سلامتی کونسل کا سعودی عرب سے اظہار یکجہتی اور حوثی حملوں کی مذمت، ’وسیع جنگ چھڑنے کا خطرہ‘
سلامتی کونسل کا سعودی عرب سے اظہار یکجہتی اور حوثی حملوں کی مذمت، ’وسیع جنگ چھڑنے کا خطرہ‘
جمعہ 11 ستمبر 2026 9:09
سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے کے بعد سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت کی اور متفقہ طور پر ریاض کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
رکن ممالک نے خبردار کیا کہ 2022 میں ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کے بعد پہلی بار یمن دوبارہ ایک مکمل جنگ کی طرف جا سکتا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق یمن کے معاملے پر سلامتی کونسل کے ذمہ دار ارکان برطانیہ اور بحرین کی درخواست پر ہنگامی اجلاس جمعرات کو بلایا گیا، جس کی وجہ آٹھ ستمبر کو حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف مقامات پر کیے گئے حملے تھے اور ان میں ایک فوجی بیس اور توانائی کی تنصیبات نشانہ بنیں۔
ان حملوں کے نتیجے میں کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی اور 73 افراد زخمی ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، حملوں کی وجہ سے جازان کی ایک بڑی ریفائنری کی سرگرمیاں بھی عارضی طور پر متاثر ہوئیں۔
یمن کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندے ہانس گرونڈبرگ نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ بڑے پیمانے پر ان کی جانب سے بار بار دی گئی ’وارننگز اب ایک تلخ حقیقت بن چکی ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ حوثیوں نے بندرگاہی شہر موخا پر قبضہ کر لیا ہے جس کی وجہ سے ان کو ’دنیا کی اہم ترین آبناؤں کے ساحلوں تک براہ راست رسائی‘ ملی ہے جس سے سمندر کی آزادانہ آمد و رفت کو مزید خدشات لاحق ہو گئے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ لڑائی ماریب، الجوف اور البیضا تک پھیل چکی ہے اور وہاں ہلاکتیں بھی ہوئیں جبکہ ماریب میں بے گھر افاد کے کیمپوں پر گولہ باری کی گئی جس کے نتیجے میں بچے مارے گئے اور پناہ گاہیں تباہ ہو گئیں۔
گرونڈ برگ کا کہنا تھا کہ ستمبر سے اب تک یمن میں ستمبر سے اب تک 11 ہزار چار سو سے زائد خاندان بے گھر ہو چکے ہیں اور مسلسل لڑائی مزید لوگوں کو بھی نقل مکانی پر مجبور کر رہی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اقوام متحدہ نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کی تنیصبات پر حملوں کی مذمت کی ہے جن میں درجنوں شہری زخمی ہوئے۔
منگل کو یمن کے حوثیوں کی جانب سے ہونے والے حملوں میں 73 افراد زخمی ہوئے تھے (فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے ایک بار حوثیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ یمن کے اندر اور سرحد پار حملے روکیں اور تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کا سلسلہ بھی بند کریں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ’یہ کشیدگی ملک کو ایک وسیع محاذ آرائی کی طرف لے جا سکتی ہے جس کے اثرات عالمی سطح پر مرتب ہوں گے۔
انہوں نے فریقین پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کریں اور سیاسی حل کی جانب بڑھنے کے عمل کو جاری رکھیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے براہ راست خطرہ ہیں اور خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک سعودی عرب کی سلامتی کو اپنی سلامتی کا ایک لازمی حصہ سمجھتے ہیں۔
خلیجی تعاون کونسل نے سعودی عرب کی جانب سے اپنے شہریوں اور املاک کے تحفظ کے لیے کیے گئے تمام اقدامات کی حمایت کی اور ان کو اپنے دفاع کے حق کے تحت جائز قرار دیا۔
کونسل نے سمندری سلامتی اور آزادانہ بحری آمد و رفت کو حوثیوں کی جانب سے لاحق خطرات کی بھی مذمت کی اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ ’حملوں کے ذمہ داروں اور ان کے معاونین سے جوابدہ ٹھہرایا جائے۔