Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

گلابی نمک کی نئی پالیسی، اربوں ڈالر کمانے کا خواب سچ ہو سکے گا؟

دنیا کی دوسری بڑی نمک کی کان ’کھیوڑا‘کے سنگلاخ پہاڑوں میں چھپا گلابی نمک صدیوں سے پاکستان کا وہ اثاثہ ہے جو دنیا بھر میں ’ہمالین پنک سالٹ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اس نمک کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی اس خطے کی تاریخ۔ تاریخی روایات کے مطابق، 326 قبلِ مسیح میں جب سکندرِ اعظم کی فوجیں اس علاقے سے گزریں، تو ان کے گھوڑوں نے یہاں کے پتھروں کو چاٹنا شروع کیا، جس سے نمک کے ان عظیم ذخائر کا انکشاف ہوا۔
سکندرِ اعظم کے گھوڑوں کی وجہ سے دریافت ہونے والا یہ نمک آج دنیا بھر کے امیر ترین ممالک کے باورچی خانوں، سجاوٹ کی دکانوں اور صحت کے مراکز کی زینت بن چکا ہے۔ لیکن اس چمکتی ہوئی بین الاقوامی منڈی کے پس منظر میں پاکستان کی اپنی نمک کی صنعت ایک طویل عرصے سے زوال اور حکومتی عدم توجہی کا شکار رہی ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے حال ہی میں گلابی نمک کی برآمد کو فروغ دینے کے لیے ایک نئی جامع پالیسی کا اعلان کیا گیا ہے، جس کا مقصد خام نمک کی بیرونِ ملک کوڑیوں کے دام فروخت کو روکنا اور ملک کے اندر ہی اس کی پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن یعنی اس کی قدر میں اضافہ کر کے اسے عالمی منڈیوں میں پیش کرنا ہے۔
ایک تاجر کی جدوجہد اور ’معجزے‘ کی امید
اس صنعت کے زمینی حقائق کو گہرائی سے جاننے کے لیے جب اس کاروبار سے گزشتہ تین دہائیوں سے وابستہ گوجرانوالہ کے چوہدری لقمان سے بات کی تو وہ کچھ زیادہ خوش نظر نہیں آئے۔
انہوں نے طویل جدوجہد کے بعد امریکی منڈیوں تک پاکستان کے گلابی نمک کی رسائی ممکن بنائی اور وہاں کی بڑی دکانوں میں اسے متعارف کروایا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’انہوں نے نمک کی مختلف مصنوعات کو پوری دنیا میں پہنچایا ہے، لیکن اس طویل سفر میں حکومتی سرپرستی یا حوصلہ افزائی ہمیشہ نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔‘
ان کے مطابق پاکستان کی نمک کی صنعت کا حال بھی ملک کی دیگر صنعتوں جیسا ہی رہا ہے، جہاں خام مال تو وافر مقدار میں دستیاب ہے لیکن اس کی قدر بڑھانے کے لیے کوئی صنعتی اور حکومتی ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔

پاکستان سے ٹنوں کے حساب سے خام گلابی نمک کے بلاکس انتہائی سستے داموں بیرونِ ملک برآمد کیے جاتے ہیں (فوٹو: اُردو نیوز)

چوہدری لقمان کہتے ہیں کہ ’حکومت نے اب جس نئے منصوبے اور پالیسی کا اعلان کیا ہے، اس کے تحت اگر واقعی یہ صنعت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جاتی ہے اور مقامی کارخانے چلنے لگتے ہیں، تو یہ اس شعبے کے لیے کسی معجزے سے کم نہیں ہوگا، کیونکہ ماضی میں بھی ایسے کئی دعوے کاغذات کی حد تک تو پرکشش دکھائی دیے، لیکن زمینی سطح پر ان کے نتائج صفر رہے۔‘
حکومت کا نیا منصوبہ کیا ہے؟
پنجاب کے محکمۂ مائنز اینڈ منرلز کی جانب سے جاری کردہ معلومات اور حکومت کے نئے پورٹل کے مطابق، اس نئی پنک سالٹ پالیسی کا بنیادی ڈھانچہ خام نمک کی بلا روک ٹوک برآمد پر مکمل پابندی عائد کرنے کے گرد گھومتا ہے۔
اب تک کا یہ رواج رہا ہے کہ پاکستان سے ٹنوں کے حساب سے خام گلابی نمک کے بلاکس انتہائی سستے داموں بیرونِ ملک برآمد کر دیے جاتے تھے، جہاں دوسرے ممالک اس نمک کو صاف کر کے، اس کی خوبصورت پیکیجنگ کر کے اور مختلف شکلیں دے کر اربوں ڈالر کماتے تھے جبکہ پاکستان کو صرف چند ملین ڈالر ہی مل پاتے تھے۔
نئی پالیسی کے تحت، حکومت اب صرف اسی نمک کی برآمد کی اجازت دے گی جو پاکستان کے اندر ہی پروسیس کیا گیا ہو، یعنی اسے کھانے کے باریک نمک، نمکین لیمپوں، ٹائلوں یا سجاوٹ کی دیگر اشیا میں تبدیل کیا جا چکا ہو۔
حکومت نے اس منصوبے کو عام لوگوں اور چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے آسان بنانے کے لیے ایک نیا ڈیجیٹل پورٹل بھی متعارف کرایا ہے۔

حکومت اب صرف اسی نمک کی برآمد کی اجازت دے گی جو پاکستان کے اندر ہی پروسیس کیا گیا ہو (فوٹو: اُردو نیوز)

اس پورٹل کے ذریعے کوئی بھی عام شہری یا نیا کاروباری شخص مائنز اینڈ منرلز کے محکمے کے ساتھ رجسٹر ہو سکتا ہے۔ پورٹل پر نمک کے بلاکس کی خریداری، پروسیسنگ یونٹس کی لیز یا زمین کے حصول، اور برآمدی لائسنس کی درخواست دینے کا عمل مکمل طور پر آن لائن اور خودکار کر دیا گیا ہے۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ ’اس اقدام سے درمیانے درجے کے ایجنٹوں اور سفارشی کلچر کا خاتمہ ہوگا اور چھوٹے دست کار بھی براہِ راست نمک خرید کر اپنی مصنوعات بنا سکیں گے۔‘
پاکستان کی ویلیو ایڈیشن صنعت
پاکستان میں گلابی نمک کی ویلیو ایڈیشن صنعت بنیادی طور پر روایتی اور نیم صنعتی بنیادوں پر قائم ہے۔ اس صنعت میں نمک کو محض کھانے کے لیے ہی تیار نہیں کیا جاتا بلکہ اس سے سانس کی بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی سالٹ ٹائلیں، مساج کے پتھر، اور خوبصورت برقی لیمپ تیار کیے جاتے ہیں۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق، پاکستان اس وقت گلابی نمک کی برآمد سے سالانہ قریباً 70 سے 80 ملین ڈالر کماتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نمک کی اگر سو فیصد ویلیو ایڈیشن ملک کے اندر ہی کی جائے، تو یہ برآمدی حجم آسانی سے ایک سے دو ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ سکتا ہے۔
اس صنعت کا ایک اہم ترین پہلو اس کا انسانی اور سماجی ڈھانچہ ہے۔ سلسلہ کوہِ نمک کے اضلاع میں جہلم، خوشاب اور میاںوالی شامل ہیں، جہاں کے لاکھوں خاندان اس کاروبار سے بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر وابستہ ہیں۔
کانوں کے اندر کام کرنے والے کان کنوں سے لے کر چھوٹے کارخانوں میں لیمپ تراشنے والے کاریگروں تک، ان سب کے گھروں کا چولہا اسی نمک سے جلتا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت اگر مقامی صنعت کو فروغ ملتا ہے، تو ان دور افتادہ اضلاع میں روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا ہوں گے اور کاریگروں کو ان کی محنت کا مناسب معاوضہ مل سکے گا۔
چوہدری لقمان کے علاوہ نمک کی صنعت سے وابستہ دیگر بڑے صنعت کار بھی اس نئی پالیسی پر ملے جلے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔
خوشاب کے ایک نمک پروسیسنگ یونٹ کے مالک میاں زاہد کا کہنا ہے کہ ’خام نمک کی برآمد پر پابندی کا فیصلہ اصولی طور پر درست ہے، لیکن حکومت کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہمارے ہاں بجلی کی قیمتیں انتہائی زیادہ ہیں اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا رہتا ہے۔ نمک کو کاٹنے اور پالش کرنے والی مشینوں کو چلانے کے لیے سستی توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’حکومت ہمیں اگر صنعتی مراعات اور سستی بجلی نہیں دے گی، تو ہم عالمی مارکیٹ میں دوسرے حریف ممالک کا مقابلہ نہیں کر پائیں گے۔‘ 

ہمالین پنک سالٹ سے خوبصورت برقی لیمپ بھی تیار کیے جاتے ہیں (فوٹو: اُردو نیوز)

ایک اور برآمد کنندہ سلمان ملک نے نشاندہی کی کہ ’بین الاقوامی منڈیوں اور یورپ و امریکہ میں مصنوعات بھیجنے کے لیے بہت سخت کوالٹی ٹیسٹنگ اور بین الاقوامی سرٹفیکیشنز کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان میں ایسی لیبارٹریز کا شدید فقدان ہے جو ان مصنوعات کی بین الاقوامی معیار کے مطابق تصدیق کر سکیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کو پورٹل بنانے کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر عالمی معیار کی ٹیسٹنگ لیبارٹریز بھی قائم کرنی چاہییں تاکہ ہمارے برآمد کنندگان کو بیرونِ ملک سے سرٹفیکیٹ حاصل کرنے کے لیے بھاری فیسیں ادا نہ کرنی پڑیں۔‘
دوسری جانب، حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ پالیسی پاکستان کے جغرافیائی اشاریے یعنی جیوگرافیکل انڈیکیشنز کی رجسٹریشن کے عمل کو بھی مضبوط کرے گی۔ اس رجسٹریشن کے بعد دنیا کا کوئی بھی دوسرا ملک پاکستان کی اجازت کے بغیر گلابی نمک ’ہمالین پنک سالٹ‘ کے لیبل کے ساتھ فروخت نہیں کر سکے گا۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ پالیسی صرف چند بڑے سرمایہ کاروں کے لیے نہیں بلکہ ہر اس چھوٹے کاریگر کے لیے ہے جو اپنے گھر میں نمک کی مصنوعات تیار کرتا ہے۔

شیئر: