Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ڈیزل 31 روپے، پیٹرول پانچ روپے مہنگا: قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر طے ہوں گی

پاکستان کی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافے کا اعلان کیا ہے اور جمعے کو رات گئے ڈیزل کی قیمت میں 31 روپے پانچ پیسے، جبکہ پیٹرول کی قمیت میں 5 روپے 44 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 354 روپے35 پیسے فی لیٹر، جبکہ  پیٹرول کی نئی قیمت 316 روپے 15 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔
اس سے قبل حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تعین کا موجودہ پندرہ روزہ نظام ختم کر کے اب روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں مقرر کرنے اور اس شعبے کو بتدریج ’ڈی ریگولیٹ‘ (سرکاری کنٹرول سے آزاد) کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ 
جمعے کو وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور کابینہ کی منظوری کے بعد آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کا ٹاسک دے دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق اس عمل میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے اوگرا قیمتوں کے تعین کا مکمل طریقۂ کار اور عالمی مارکیٹ میں رائج قیمتیں (پلیٹس) روزانہ اپنی ویب سائٹ پر شائع کرے گی تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ قیمتیں کن عوامل کی بنیاد پر مقرر کی جا رہی ہیں۔
ڈی ریگولیشن اور نئی کمیٹی کا قیام
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کو مکمل طور پر ڈی ریگولیشن کی طرف لے جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے وزیراعظم نے وزیر پٹرولیم کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی قائم کر دی ہے جو اس شعبے کو سرکاری کنٹرول سے آزاد کرنے کے عمل کی نگرانی کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’عالمی مارکیٹ میں توانائی کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہو رہا ہے، جہاں ڈیزل کی قیمت 110 ڈالر سے بڑھ کر 140 ڈالر تک پہنچ گئی ہے جبکہ پٹرول بھی 100 ڈالر کے قریب ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے پٹرولیم قیمتوں میں سبسڈی کے لیے 130 ارب روپے خرچ کیے ہیں اور یہ پروگرام آج بھی جاری ہے تاکہ عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔
مقامی سطح پر تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ترکش پٹرولیم 20 سال کے بعد سمندر کے اندر تیل اور گیس کی تلاش کے لیے رواں سال اکتوبر میں اپنا جہاز پاکستان لا رہی ہے جبکہ ریفائنریز کو اپ گریڈ کر کے خام تیل کے استعمال سے عالمی منڈیوں کی مسابقتی قیمت پر عوام کو تیل کی فراہم کرنے پر کام جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’حکومت آئی ایم ایف  کے ساتھ سرکلر ڈیٹ (گردشی قرضے) کے معاملے پر بھی کام کر رہی ہے۔‘
’عالمی کشیدگی کا اثر پاکستان پر بھی پڑتا ہے‘
اس موقعے پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ’خطے اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جنگ اور کشیدگی کی وجہ سے تیل کی منڈیوں میں بحران نظر آ رہا ہے اور اس کا براہِ راست اثر پاکستان پر بھی پڑتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جب کشیدگی عروج پر تھی تو پوری دنیا میں تیل کی کمی تھی، تاہم حکومت نے بروقت اقدامات کر کے پاکستان میں اضافی ذخائر کا بندوبست کیا۔‘

نعمان علی بٹ کا کہنا تھا کہ نئی پالیسی سے قیمتوں کے تعین کا پورا نظام بری طرح متاثر ہو گا (فوٹو: ویڈیو گریب)

وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ ’پاکستان عالمی سطح پر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور وزیراعظم شہباز شریف کی ان کوششوں کو پوری دنیا تسلیم کرتی ہے۔‘
پریس کانفرنس کے اختتام پر وزیر پٹرولیم نے ملک کے انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی خدمات کو تاریخ ہمیشہ سنہرے الفاظ میں یاد رکھے گی۔‘
’یکطرفہ فیصلہ مسترد‘ ، پٹرول پمپ مالکان کا ہڑتال کا انتباہ
دوسری جانب حکومت کی اس مجوزہ ڈی ریگولیشن پالیسی پر آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔
راولپنڈی سے جاری ایک ویڈیو بیان میں ایسوسی ایشن کے چیئرمین نعمان علی بٹ نے کہا ہے کہ ملک بھر کے قریباً 15 ہزار پٹرول پمپ مالکان اس نئی پالیسی کی وجہ سے شدید تشویش کا شکار ہیں۔
انہوں نے انتباہ جاری کیا کہ ’اگر حکومت نے اپنا یہ فیصلہ واپس نہ لیا تو آئندہ ہفتے احتجاج اور ملک گیر ہڑتال پر غور کیا جائے گا۔‘
نعمان علی بٹ کا کہنا تھا کہ نئی پالیسی سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، آئل ٹینکرز، ٹرانسپورٹیشن اور قیمتوں کے تعین کا پورا نظام بری طرح متاثر ہو گا۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ’یکطرفہ فیصلوں کے بجائے پٹرول پمپ مالکان سے مشاورت کی جائے اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ساتھ ریٹ طے کرنے سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے۔‘
انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی اس پالیسی پر نظرثانی کرے اور انتظامی مسائل کا بوجھ پیٹرول پمپ مالکان پر نہ ڈالا جائے۔

 

شیئر: