Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

زیارت میں شدت پسندوں کا حملہ، دو ایس ایچ او سمیت 9 پولیس اہلکار مارے گئے، 20 لاپتہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع زیارت میں شدت پسندوں کے حملے میں کم از کم نو پولیس افسروں اور اہلکاروں کی موت ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق مرنے والوں میں دو تھانوں کے ایس ایچ او بھی شامل ہیں۔
ایس پی زیارت عبدالقدوس دہوار نے تصدیق کی ہے کہ اس واقعے کے بعد سے 20 پولیس اہلکار لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔
حکومت نے جوابی کارروائی میں 15 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
حکام کے مطابق درجنوں مسلح افراد نے پیر کو کوئٹہ سے شمال مشرق میں تقریباً 70 کلومیٹر دور واقع ضلع زیارت کے علاقے مانگی میں مانگی ڈیم پراجیکٹ کے فیز تھری کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا جس پر پولیس اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی۔
زیارت میں واقع اس ڈیم سے پانی کی پائپ لائنیں کوئٹہ تک جاتی ہیں اس منصوبے پر کام کرنےوالے انجینئرز، مزدوروں اور ان کی حفاظت پر تعینات پولیس اہلکاروں پر اس سے پہلے بھی کئی حملے ہوچکے ہیں۔
ایس پی زیارت عبدالقدوس دہوار نے اردو نیوز کو بتایا کہ حملے کی اطلاع ملتے ہی زیارت اور قریبی تھانوں سے نفری روانہ کی گئی ۔ پولیس اہلکاروں اور شدت پسندوں کے درمیان کئی گھنٹوں تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔
ان کے مطابق ’اس جھڑپ میں ایس ایچ او مانگی محمد حسین، ایس ایچ او کچھ صحبت خان  اور سات دیگر پولیس اہلکار شہید ہوئے۔‘
پولیس کے مطابق پولیس افسران اور اہلکاروں کی لاشیں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال زیارت منتقل کردی گئی ہیں۔
ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس نے بتایا کہ نشانہ بننے والے اہلکار مختلف پولیس تھانوں سے تعلق رکھتے تھے اور حملے کی اطلاع ملنے پر اپنے ساتھیوں کی مدد کے لیے روانہ ہوئے تھے۔
اس سے پہلے واقعے کے بعد لاپتہ افراد کی تعداد کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آئے تھے۔
 ایس پی عبدالقدوس دہوار نے بعد میں وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ پہلے لاپتہ اہلکاروں کی تعداد زیادہ تھی ۔10 سے زائد اہلکار واپس قریبی تھانے تک  پہنچ گئے جبکہ 20 اہلکار اب بھی لاپتہ ہیں جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ انہیں اغوا کیا گیا ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شاہد رند نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’زیارت میں فتنہ الخوارج کے خلاف کلیئرنس آپریشن مکمل کرکے 15 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔

مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ لاپتہ یا اغوا ہونے والوں کی تعداد 20 سے زیادہ ہے۔ (فوٹو: روئٹرز)

ان کے مطابق فرنٹیئر کور (ایف سی)، بلوچستان پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی)، اسپیشل آپریشنز ونگ (ایس او ڈبلیو) اور اینٹی ٹیررسٹ فورس (اے ٹی ایف) نے مشترکہ کارروائی میں علاقے کو کلیئر کر لیا ہے۔
شاہد رند نے بتایا کہ ’حملے میں بلوچستان پولیس کے نو افسران اور اہلکار شہید ہوئے جن میں دو ایس ایچ او کے علاوہ اے ٹی ایف کے انچارج ہیڈ کانسٹیبل سیف اللہ بھی شامل ہیں۔
ان کے مطابق ڈی ایس پی غلام سرور سمیت آٹھ پولیس اہلکار دشوار گزار پہاڑی راستوں سے بحفاظت تھانہ کچھ پہنچ گئے جبکہ کانسٹیبل رضوان کو بھی بازیاب کرا لیا گیا ہے۔
شاہد رند کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان حکومت شہید پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے ۔ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ دہشت گردی کے خاتمے تک سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
زیارت پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ پیر کی صبح تقریباً دس بجے جدید اسلحے سے لیس درجنوں مسلح شدت پسند قریبی پہاڑوں سے اتر کر مانگی پراجیکٹ فیز تھری کی سکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کا محاصرہ کر لیا اس کے بعد قریبی تھانے کو بھی گھیرے میں لے لیا۔
انہوں نے بتایا کہ جب قریبی تھانوں سے اضافی نفری اور مقامی افراد مدد کے لیے موقع پر پہنچے تو حملہ آوروں نے انہیں بھی گھیرے میں لے لیا جس کے بعد دونوں جانب شدید جھڑپ شروع ہو گئی۔ ان کے بقول یہ لڑائی تقریباً 15 سے 20 گھنٹے تک جاری رہی جس میں متعدد پولیس اہلکار جان سے گئے۔
اہلکار کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد پولیس اہلکاروں سے کہیں زیادہ تھی اور ان کے پاس جدید خودکار ہتھیاروں کے علاوہ راکٹ لانچر اور دستی بم بھی موجود تھے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ محصور پولیس اہلکاروں کے پاس گولیاں محدود تھیں جو شام تک ختم ہو گئیں۔ اس کے بعد مسلح افراد نیچے اتر آئے اور پولیس اہلکاروں کو اغوا کر لیا۔
ان کے بقول رات کے وقت قریبی اضلاع سے مزید نفری متاثرہ مقام کے قریب تو پہنچ گئی  تاہم حملہ آوروں نے اردگرد کے پہاڑوں پر مورچے سنبھال رکھے تھے جس کی وجہ سے اہلکار محصور افراد تک نہیں پہنچ سکے۔
انہوں نے بتایا کہ پوری رات فائرنگ کا سلسلہ چلتا رہا۔ حملہ آور صبح روشنی ہونے سے پہلے فرار ہو گئے۔ بعد ازاں جب پولیس جائے وقوعہ تک پہنچی تو وہاں سے نو پولیس اہلکاروں کی لاشیں ملیں۔
اہلکار کے مطابق چند پولیس اہلکار پہاڑوں اور جھاڑیوں میں چھپ کر اپنی جان بچانے میں کامیاب رہے اور صبح ہوتے ہی واپس تھانے پہنچ گئے جبکہ کئی اہلکار اور مقامی افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔
دوسری جانب مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ لاپتہ یا اغوا ہونے والوں کی تعداد 20 سے زیادہ ہے جن میں پولیس اہلکاروں کے علاوہ وہ مقامی لوگ بھی شامل ہیں جو حملے کی اطلاع ملنے پر پولیس کی مدد کے لیے پہنچے تھے۔
واقعے کے بعد زیارت کے مقامی لوگوں نے زیارت کراس کے مقام پر احتجاج کرتے ہوئے کوئٹہ کو زیارت، ژوب اور ڈیرہ اسماعیل خان سے ملانے والی این-50 شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی۔
احتجاج میں شریک ریاض پانیزئی کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے کچھ تھانے اور اس سے ملحقہ علاقے کا محاصرہ کر رکھا تھا اور شدید فائرنگ کر رہے تھے۔
ان کے مطابق حملے کی اطلاع پر قریبی تھانوں سے پولیس اہلکار اور بڑی تعداد میں مقامی لوگ مدد کے لیے روانہ ہوئے  تاہم جھڑپیں شروع ہونے کے بعد محصور اہلکار کافی دیر تک مقابلہ کرتے رہے۔

شدت پسندوں کے حملے میں دو ایس ایچ اوز بھی مارے گئے۔

ریاض پانیزئی کا دعویٰ تھا کہ پولیس اہلکاروں کے پاس گولیاں ختم ہونے کے بعد حملہ آور 30 سے زائد پولیس اہلکار اور مقامی نوجوانوں کو اپنے ساتھ لے گئے جن میں سے کچھ اہلکاروں کی لاشیں بعد میں ملیں جبکہ کچھ اب بھی لاپتہ ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس کو بروقت مدد فراہم نہیں کی گئی۔ان کے بقول ’یہ حملہ دن کی روشنی میں شروع ہوا مگر رات گئے تک مؤثر مدد نہیں پہنچی جس کی وجہ سے اتنا بڑا جانی نقصان اٹھانا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ زیارت صوبے کا پرامن ترین علاقہ تھا لیکن اب اس کے امن کو بھی تباہ کردیا گیا ہے، مقامی لوگ عدم تحفظ کا شکار ہوچکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم مزید لاشیں نہیں اٹھانا چاہتے ہیں، ہمیں ہر صورت میں امن چاہیے، حکومت اس کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
خیال رہے زیارت کے ملحقہ پہاڑی علاقوں میں ماضی میں بلوچ علیحدگی پسند مسلح گروہوں کی جانب سے بھی کارروائیاں ہوتی رہی ہیں جبکہ بعض علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی موجودگی کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
ابھی تک کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ تاہم حکومتی ترجمان شاہد رند نے حملہ آوروں کے لیے ’فتنہ الخوارج‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے جو حکومت عموماً کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی جیسے مذہبی شدت پسند گروہوں) کے لیے استعمال کرتی ہے۔
یہ پہاڑی سلسلہ کوئٹہ کے نواحی علاقوں سرہ غوڑگئی اور ہنہ اوڑک سے بھی ملتا ہے  جہاں چند روز قبل مسلح افراد نے ایک گاؤں پر حملہ کر کے کم از کم چار مقامی نوجوانوں کو ہلاک اور آٹھ کو زخمی کر دیا تھا۔ حکام کے مطابق اس حملے کے دوران سات افراد کو اغوا بھی کیا گیا تھا۔
ہنہ اوڑک واقعے کے خلاف متاثرہ خاندان اور مقامی رہائشی گزشتہ تین روز سے کوئٹہ کے ایئرپورٹ روڈ پر دھرنا دیے ہوئے ہیں اور اغوا  ہونے والوں کی بازیابی سمیت دیگر مطالبات کر رہے ہیں۔

شیئر: