقے ٹائیں ڈھلکوٹ میں مبینہ قاتلانہ حملہ ہوا ہے۔
سردار تنویر الیاس نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ جب ان کا قافلہ انتخابی مہم کے سلسلے میں اپنے آبائی علاقے کی حدود میں داخل ہوا تو ان پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں ان کا ایک سکیورٹی گارڈ ہلاک اور متعدد ساتھی زخمی ہوئے۔
اس سے قبل ضلع سدھنوتی کی تحصیل بلوچ میں بھی ایک انتخابی امیدوار فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہو چکے ہیں جس کے بعد اس حلقے میں پولنگ مؤخر کر دی گئی ہے۔
’عوامی ایکشن کمیٹی‘ کا لانگ مارچ اور مبینہ مذاکرات کا تنازع
خطے میں یہ بے امنی گزشتہ ماہ کے اوائل سے ’جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘ کی کال پر شروع ہونے والے احتجاج کے بعد پھیلی جسے بعد میں حکومت نے کالعدم قرار دے دیا تھا۔
عوامی ایکشن کمیٹی کا مرکزی دھرنا گزشتہ 37 روز سے راولاکوٹ کے دریک عیدگاہ گراؤنڈ میں جاری ہے جبکہ شہر کے اطراف میں مزید پانچ مقامات پر بھی مظاہرین دھرنوں میں موجود ہیں۔
 30 مئی کو حکومت اور کمیٹی کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد سے اب تک کوئی باضابطہ بات چیت نہیں ہو سکی تاہم پسِ پردہ کوششیں جاری ہیں۔
اس بحران میں اس وقت ایک نیا موڑ آیا جب کالعدم ایکشن کمیٹی نے 15 جولائی کو مظفرآباد کی طرف مجوزہ لانگ مارچ آخری وقت پر مؤخر کرنے کا اعلان کیا۔
کمیٹی کے اعلامیے میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ’خصوصی نمائندے‘ اور اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن (او پی ایف) کے چیئرمین سید قمر رضا نے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے اس لیے مارچ روکا جا رہا ہے تاہم دھرنے جاری رہیں گے۔
تاہم، اگلے ہی روز  16 جولائی کو او پی ایف کے فیس بک پیج پر جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں اس تأثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ سید قمر رضا نے ’ذاتی حیثیت‘ میں اس بات چیت میں حصہ لیا تھا اور اس معاملے کو ’توڑ مروڑ کر‘ پیش کیا گیا ہے۔
مواصلاتی بلیک آؤٹ اور انتخابات پر سوالیہ نشان
کشمیر کے بڑے شہروں میں جہاں سکیورٹی فورسز کا گشت جاری ہے، گزشتہ 42 دنوں سے انٹرنیٹ سروسز مکمل طور پر معطل ہیں۔
اس طویل مواصلاتی بلیک آؤٹ اور امیدواروں پر ہونے والے حملوں کے باعث انتخابی مہم شدید متاثر ہو رہی ہے اور مبصرین کی جانب سے ان کشیدہ حالات میں 27 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے بروقت اور پرامن انعقاد پر سنجیدہ خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

 

شیئر: