Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وسط مدتی الیکشن: صدر ٹرمپ کا ریپبلکنز کی جیت پر ہر امریکی کو 5000 ڈالر دینے کا اعلان

اقدام کو ریپبلکنز کی گرتی ہوئی مقبولیت کو بہتر بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے (فوٹو: اے پی)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وعدہ کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے میں کامیاب رہی تو ہر بالغ امریکی شہری کو پانچ ہزار ڈالر دیے جائیں گے۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اس اعلان کو ان کی جماعت کی گرتی ہوئی مقبولیت کو بہتر بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں آبادی کے حساب سے تخمینہ لگاتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اگر یہ متنازع وعدہ پورا کرنے کی نوبت آئی تو اس پر ممکنہ طور پر 10 ٹریلین ڈالر سے زائد خرچ ہوں گے اور اس کے لیے کانگریس کی مںظوری بھی درکار ہو گی۔
اس صورت میں امریکہ کے ایک اعشاریہ ٹریلین ڈالر کے سالانہ بجٹ خسارے میں مزید اضافہ ہو گا جس سے مہنگائی کے خدشات بھی بڑھیں گے۔
صدر ٹرمپ نے بدھ کو ڈیلس میں وسط مدتی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے نے کہا کہ ’اگر ریپبلکنز جیتتے ہیں تو آپ بھی ہمارے ساتھ جیتیں گے۔‘
انہوں نے اپنی اس مہم کو ’ٹرمپ ڈیوڈنڈ‘ کا نام دیا۔
انہوں نے اس اقدام کو کمپنیوں کی جانب سے شیئر ہولڈرز میں تقسیم ہونے والے معاہدے سے مشابہہ قرار دیا اور کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ ایک بڑی معاشی طاقت بن گیا ہے۔

امریکہ میں نومبر کے دوران وسط مدتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

ان کے اس بیان کے ایک گھنٹے کے اندر ہی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس تجویز کو جزوی طور پر واپس لینے کی کوشش کی اور وضاحت کی کہ یہ رقم امیر لوگوں کو نہیں دی جائے گی۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کی ادائیگی ممکنہ طور پر محصولات سے حاصل ہونے والی آمدنی سے کی جا سکتی ہے۔
تاہم مجوزہ رقم محصولات سے حاصل ہونے والی موجودہ آمدنی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
اس منصوبے کی مزید تفصیلات جاننے کے لیے بھجوائی گئی درخواست کا جواب وائٹ ہاؤس کی جانب سے نہیں دیا گیا۔
اس رقم کی ادائیگی کے لیے کانگریس کی منظوری یا رضامندی ضروری ہو گی۔

وسط مدتی انتخابات میں مقتدر جماعت کی کانگریس پر گرفت کی کمزوری کی روایت چلتی آ رہی ہے (فوٹو: روئٹرز)

پچھلے مہینے امریکہ کا قومی قرض پہلی بار 40 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گیا تھا۔
صدر ٹرمپ اکثر اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ اس نئے دور میں صدر کی پارٹی قریباً ہمیشہ ہی وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کی نشستیں کھو دیتی ہے اور وہ اس روایت کو توڑنے کے لیے غیر روایتی طریقے بھی ڈھونڈتے رہے ہیں۔
رواں ہفتے ہونے والا ریپبلکن کنونشن بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم اس روایت کو بدلنے جا رہے ہیں اور ایسی کوئی موجود نہیں کہ ایسا نہ ہو سکے۔‘
صدر ٹرمپ کے وعدے پر عمل کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہو گی تاہم نیو میکسیکو سے تعلق رکھنے والے وکیل جان ڈے کہنا ہے کہ یہ ایک قانونی قدم ہو گا کیونکہ رقم ہر شخص کو دی جائے گی، چاہے اس نے ووٹ دیا ہو یا نہ دیا ہو۔
یہ اقدام ارب پتی ایلون مسک کی جانب سے پچھلے برس ریاست وسکونسن کی یاد دلاتا ہے جس میں انہوں نے ایک امیدوار کی حمایت کے لیے ووٹرز کو لاکھوں ڈالر کے چیک دیے تھے تاہم وہ امیدوار ہار گیا تھا۔

 

شیئر: