Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا: طلبہ کے مظاہرے پر اے کے 47 رائفل سے فائرنگ کرنے والا پولیس اہلکار معطل

انڈین حکام نے مشرقی ریاست بہار میں تعلیمی سکینڈل کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر حملہ آور ہوتے ہوئے  اے کے 47 رائفل سے ہوائی فائرنگ کرنے والے ایک پولیس اہلکار کو معطل کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ واقعہ نوجوانوں کی اس ملک گیر احتجاجی لہر کے دوران پیش آیا ہے جس کے نتیجے میں وفاقی وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اور پولیس کی جانب سے تصدیق شدہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ریاست بہار کے شہر سیوان میں فسادات سے نمٹنے والی کِٹ میں ملبوس ایک پولیس اہلکار مظاہرین کی طرف بھاگتے ہوئے ہوا میں کم از کم تین فائر کرتا ہے۔
بہار پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل نلیش کمار نے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ سنگین جرائم سے نمٹنے والے انٹیلی جنس یونٹ کے اس کانسٹیبل کی جانب سے اے کے 47 کا استعمال بالکل غلط اور غیر منطقی تھا۔
انہوں نے بتایا کہ اہلکار کو معطل کر کے اس کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
احتجاج کی وجہ اور پھیلتا ہوا دائرہ
اس وقت انڈیا بھر میں طلبہ کا شدید احتجاج جاری ہے۔ اس تازہ لہر کی بنیادی وجہ رواں سال مئی میں میڈیکل کے داخلہ امتحان (نِیٹ) کے پرچے کا لیک ہونا تھا جس میں 20 لاکھ سے زائد طلبہ نے حصہ لیا تھا اور پرچہ لیک ہونے کے بعد یہ امتحان منسوخ کر کے دوبارہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طلبہ کے اس غصے کی وجہ صرف پیپر لیک ہونا نہیں بلکہ ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے باعث ملازمتیں ختم ہونے کا خوف بھی ہے جو نوجوانوں میں شدید بے چینی کا باعث بن رہا ہے۔

ڈپٹی انسپیکٹر نے بتایا کہ اہلکار کو معطل کر کے اس کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)

مظاہروں کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ اور دیگر طلبہ تنظیموں کے پانچ ہفتوں سے جاری مسلسل احتجاج کے بعد وزیراعظم نریندر مودی کے وزیر تعلیم کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔
پارلیمان میں شدید ہنگامہ آرائی
اس واقعے اور پولیس کے مبینہ تشدد کا معاملہ انڈین پارلیمان میں بھی گونج اٹھا جہاں اپوزیشن جماعت کانگریس کے سربراہ ملکارجن کھڑگے نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ’یہ ہماری تاریخ میں جمہوریت پر شدید ترین حملوں میں سے ایک ہے۔ اپنی آواز اٹھانے پر طلبہ کو اس طرح زد و کوب کرنا اور ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کرنا پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔‘
اپوزیشن کے شدید ہنگامے اور شٹ ڈاؤن کے باعث پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی کارروائی ملتوی کرنا پڑی۔
دوسری جانب عام شہریوں اور اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے بھی پولیس اقدامات پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
سپریم کورٹ کے جج جسٹس اجل بھویاں نے اپنے ایک حالیہ خطاب میں کہا کہ انڈیا میں اختلافِ رائے کے اظہار کا عوامی جگہوں پر دائرہ سکڑ رہا ہے جبکہ پرامن احتجاج اور اپنی رائے کا اظہار ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے۔

 

شیئر: