Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

زیارت میں شدت پسندوں کا حملہ، دو ایس ایچ او سمیت 9 پولیس اہلکار مارے گئے، متعدد لاپتہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع زیارت میں شدت پسندوں کے حملے میں کم از کم نو پولیس افسروں اور اہلکاروں کی موت ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق مرنے والوں میں دو تھانوں کے ایس ایچ او بھی شامل ہیں جبکہ متعدد اہلکاروں اور مقامی افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔
حکومت نے جوابی کارروائی میں 15 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
حکام کے مطابق درجنوں مسلح افراد نے پیر کو کوئٹہ سے شمال مشرق میں تقریباً 60 کلومیٹر دور واقع ضلع زیارت کے پولیس تھانہ کچھ کی حدود میں مانگی ڈیم پراجیکٹ کے فیز تھری کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا جس پر پولیس اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی۔
زیارت میں واقع اس ڈیم سے پانی کی پائپ لائنیں کوئٹہ تک جاتی ہیں اس منصوبے پر کام کرنےوالے انجینئرز، مزدوروں اور ان کی حفاظت پر تعینات پولیس اہلکاروں پر اس سے پہلے بھی کئی حملے ہوچکے ہیں۔
ایس پی زیارت عبدالقدوس دہوار نے اردو نیوز کو بتایا کہ حملے کی اطلاع ملتے ہی زیارت اور قریبی تھانوں سے نفری روانہ کی گئی ۔ پولیس اہلکاروں اور شدت پسندوں کے درمیان کئی گھنٹوں تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔
ان کے مطابق 'اس جھڑپ میں ایس ایچ او مانگی محمد حسین، ایس ایچ او کچھ صحبت خان  اور سات دیگر پولیس اہلکار شہید ہوئے'۔
پولیس کے مطابق پولیس افسران اور اہلکاروں کی لاشیں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال زیارت منتقل کردی گئی ہیں ۔
ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس نے بتایا کہ نشانہ بننے والے اہلکار مختلف پولیس تھانوں سے تعلق رکھتے تھے اور حملے کی اطلاع ملنے پر اپنے ساتھیوں کی مدد کے لیے روانہ ہوئے تھے۔
واقعے کے بعد لاپتہ افراد کی تعداد کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ پانچ پولیس اہلکاروں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے تاہم ایس پی عبدالقدوس دہوار کے مطابق  ابتدائی اطلاعات میں کچھ اہلکار لاپتہ بتائے گئے تھے  تاہم بعد میں نو اہلکار واپس اپنے تھانوں تک پہنچ گئےجبکہ باقیوں کے بارے میں معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان کے میڈیا معاون شاہد رند نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 'زیارت میں فتنہ الخوارج کے خلاف کلیئرنس آپریشن مکمل کرکے 15 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ '
ان کے مطابق فرنٹیئر کور (ایف سی)، بلوچستان پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی)، اسپیشل آپریشنز ونگ (ایس او ڈبلیو) اور اینٹی ٹیررسٹ فورس (اے ٹی ایف) نے مشترکہ کارروائی میں علاقے کو کلیئر کر لیا ہے۔
شاہد رند نے بتایا کہ 'حملے میں بلوچستان پولیس کے نو افسران اور اہلکار شہید ہوئے جن میں دو ایس ایچ اوز کے علاوہ اے ٹی ایف کے انچارج ہیڈ کانسٹیبل سیف اللہ بھی شامل ہیں۔'
ان کے مطابق ڈی ایس پی غلام سرور سمیت آٹھ پولیس اہلکار دشوار گزار پہاڑی راستوں سے بحفاظت تھانہ کچھ پہنچ گئے  جبکہ کانسٹیبل رضوان کو بھی بازیاب کرا لیا گیا ہے۔
شاہد رند کا کہنا تھا کہ 'بلوچستان حکومت جان سے شہید پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے ۔ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ دہشت گردی کے خاتمے تک سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔'
دوسری جانب مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ لاپتہ یا اغوا ہونے والوں کی تعداد 20 سے زیادہ ہے جن میں پولیس اہلکاروں کے علاوہ وہ مقامی لوگ بھی شامل ہیں جو حملے کی اطلاع ملنے پر پولیس کی مدد کے لیے پہنچے تھے۔
واقعے کے بعد زیارت کے مقامی لوگوں نے زیارت کراس کے مقام پر احتجاج کرتے ہوئے کوئٹہ کو زیارت، ژوب اور ڈیرہ اسماعیل خان سے ملانے والی این-50 شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی۔
احتجاج میں شریک ریاض پانیزئی کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے کچھ تھانے اور اس سے ملحقہ علاقے کا محاصرہ کر رکھا تھا اور شدید فائرنگ کر رہے تھے۔
ان کے مطابق حملے کی اطلاع پر قریبی تھانوں سے پولیس اہلکار اور بڑی تعداد میں مقامی لوگ مدد کے لیے روانہ ہوئے  تاہم جھڑپیں شروع ہونے کے بعد محصور اہلکار کافی دیر تک مقابلہ کرتے رہے۔
ریاض پانیزئی کا دعویٰ تھا کہ پولیس اہلکاروں کے پاس گولیاں ختم ہونے کے بعد حملہ آور 30 سے زائد پولیس اہلکار اور مقامی نوجوانوں کو اپنے ساتھ لے گئے  جن میں سے کچھ اہلکاروں کی لاشیں بعد میں ملیں جبکہ کچھ اب بھی لاپتہ ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس کو بروقت مدد فراہم نہیں کی گئی۔ان کے بقول 'یہ حملہ دن کی روشنی میں شروع ہوا مگر رات گئے تک مؤثر مدد نہیں پہنچی جس کی وجہ سے اتنا بڑا جانی نقصان اٹھانا پڑا۔'
ان کا کہنا تھا کہ زیارت صوبے کا پرامن ترین علاقہ تھا لیکن اب اس کے امن کو بھی تباہ کردیا گیا ہے، مقامی لوگ عدم تحفظ کا شکار ہوچکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم مزید لاشیں نہیں اٹھانا چاہتے ہیں، ہمیں ہر صورت میں امن چاہیے ، حکومت اس کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
خیال رہے زیارت کے ان سے ملحقہ پہاڑی علاقوں میں ماضی میں بلوچ علیحدگی پسند مسلح گروہوں کی جانب سے بھی کارروائیاں ہوتی رہی ہیں جبکہ بعض علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی موجودگی کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
ابھی تک کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ تاہم حکومتی ترجمان شاہد رند نے حملہ آوروں کے لیے 'فتنہ الخوارج' کی اصطلاح استعمال کی ہے  جو حکومت عموماً کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی جیسے مذہبی شدت پسند گروہوں کے لیے استعمال کرتی ہے۔
یہ پہاڑی سلسلہ کوئٹہ کے نواحی علاقوں سرہ غوڑگئی اور ہنہ اوڑک سے بھی ملتا ہے  جہاں چند روز قبل مسلح افراد نے ایک گاؤں پر حملہ کر کے کم از کم چار مقامی نوجوانوں کو ہلاک اور آٹھ کو زخمی کر دیا تھا۔ حکام کے مطابق اس حملے کے دوران سات افراد کو اغوا بھی کیا گیا تھا۔
ہنہ اوڑک واقعے کے خلاف متاثرہ خاندان اور مقامی رہائشی گزشتہ تین روز سے کوئٹہ کے ایئرپورٹ روڈ پر دھرنا دیے ہوئے ہیں اور اغوا  ہونے والوں کی بازیابی سمیت دیگر مطالبات کر رہے ہیں۔

شیئر: