Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا استعمال شدہ موبائل فون خریدنے سے آپ کا بینک اکاؤنٹ اور ذاتی ڈیٹا ہیک ہو سکتا ہے؟

پی ٹی اے نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ موبائل فون خریدنے سے پہلے اس کا آئی ایم ای آئی نمبر ضرور چیک کریں (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان میں سمارٹ فونز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور لاکھوں افراد ہر سال نئے یا استعمال شدہ موبائل فون خریدتے ہیں۔
تاہم پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کا کہنا ہے کہ ’موبائل فون خریدتے وقت صرف قیمت، کمپنی یا فیچرز ہی نہیں بلکہ اس بات کی بھی تصدیق ضروری ہے کہ آیا یہ فون پی ٹی اے سے منظور شدہ ہے یا نہیں۔‘
پی ٹی اے نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ ’غیر قانونی، غیر رجسٹرڈ یا غیر منظور شدہ موبائل فون خریدنے کی صورت میں نہ صرف ڈیوائس بلاک ہو سکتی ہے بلکہ بعض معاملات میں قانون کے تحت کارروائی اور سزائیں بھی ہو سکتی ہیں۔‘
پی ٹی اے کے مطابق ملک میں غیر قانونی موبائل فونز کی درآمد اور فروخت کی روک تھام کے لیے ڈیوائس آئیڈینٹیفیکیشن، رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم نافذ کیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت پاکستان میں استعمال ہونے والے تمام موبائل فونز کے آئی ایم ای آئی نمبرز کی تصدیق کی جاتی ہے اور صرف رجسٹرڈ یا منظور شدہ ڈیوائسز کو ہی مقامی موبائل نیٹ ورکس پر کام کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ ’کسی موبائل فون کا اگر آئی ایم ای آئی نمبر رجسٹر نہ ہو یا اس میں رَد و بدل کیا گیا ہو تو ایسی ڈیوائس کو بلاک کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد وہ پاکستان میں کسی بھی موبائل نیٹ ورک پر استعمال کے قابل نہیں رہتی۔‘
پی ٹی اے کی جانب سے شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ موبائل فون خریدنے سے پہلے اس کا آئی ایم ای آئی نمبر ضرور چیک کریں۔ اس مقصد کے لیے صارفین موبائل فون سے #06# ڈائل کر کے آئی ایم ای آئی نمبر حاصل کر سکتے ہیں، جبکہ 8484 پر ایس ایم ایس بھیج کر یا پی ٹی اے کے ڈیوائس ویری فیکیشن سسٹم کے ذریعے بھی فون کی قانونی حیثیت معلوم کی جا سکتی ہے۔
پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کے مطابق فون خریدتے وقت صارفین کو چاہیے کہ وہ فون کے ڈبے پر درج آئی ایم ای آئی نمبر اور موبائل فون میں ظاہر ہونے والے آئی ایم ای آئی نمبر کا باہمی موازنہ ضرور کریں تاکہ یہ یقین ہو سکے کہ ڈیوائس میں کوئی رَد و بدل نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ خریداری سے قبل یہ تصدیق کرنا بھی ضروری ہے کہ فون پی ٹی اے کے ریکارڈ میں منظور شدہ اور رجسٹر ہے یا نہیں۔ 
یہ اقدامات کیوں کیے جارہے ہیں؟ 
کراچی موبائل اینڈ الیکٹرانک ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر منہاج گلفہام نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بیرونِ ممالک سے غیر قانونی طور پر لائے جانے والے مہنگے موبائل فونز مارکیٹ میں بیچنے والوں کے خلاف جہاں انتظامیہ کارروائی کررہی ہے وہیں ہم بھی مقامی سطح پر ایسے موبائل فونز کے خلاف کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

گزشتہ چند برسوں کے دوران صارفین میں پی ٹی اے سے منظور شدہ موبائل فونز خریدنے کا رجحان بڑھا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

ان کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی موبائل فون کا آئی ای ایم ای نمبر تبدیل کرنا غیر قانونی ہے. اور ہم ایسا کرنے والوں کے خلاف انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔‘ 
پی ٹی اے حکام کا کہنا ہے کہ ’یہ اقدامات نہ صرف غیر قانونی موبائل فونز کی خرید و فروخت کی حوصلہ شکنی کے لیے ہیں بلکہ صارفین کو مالی نقصان سے بھی بچاتے ہیں۔ کوئی صارف اگر لاکھوں روپے مالیت کا ایسا فون خرید لے جو بعد میں بلاک ہو جائے تو اسے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘
قانونی پہلو سے دیکھا جائے تو پاکستان میں غیر قانونی یا تبدیل شدہ آئی ایم ای آئی نمبر والے موبائل فونز کے خلاف پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996 اور بعد ازاں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 سمیت متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق اگر کوئی شخص جان بوجھ کر موبائل فون کے آئی ایم ای آئی نمبر میں تبدیلی کرتا ہے، اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا ہے یا ایسی ڈیوائس کی خرید و فروخت میں ملوث پایا جاتا ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔‘
پی ٹی اے کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ ’پیکا 2016 کے تحت کسی بھی ٹیلی کمیونیکیشن ڈیوائس کے آئی ایم ای آئی نمبر کو غیر قانونی طور پر پروگرام کرنا، تبدیل کرنا یا اس میں ٹیمپرنگ کرنا قابل سزا جرم ہے۔ ایسے جرم میں ملوث افراد کو تین سال تک قید، دس لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔‘
ماہرین کے مابق ماضی میں غیر قانونی طور پر درآمد کیے گئے یا سمگل شدہ موبائل فونز میں جعلی یا تبدیل شدہ آئی ایم ای آئی نمبرز استعمال کیے جاتے تھے، جس سے نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچتا تھا بلکہ سکیورٹی اداروں کے لیے جرائم کی تفتیش بھی متاثر ہوتی تھی۔ اسی مقصد کے لیے پی ٹی اے نے ڈی آئی آر بی ایس نظام متعارف کروایا تاکہ ہر موبائل فون کی شناخت اور قانونی حیثیت کی تصدیق ممکن بنائی جا سکے۔
دوسری جانب موبائل فون ڈیلرز کا کہنا ہے کہ ’گزشتہ چند برسوں کے دوران صارفین میں پی ٹی اے سے منظور شدہ موبائل فونز خریدنے کا رجحان بڑھا ہے، تاہم اب بھی بعض خریدار صرف کم قیمت دیکھ کر غیر رجسٹرڈ موبائل فونز خرید لیتے ہیں، جس کے بعد انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

حکومت بیرونِ ممالک سے غیر قانونی طور پر لائے جانے والے مہنگے موبائل فونز فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کررہی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

آئی ٹی امور کے ماہر ڈاکٹر نعمان سید کے مطابق استعمال شدہ موبائل فونز خریدنے والے افراد کو خاص طور پر محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ بعض اوقات بظاہر اصل نظر آنے والے موبائل فون بعد میں غیر رجسٹرڈ یا بلاک شدہ نکلتے ہیں۔
ان کے مطابق چند منٹ صرف کر کے آئی ایم ای آئی نمبر کی تصدیق کرنا مستقبل میں بڑے مالی نقصان سے بچا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’استعمال شدہ موبائل فون میں خفیہ وائرس بھی ہوسکتا ہے جو خریدار کے فون کو ہیک کر کے اس کی کی اہم معلومات  مثلاً بینک یا سوشل میڈیا پاس ورڈ کو کسی دوسری جگہ پر منتقل کر سکتا ہے اور بعد میں صارف کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔‘
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ ’شہری مستند دکانوں یا رجسٹرڈ ڈیلرز سے ہی موبائل فون خریدیں، خریداری کی رسید محفوظ رکھیں اور فون کی قانونی حیثیت ضرور چیک کریں۔‘
پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کے مطابق عوامی آگاہی کا مقصد صرف قانون پر عمل درآمد نہیں بلکہ صارفین کے مفادات کا تحفظ بھی ہے تاکہ وہ غیر قانونی ڈیوائس خرید کر نقصان کا شکار نہ ہوں۔

پیکا 2016 کے تحت کسی بھی ٹیلی کمیونیکیشن ڈیوائس کے آئی ایم ای آئی نمبر کو تبدیل کرنا قابلِ سزا جرم ہے (فوٹو: ٹیک میگ)

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کے ساتھ ہی ماہرین بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ موبائل فون خریدنے سے پہلے چند بنیادی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہیں۔
ان کے مطابق پی ٹی اے کی منظوری، درست آئی ایم ای آئی نمبر اور خریداری کا ریکارڈ محفوظ رکھنا نہ صرف قانونی تقاضا ہے بلکہ صارف کے اپنے مفاد میں بھی ہے، کیونکہ ایک معمولی سی غفلت مہنگی ڈیوائس کے ناقابلِ استعمال ہونے اور قانونی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔

شیئر: