انڈیا کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں تقریباً تین دہائیوں قبل فوجی تحویل سے لاپتا ہونے والے ایک شخص کو عدالت نے مردہ قرار دیتے ہوئے اس کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس فیصلے نے نہ صرف متاثرہ خاندان کو قانونی طور پر ایک حقیقت تسلیم کرانے کا موقع دیا بلکہ برسوں سے لاپتا ہزاروں کشمیریوں کے اہلِ خانہ کے زخم بھی ایک بار پھر تازہ کر دیے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق عبدالرشید وانی سنہ 1997 میں سری نگر کے قریب اپنے گھر سے اس وقت لاپتہ ہوئے تھے جب وہ لکڑی کے کاروبار کے سلسلے میں سپلائرز کو ادائیگی کرنے جا رہے تھے اور ان کے پاس بڑی رقم موجود تھی۔ اہلِ خانہ اور پولیس تحقیقات کے مطابق انہیں انڈین فوج نے حراست میں لیا تھا لیکن وہ دوبارہ کبھی واپس نہ آئے۔
اس وقت ان کا بیٹے جنید رشید صرف پانچ سال کے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس شام اس کی والدہ اور دونوں بچے نئے کپڑے پہن کر عبدالرشید وانی کا انتظار کر رہے تھے تاکہ وہ انہیں شادی کی تقریب میں لے جائیں، مگر وہ کبھی واپس نہ آئے۔
مزید پڑھیں
-
سری نگر: پولیس نے ’مولانا مودودی کی کتابیں ضبط کرلیں‘Node ID: 886151
عدالت نے اپنے فیصلے میں پولیس تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایک فوجی میجر نے عبدالرشید وانی کو حراست میں قتل کیا اور بعد ازاں ان کی لاش کو ٹھکانے لگا دیا۔ عدالت نے ان کی وفات کی تاریخ وہی قرار دی جس دن وہ لاپتا ہوئے تھے، تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کی تدفین کہاں کی گئی۔‘
34 سالہ جنید رشید کا کہنا ہے کہ ’حکومت نے 29 برس بعد پہلی مرتبہ عدالت میں یہ تسلیم کیا ہے کہ میرے والد کے ساتھ یہ ظلم ہوا تھا۔‘ ان کے مطابق ’اگر یہ اعتراف پہلے ہو جاتا تو نہ صرف میرے خاندان بلکہ پورے کشمیر کی صورتحال مختلف ہوتی، اور میری والدہ کی صحت بھی شاید اتنی خراب نہ ہوتی۔‘
انڈیا کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں لاپتہ افراد کی بیویوں کو ’ہالف وڈو‘ (آدھی بیوہ) کہا جاتا ہے، کیونکہ ان کے شوہروں کی زندہ ہونے یا مر جانے کے متعلق کوئی تصدیق نہیں ہوتی۔
سنہ 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد سے جموں و کشمیر انڈیا اور پاکستان کے درمیان متنازع خطہ ہے۔ دونوں ممالک پورے کشمیر پر دعویٰ رکھتے ہیں اور اس تنازع پر کئی جنگیں بھی لڑ چکے ہیں، جن میں حالیہ جھڑپ گزشتہ سال ہوئی تھی۔
سنہ 1989 میں حقِ خودارادیت کے لیے سیاسی جدوجہد ناکام ہونے کے بعد مسلح بغاوت شروع ہوئی، جس میں باغی گروپ یا تو کشمیر کی آزادی یا پاکستان کے ساتھ الحاق کا مطالبہ کر رہے تھے۔ انڈیا نے وادی میں بڑی تعداد میں فوج تعینات کر دی اور پاکستان پر باغیوں کی حمایت کا الزام عائد کیا، جس کی اسلام آباد تردید کرتا رہا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ’پیپلز یونین فار ڈیموکریٹک رائٹس‘ (پی یو ڈی آر) کے مطابق عبدالرشید وانی کا مقدمہ سنہ 1989 کے بعد سے کشمیر میں ہونے والی جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی عکاسی کرتا ہے۔
تنظیم ’ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آف ڈس اپیئرڈ پرسنز‘ (اے پی ڈی پی) کا کہنا ہے کہ ’کشمیر میں جبری طور پر لاپتا ہونے والوں کی تعداد آٹھ ہزار تک ہو سکتی ہے، اگرچہ ان میں بعض افراد کو مسلح گروپوں نے بھی اغوا کیا تھا۔‘

اے پی ڈی پی نے سنہ 2009 میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے پاکستان کے ساتھ قائم لائن آف کنٹرول کے قریب دور دراز پہاڑی علاقوں میں تقریباً دو ہزار 700 بے نام قبروں کی نشاندہی کی ہے۔ تنظیم کے مطابق ’مقامی افراد نے بتایا کہ انہوں نے سکیورٹی فورسز کی جانب سے چھوڑی گئی مسخ شدہ لاشوں کو دفن کیا تھا۔‘
ان میں کپواڑہ کا علاقہ بھی شامل ہے، جہاں آج بھی زنگ آلود نمبروں والی قبروں کی قطاریں موجود ہیں۔ ایک مقامی شخص نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’سنہ 1990 سے 2000 کے درمیان دیہاتیوں نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تقریباً پانچ سو لاشیں دفن کیں، جو پولیس چھوڑ کر چلی جاتی تھی۔ بعد میں بعض خاندانوں نے قبریں کھلوا کر اپنے لاپتا عزیزوں کی لاشوں کی شناخت بھی کی۔‘
انڈین حکومت اور سکیورٹی اداروں کا مؤقف ہے کہ ’یہ لاشیں جھڑپوں میں مارے گئے ایسے مسلح افراد کی تھیں جن کی شناخت ممکن نہ ہو سکی، جبکہ لاپتا افراد کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر پاکستان چلے گئے تھے۔‘
کشمیر کے اُس وقت کے ریاستی انسانی حقوق کمیشن نے بھی سنہ2011 میں ان قبروں کا جائزہ لیا تھا۔ کمیشن نے کہا تھا کہ ’اے پی ڈی پی کی نشاندہی کردہ 38 مقامات پر قبریں موجود ہیں‘، تاہم حکومت صرف دو ہزار 730 لاشوں میں سے 464 کی شناخت کر سکی تھی۔
کمیشن نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ان بے نام قبروں میں متعدد لاپتا افراد دفن ہو سکتے ہیں اور ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کی سفارش کی تھی، مگر یہ عمل کبھی شروع نہ ہو سکا۔ بعد ازاں سنہ 2019 میں نئی دہلی کی جانب سے کشمیر کا براہِ راست انتظام سنبھالنے کے بعد انسانی حقوق کمیشن بھی ختم کر دیا گیا تھا۔
جنید رشید کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان نے عبدالرشید وانی کو تلاش کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی، یہاں تک کہ اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنا آبائی گھر بھی فروخت کر دیا۔ ان کے مطابق انڈین فوجی افسران نے انہیں تلاش بند کرنے کے بدلے رقم کی پیشکش بھی کی اور کہا کہ ’جو ہونا تھا، ہو چکا۔‘ ان کی دادی نے ایک کرنل سے صرف اتنی درخواست کی تھی کہ ’میرا بیٹا واپس کر دیا جائے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’کچھ سابقہ باغیوں نے، جو بعد میں حکومت کے ساتھ مل گئے تھے، عبدالرشید وانی کی رہائی کے لیے بھی رقم طلب کی، تاہم خاندان نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔‘ پولیس تحقیقات میں اس فوجی افسر کی نشاندہی بھی کی گئی جس نے عبدالرشید وانی کو ایک سول گاڑی کے ذریعے اٹھانے کا حکم دیا تھا۔ جنید رشید کا کہنا ہے کہ ’میں بچپن میں اپنی والدہ کے ساتھ فوجی کیمپ گیا تھا، مجھے آج بھی اس افسر کا چہرہ یاد ہے۔‘
یہ صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں۔ سنہ 2002 میں جانہ بیگم کے شوہر منظور احمد ڈار کو بھی آدھی رات کے وقت گھر پر چھاپہ مار کر فوجی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ ان کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ ’ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی شکاری پرندہ انہیں چھین کر لے گیا ہو۔‘ اس کے بعد منظور احمد ڈار کبھی گھر واپس نہ آئے۔
احتجاج اور عدالتی کارروائی کے بعد شناختی پریڈ کرائی گئی، جس میں جانہ بیگم نے اس افسر کی نشاندہی کی جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ ان کے شوہر کو جبری طور پر ساتھ لے گیا تھا، تاہم برسوں کی قانونی لڑائی کے باوجود انہیں انصاف نہیں مل سکا۔
منظور احمد ڈار کی بیٹی بلقیس منظور اپنے والد کے لاپتہ ہونے کے وقت 15 برس کی تھیں۔ بلقیس منظور ڈار بتاتی ہیں کہ ’سنہ 2016 میں خاندان نے علامتی نماز جنازہ ادا کی کیونکہ پولیس اہلکاروں نے غیر رسمی طور پر ہمیں بتایا تھا کہ والد صاحب دورانِ تفتیش جان کی بازی ہار گئے تھے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’میں جانتی ہوں کہ میرے والد اب اس دنیا میں نہیں، لیکن اصل انصاف تب ہوگا جب حکام بتائیں گے کہ ان کے ساتھ کیا ہوا اور ان کی لاش کہاں ہے۔‘
اے ایف پی سے گفتگو کرنے والے لاپتا افراد کے مزید تین خاندانوں نے بھی اسی نوعیت کی داستانیں بیان کیں، تاہم ممکنہ انتقامی کارروائی کے خوف سے انہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔ ایک بزرگ شخص نے اپنے لاپتا بیٹے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے بچوں کی آنے والی نسلیں بھی خاموشی کے ساتھ اس درد اور ناانصافی کو برداشت کرنے پر مجبور ہوں گی۔‘
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایسے مقدمات میں انصاف کی امید بہت کم ہے کیونکہ انڈین سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف سول عدالتوں میں مقدمہ چلانے کے لیے حکومت کی خصوصی اجازت درکار ہوتی ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق پولیس تحقیقات میں جبری گمشدگیوں سمیت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ابتدائی شواہد ملنے پر مقامی حکام نے کم از کم 50 مقدمات میں کارروائی کی اجازت مانگی، مگر آج تک کسی ایک مقدمے میں بھی اجازت نہیں دی گئی۔













