پاکستان سے گدھے کے گوشت کی پہلی کھیپ کامیابی سے چین پہنچ گئی ہے۔ گوادر نارتھ فری زون سے قریباً تین ہفتے قبل روانہ کیا جانے والا 27 ٹن وزنی گوشت کا کنٹینر پاکستان میں لائسنس یافتہ چینی کمپنی نے برآمد کیا تھا، جو رواں ہفتے چینی مارکیٹ کا حصہ بن چکا ہے۔
گدھے کا گوشت چین برآمد کرنے والی کمپنی ’ہان گینگ ٹریڈ‘ کا کہنا ہے کہ ’پہلے مرحلے میں دستیاب تمام منجمد گوشت چین بھیجا جا چکا ہے جبکہ آنے والے دنوں میں ہمارا مقصد اس سپلائی کو بڑھا کر ماہانہ کم از کم 40 کنٹینرز تک پہنچانا ہے۔‘
تاہم زیرِنظر سطور میں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ پاکستان سے چین کو گدھے کے گوشت کی برآمد کا یہ پورا نظام آخر کام کس طرح کرتا ہے؟ یہ جانور کہاں سے لائے جاتے ہیں اور وہ کون سے حفاظتی اقدامات ہیں جو اس گوشت کو مقامی مارکیٹ میں پہنچنے سے روک رہے ہیں؟
مزید پڑھیں
-
ہیلمٹ نہ پہننے پر چالان، ’گدھے کی نمبر پلیٹ کہاں ہے‘Node ID: 897973
-
پیرس کا انوکھا ہسپتال جہاں گدھے ذہنی مریضوں کا علاج کر رہے ہیںNode ID: 904889
پاکستان کی جانب سے چین کو گدھے کا گوشت اور کھالیں برآمد کرنے کی باقاعدہ قانونی منظوری رواں سال اپریل میں وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے دی تھی جس کی بعد مئی کے آغاز میں وفاقی کابینہ نے بھی اس کی توثیق کی۔
یہ منظوری پاکستان کی وزارتِ تجارت، وزارتِ قومی غذائی تحفظ اور چین کے کسٹمز کے محکمے کے درمیان طے پانے والے سخت طبی اور قرنطینہ کے ضوابط کے تحت دی گئی ہے۔
اس پالیسی کے تحت برآمدات کا لائسنس چینی کمپنی ہان گینگ کو ملا ہے، جس نے گوادر کے مخصوص اقتصادی زون میں پانچ کروڑ ڈالر کی لاگت سے جدید پروسیسنگ پلانٹ اور ذبح خانہ قائم کر کے منجمد گوشت کی پہلی تجارتی کھیپ چین روانہ کی ہے۔یاد رہے اسی زون میں حکومت نے ایک اور کمپنی کو بھی نیا پلانٹ لگانے کی منظوری دی ہے۔
لائسنس حاصل کرنے والے پہلی چینی کمپنی
ہان گینگ ٹریڈ کے ڈپٹی جنرل منیجر عبدالرزاق بلوچ نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’رواں برس اپریل میں وفاقی حکومت کی جانب سے اس منصوبے کی باقاعدہ منظوری ملنے کے بعد ہم نے چین کو گوشت کی پہلی کھیپ بھیجنے پر کام شروع کر دیا تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہم قریباً 20 سے 25 دن قبل ایک خصوصی کنٹینر گوادر کے تجارتی زون سے چین روانہ کر چکے ہیں جو رواں ہفتے منگل کو وہاں کی مارکیٹ میں پہنچ چکا ہے جس میں 27 ٹن سے زائد گوشت موجود تھا۔‘
اُنہوں نے واضح کیا کہ ’اس پہلے مرحلے میں صرف گدھے کا گوشت ہی چین بھیجا گیا ہے جبکہ کھالوں کی برآمد اور دیگر ذیلی مصنوعات کی برآمد کا سلسلہ اگلے مراحل میں شروع کیا جائے گا۔‘
ان کا سپلائی چین کے حوالے سے کہنا تھا کہ ’پاکستان میں چونکہ اس نئے برآمدی نظام کو مربوط کرنے اور مطلوبہ معیار کے مطابق چلانے میں کچھ وقت درکار ہوتا ہے، اس لیے پہلے مرحلے میں ہمارے پاس جتنا مال تیار تھا، ہم نے روانہ کر دیا۔ تاہم، اگلے ایک سے دو ماہ کے دوران ہمارا ہدف اس سپلائی کو بڑھا کر ماہانہ 40 بڑے کنٹینرز تک پہنچانا ہے۔‘
یہ گدھے کہاں سے لائے جاتے ہیں؟
عبدالرزاق بلوچ نے بتایا کہ ان کی کمپنی نے باقاعدہ منظوری کے تحت ملک بھر میں گدھوں کے چھ فارمز قائم کر رکھے ہیں، جبکہ مزید آٹھ فارمز تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔
ان کے مطابق مختلف صوبوں میں قائم ان فارمز سے گدھوں کو گوادر کے اقتصادی زون میں واقع کمپنی کے سلاٹر ہاؤس منتقل کیا جاتا ہے۔
انہوں نے ان فارمز کے مقامات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت پنجاب کے اضلاع رحیم یار خان، شیخوپورہ جبکہ سندھ میں کیماڑی اور جامشورو میں فارمز قائم ہیں، یوں مجموعی طور پر چھ فارمز قائم کیے گئے ہیں، یعنی مختلف مقامات پر گدھوں کے یہ فارمز موجود ہیں جہاں سے انہیں یہاں (گوادر) لایا جاتا ہے، جبکہ مزید آٹھ فارمز پر اس وقت کام جاری ہے۔‘
سلاٹر ہاؤس صرف گوادر میں کیوں؟
عبدالرزاق بلوچ نے واضح کیا کہ ’ان کی کمپنی کو اس وقت صرف گوادر کے مخصوص فری زون کے اندر ہی سلاٹر ہاؤس قائم کرنے اور آپریشنز چلانے کی اجازت دی گئی ہے۔‘
عبدالرزاق بلوچ نے حکومت کی اس حکمتِ عملی کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’وفاقی حکومت نے ابتدائی اعلیٰ سطح کی بات چیت میں واضح کر دیا تھا کہ گوادر سے باہر کسی بھی شہری یا عام علاقے میں ایسے سلاٹر ہاؤسز قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’گوادر کے علاوہ اگر ملک کے دیگر عام حصوں یا شہری علاقوں میں بھی ایسے سلاٹر ہاؤسز قائم کرنے کی اجازت دی گئی، تو اس سے پاکستان کی حلال گوشت کی برآمدات شدید شکوک و شبہات کا شکار ہو سکتی ہیں جو خاص طور پر خلیجی ممالک کو جاتی ہیں، اسی خدشے کے پیشِ نظر گدھوں کی پروسیسنگ کے پورے عمل کو صرف گوادر تک ہی محدود رکھا گیا ہے۔‘

مقامی مارکیٹ میں گوشت کی منتقلی کو روکنے کو کیسے یقینی بنایا جاتا ہے؟ عبدالرزاق بلوچ نے اس سوال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’گوادر کا فری زون ایک انتہائی ہائی سکیورٹی ایریا ہے جو کسٹمز، اینٹی نارکوٹکس فورس اور دیگر سکیورٹی ایجنسیوں کی سخت اور 24 گھنٹے نگرانی میں کام کرتا ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’ہمارے سلاٹر ہاؤس کے اندر کسٹمز اور متعلقہ سکیورٹی اداروں کے اہلکار ہمہ وقت تعینات ہوتے ہیں، جو پروسیسنگ اور پیکنگ کے بعد گوشت کے کنٹینرز کو خود سِیل کر کے وہاں سے روانہ کرتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’کسی بھی کنٹینر کو اس سرکاری سِیل کے بغیر فری زون سے باہر لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی، اور یہ مال براہِ راست بندرگاہ سے جہاز کے ذریعے چین روانہ ہو جاتا ہے۔ ہمیں یہ لائسنس انتہائی سخت اور واضح قوانین کے تحت ملا ہے اور حفاظتی اقدامات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا رہا۔‘
