پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں کشیدگی: کالعدم ایکشن کمیٹی کا لانگ مارچ روکنے کا اعلان، ’دھرنے برقرار رہیں گے‘
بدھ 15 جولائی 2026 19:47
فرحان خان، اردو نیوز۔ اسلام آباد
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں گذشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری شدید کشیدگی کے بعد ایک اہم اور بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے دارالحکومت مظفرآباد کی جانب اپنا 15 جولائی کا مجوزہ لانگ مارچ روکنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، تاہم راولاکوٹ اور دیگر علاقوں میں پہلے سے قائم دھرنے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بدھ کو راولاکوٹ کی دریک عیدگاہ گراؤنڈ میں جاری دھرنے سے جاری کیے گئے ایک باضابطہ اعلامیے کے مطابق ’جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے موجودہ سنگین حالات کے تناظر میں 13 جولائی کو فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ایک تفصیلی خط ارسال کیا تھا۔‘
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ‘فیلڈ مارشل عاصم منیر کو یہ خط 14 جولائی کو موصول ہوا۔ خط میں 5 جون سے اب تک کے انہیں تمام حالات سے آگاہ کرتے ہوئے انصاف کی اپیل کی گئی تھی۔‘
’اس اپیل پر فوری ردعمل دیتے ہوئے فیلڈ مارشل نے چیئرمین اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن سید قمر رضا کو اپنا نمائندہ خصوصی مقرر کر کے ایکشن کمیٹی کی طرف بھیجا۔‘
اعلامیے کے مطابق ’بدھ 15 جولائی کو نمائندہ خصوصی سید قمر رضا اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مطالبات پر تفصیلی گفت و شنید ہوئی۔‘
’نمائندہ خصوصی کی جانب سے تمام مسائل کو بات چیت کے ذریعے جلد حل کرنے کی یقین دہانی پر ایکشن کمیٹی نے مزید جانی نقصان سے بچنے کی خاطر لانگ مارچ کو روکنے کا اعلان کیا اور اپنا مقدمہ فیلڈ مارشل کے انصاف پر چھوڑ دیا۔‘
تاہم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’پہلے سے جاری تمام پُر امن دھرنے بدستور قائم رہیں گے۔‘
عوامی ایکشن کمیٹی کے سرکردہ رہنما سردار عمر نذیر نے بدھ کی شام راولاکوٹ کے دریک عیدگاہ گراؤنڈ دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے اس پیش رفت کی تصدیق کی۔
انہوں نے اس حوالے سے کہا کہ ’کچھ مطالبات کے لیے وقت درکار ہے، اس لیے مارچ کو روکا گیا ہے لیکن کسی صورت دھرنے ختم نہیں ہوں گے۔‘
’ہمارے جتنے دھرنے ہیں بالخصوص راولاکوٹ کے گردونواح 6 دھرنے اور ہجیرہ، عباس پور اور جہاں کہیں اور بھی دھرنے موجود ہیں، وہ سارے دھرنے اُسی طرح جاری و ساری رہیں گے۔‘
یہ اہم پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب منگل کو سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان ہونے والے تصادم میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت متعدد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔
تازہ ترین جھڑپیں اور جانی نقصان
خطے میں کشیدگی کی تازہ ترین لہر منگل کو اس وقت پیدا ہوئی جب پُونچھ ڈویژن کے مختلف اضلاع میں سکیورٹی فورسز کی پیش قدمی کے دوران مظاہرین کے ساتھ خونی جھڑپیں ہوئیں۔
اطلاعات کے مطابق ضلع سِدھنوتی کی تحصیل بلوچ میں کوٹلی تراڑکھل روڈ پر سکیورٹی فورسز اور مسلح مظاہرین کے مابین تصادم میں کم سے کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔
اس سے قبل منگل کی صبح راولاکوٹ کے متیالمیرہ بس ٹرمینل پر قائم دھرنے کو منتشر کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران ایک مقامی شہری اور ایک رینجرز اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی تھی۔
ان جھڑپوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر کم سے کم 12 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، تاہم آزاد ذرائع سے زخمیوں کی حتمی تعداد کی تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی کا موقف اور پس منظر
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بنیادی عوامی اور معاشی حقوق کی بحالی کے لیے گذشتہ تین سال سے ایک تحریک چل رہی ہے، جس کی قیادت جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کر رہی ہے۔
اس دوران حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان متعدد بار مذاکرات ہوئے، تاہم کمیٹی کا الزام ہے کہ حکومت نے اکتوبر 2025 کے معاہدے کے تحت طے شدہ 38 مطالبات پر عمل درآمد نہیں کیا۔
فریقین کے درمیان 30 مئی کو ہونے والے مذاکرات کا آخری دور بھی ناکام رہا، جس کے بعد ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ کی کال دی تھی۔
تاہم 5 جون کو راولاکوٹ کے قریب کھائی گلہ میں فائرنگ کے ایک مبینہ واقعے میں ایکشن کمیٹی کے رہنما شاہ زیب حبیب کی ہلاکت اور سردار عمر نذیر کے زخمی ہونے کے بعد صورت حال وقت سے پہلے ہی سنگین ہو گئی اور ریاست بھر میں شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال شروع ہو گئی۔
کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما سردار عمر نذیر نے موقف اپنایا تھا کہ ’مذاکرات صرف اسی صورت ممکن ہیں جب حکومت 5 جون کے بعد اٹھائے گئے تمام اقدامات واپس لے، جن میں کمیٹی کو کالعدم قرار دینا اور رہنماؤں کی گرفتاریوں شامل ہیں۔‘
گذشتہ ماہ جون کے اوائل میں حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کو باقاعدہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کے سرکردہ رہنماؤں سمیت قریباً 450 افراد کے نام انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے شیڈول فور میں ڈال دیے تھے۔
احتجاج میں شرکت پر متعدد سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائیاں کی گئیں اور سینکڑوں افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں تحریک کے سرکردہ رہنما شوکت نواز میر بھی شامل ہیں جنہیں دھیر کوٹ کے قریب سے گرفتار کیا گیا تھا۔
اس کے بعد ایکشن کمیٹی کے کچھ رہنماؤں جن میں کور کمیٹی کے رکن راجا امجد علی خان ایڈووکیٹ، انجم زمان اعوان، فیصل جمیل کاشمیری اور چند دیگر کے ایسے ویڈیو پیغامات بھی میڈیا پر نشر کیے گئے جن میں وہ کالعدم عوام ایکشن کمیٹی سے لاتعلقی کا اعلان کر رہے تھے۔
اس کے علاوہ کمیٹی کے کارکنوں کے بھی ایسے متعدد ویڈیو بیانات میڈیا پر نشر کیے جا چکے ہیں، تاہم ابھی تک مرکزی رہنما شوکت نواز میر کی گرفتاری کی باقاعدہ طور پر تصدیق کی گئی اور نہ ہی انہیں کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایکشن کمیٹی کا الزام ہے کہ سکیورٹی فورسز نے مزید سینکڑوں افراد کو بھی زیرِ حراست رکھا ہوا ہے جن کی گرفتاری باضابطہ ظاہر نہیں کی جا رہی اور مرنے والے بعض کارکنوں کی نعشیں لواحقین کے حوالے نہیں کی گئیں۔
حکومت اور سکیورٹی فورسز کا موقف
دوسری جانب مظفرآباد میں سپیشل سیکریٹری داخلہ چوہدری گفتار حسین اور ترجمان کشمیر پولیس ڈی آئی جی عرفان مسعود کشفی نے منگل کو ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی پر سخت الزامات عائد کیے ہیں۔
حکام کا کہنا تھا کہ ’عوامی حقوق کے نام پر احتجاج کا لبادہ اوڑھ کر شرپسند عناصر ریاست کی رِٹ کو چیلنج کر رہے ہیں اور پاکستان مخالف بیانیے کو فروغ دیا جا رہا ہے۔‘
سپیشل سیکریٹری داخلہ نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین کی جانب سے خواتین، معصوم بچوں اور طلبہ کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں پر مسلح جتھوں کی جانب سے براہِ راست فائرنگ کی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں بیٹھک بلوچ کے مقام پر کانسٹیبل عاقب شہید اور متعدد دیگر اہلکار زخمی ہوئے۔
پولیس اہلکار پر تشدد کا دعویٰ
کشمیر پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ پریس ریلیز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 14 جولائی کو اسلام آباد پولیس کے ایک ملازم احتشام مسیح، جو رُخصت پر اپنے آبائی علاقے راولاکوٹ جا رہے تھے، کو گگو نالہ کے مقام پر مسافر گاڑی سے زبردستی اُتار کر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
پولیس کا موقف ہے کہ ’کالعدم ایکشن کمیٹی کے کارندوں نے تشدد کے بعد زبردستی مذکورہ ملازم کے ہاتھ میں انڈین کرنسی تھما کر ایک ویڈیو ریکارڈ کی جو سوشل میڈیا پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈے کے لیے استعمال کی گئی۔‘
پولیس نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ملوث افراد کی شناخت کر کے اُن کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
وزیرِاعظم کشمیر کا ’ایک قدم آگے بڑھنے‘ کا اعلان
بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جانی نقصان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب سوشل میڈیا پر ایک انتہائی اہم بیان جاری کیا۔
فیصل ممتاز راٹھور نے ’ایکس‘ پر جاری کیے گئے اس بیان میں خطے میں قیامِ امن کے لیے حکومت کی جانب سے ایک اور قدم آگے بڑھانے کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ ریاست امن کا گہوارہ ہے۔ ہم کب تک اس امن کو اپنے ہی خون سے داغ دار ہوتا دیکھتے رہیں گے؟ یہ سلسلہ یہیں رُک جانا چاہیے اور معصوم عوام کا امتحان اب ختم ہونا چاہیے۔‘
’حقوق کا مطالبہ موت کا پروانہ نہیں بننا چاہیے۔ ہم امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے ایک اور قدم آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں۔ امید ہے اس کے جواب میں سنجیدگی اور بالغ نظری کا مظاہرہ کیا جائے گا۔‘
انتخابات کی آمد اور سیاسی تعطل
یہ تمام تر ہنگامہ آرائی ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے ریاست میں 27 جولائی کو عام انتخابات کا اعلان کر رکھا ہے۔
کشیدہ حالات کے باعث سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو انتخابی مہم چلانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود وفاقی سطح پر سیاسی رہنماؤں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری منگل کو مظفرآباد پہنچے جبکہ اس سے قبل مسلم لیگ ن کے رہنما کیپٹن ریٹائرڈ صفدر، عابد شیر علی اور وفاقی وزیر امیر مقام بھی وہاں مہم چلا چکے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے مقامی رہنماؤں کے مطابق نواز شریف اور مریم نواز کی آمد بھی متوقع ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے اپوزیشن رہنماؤں جن میں سابق وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی، محمود خان اچکزئی، سینیٹر راجا ناصر عباس اور مصطفیٰ نواز کھوکھر شامل تھے، انہوں نے چند روز قبل راولاکوٹ دھرنے میں جانے کی کوشش کی تو انہیں پولیس نے کہوٹہ کے مقام پر روک دیا تھا۔
فی الوقت راولاکوٹ کے اطراف میں گذشتہ 35 دنوں سے دریک عیدگاہ گراؤنڈ سمیت 6 مختلف مقامات پر دھرنے جاری ہیں، جن میں آج خواتین اور بچوں سمیت مزید قافلے شامل ہوئے ہیں۔
خطے میں گذشتہ 38 روز سے انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر معطل ہے جبکہ اشیائے خورونوش کی سپلائی بھی بُری طرح متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔
پبلک ٹریفک کا نظام بھی پوری طرح فعال نہیں ہے۔ کشمیر کے نمایاں شہروں میں سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات ہے اور وقفوں وقفوں سے شہروں میں فورسز کے فیلگ مارچز بھی جاری ہیں۔