’گدھوں کی قلت پیدا ہو سکتی ہے‘
چین کو گدھے کے گوشت کی برآمد کے حوالے سے ہم نے مزید گفتگو کے لیے چینی کمپنیوں کے ساتھ کاروباری تجربہ رکھنے والے پاکستانی بزنس مین احتشام الحق سے بھی گفتگو کی۔
انہوں نے حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ’معاشی لحاظ سے یہ ایک مثبت قدم ہے، تاہم سائنسی طریقوں کے تحت گدھوں کی باقاعدہ افزائشِ نسل اور فارمنگ کے بغیر یہ منصوبہ دیرپا نہیں ہو سکتا۔‘
اُنہوں نے واضح کیا کہ ’صرف مقامی مارکیٹ پر انحصار کرتے ہوئے برآمدات جاری رکھی گئیں، تو یہ ماڈل ناکام ہو سکتا ہے، کیونکہ چین کی مارکیٹ بہت بڑی ہے اور ہمارے پاس اس وقت گدھوں کی اس قدر تعداد موجود نہیں ہے۔اور اگر ایسا ہوا، تو ملک میں شاید مال برداری کے لیے بھی گدھے نہ بچیں۔‘
احتشام الحق نے بتایا کہ ’انہوں نے اپنے ایک چینی کاروباری شراکت دار کو بھی، جنہیں مستقبل میں گدھے کے گوشت کی برآمد کا اجازت نامہ ملنے کی امید ہے، یہی مشورہ دیا ہے کہ وہ گوشت کی برآمد شروع کرنے سے پہلے پاکستان میں گدھوں کی افزائشِ نسل اور فارمنگ کے بنیادی ڈھانچے پر کام کریں۔‘
احتشام الحق کا سرکاری اعداد و شمار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہنا تھا کہ ’حکومتی رپورٹس تو ہر سال گدھوں کی تعداد میں اضافے کا دعویٰ کرتی ہیں، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ اس مجموعی آبادی کا نصف سے زیادہ حصہ مادہ گدھوں پر مشتمل ہے جن کا گوشت عام طور پر برآمد نہیں کیا جاتا۔ چنانچہ فوری طور پر منظم فارمنگ شروع نہ ہوئی، تو چین کی وسیع منڈی کی طلب کے سامنے ہماری یہ تعداد بہت جلد ختم ہو جائے گی۔‘

انہوں نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے ایک اور اہم لاجسٹک چیلنج کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ’ملک میں فی الحال صرف گوادر کے اندر ہی ایک فعال سلاٹر ہاؤس موجود ہے، جو طویل المدتی بنیادوں پر کمپنیوں کے لیے تجارتی طور پر زیادہ منافع بخش نہیں رہے گا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ملک کے دور دراز حصوں، جیسے پنجاب یا اندرونِ سندھ سے گدھوں کو سینکڑوں کلومیٹر دور گوادر تک ٹرانسپورٹ کرنا انتہائی مہنگا اور تھکا دینے والا عمل ہے جس سے گدھوں کی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’مستقبل میں حکومت کو بہاولپور، چولستان اور تھر جیسے صحرائی علاقوں میں بھی، جہاں گدھوں کی پیداوار اور آبادی زیادہ ہے، مخصوص سلاٹر ہاؤسز بنانے کی اجازت دینا ہوگی۔‘
تاہم، انہوں نے تسلیم کیا کہ ’پاکستان میں اس حوالے سے کچھ گہرے معاشرتی اور مذہبی پہلو بھی موجود ہیں جن کی حساسیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے حکومت ہر جگہ ایسے سلاٹر ہاؤس قائم کرنے کی اجازت دینے سے گریز کرتی ہے۔‘












