Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’کاکروچ‘ تحریک کا نمایاں چہرہ 59 سالہ سونم وانگچک نے جین زی کو کیسے متحرک کیا؟

سونم وانگچک نے اپنی بھوگ ہڑتال کے دوران کہا کہ میں کوئی گاندھی نہیں، نہ ہی کوئی ہیرو ہوں۔ میں صرف ایک عام شہری ہوں (فوٹو: روئٹرز)
بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک اگرچہ ساٹھ برس کی عمر کے قریب ہیں، لیکن وہ ’کاکروچ‘ نامی جین زی تحریک کا نمایاں چہرہ بن کر ابھرے ہیں، جنہوں نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر 26 دن کی طویل بھوک ہڑتال کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی کے وزیرِ تعلیم دھرمندر پردھان کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا۔
برطانوی نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق سونم وانگچک کے بارے میں عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے ایک مشہور بالی وڈ فلم کے مرکزی کردار کو متاثر کیا، اور وہ زیادہ تر چین سے ملحقہ اپنے ہمالیائی خطے لداخ کے مسائل پر آواز اٹھانے کے لیے جانے جاتے ہیں۔
تاہم امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف ان کی بھوک ہڑتال، اور نوجوانوں کی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے دھرنے سے لاکھوں طلبہ متاثر ہوئے، جنہوں نے انہیں انڈین نوجوانوں میں نئی مقبولیت دلائی۔ اُن کی یہ حمایت ہی اس مسئلے کو ایک وسیع جین زی تحریک میں بدلنے کا باعث بنی، جس نے مودی حکومت پر دباؤ بڑھایا اور ان کی یہ تحریک بالآخر سنیچر کو وزیرِ تعلیم کے استعفے پر منتج ہوئی۔
دھرمندر پردھان کے استعفے کے بعد سونم وانگچک نے اپنے ہسپتال کے بستر سے کہا کہ ’یہ جمہوریت کی جیت ہے، براہِ راست جمہوریت کی اور یہ براہِ راست سڑکوں سے اُبھری ہے۔‘ وہ تقریباً ایک روز پہلے ہی اپنی ہڑتال ختم کرنے کے بعد ہسپتال منتقل ہوئے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ امن، صبر اور ثابت قدمی کی فتح ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی، ملک کی جین زی نسل اور تمام شہریوں کو مبارک ہو جنہوں نے خوف اور خوف کے خوف کو ترک کر کے ملک کے ہر کونے سے آواز بلند کی۔‘
اس سے قبل، جب دہلی پولیس نے ایک ہفتہ قبل ان کی بھوک ہڑتال کے دوران انہیں ہسپتال منتقل کیا، تو کچھ حلقے ان کا موازنہ بھارت کے آزادی کے ہیرو مہاتما گاندھی سے کرنے لگے تھے۔ سونم وانگچک کو پورے انڈیا سے تو حمایت ملی ہی بلکہ بالی وڈ اداکاروں کی جانب سے بھی ویڈیوز اور پیغامات کے ذریعے حمایت حاصل ہوئی۔
تاہم انہوں نے اپنی ہڑتال کے دوران کہا کہ ’میں کوئی گاندھی نہیں، نہ ہی کوئی ہیرو ہوں۔ میں صرف ایک عام شہری ہوں جس نے اپنی ذمہ داریوں سے منہ نہیں موڑا۔ دوسروں میں ہیرو مت تلاش کریں، اپنی زندگی کے ہیرو خود بنیں اور اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔‘
محبت سے ’سونم سر‘ کہلانے والے وانگچک کا شمار لداخ کی نمایاں شخصیات میں ہوتا ہے، کچھ معاشروں میں سونم کے معنی ’صلاحیت‘ اور ’نیکی‘ کے ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی تعلیمی اصلاحات اور پانی کے تحفظ کے منصوبوں کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ 2018 میں انہیں انہی خدمات کے اعتراف میں رامن میگسیسے ایوارڈ سے نوازا گیا، جسے ایشیا کا نوبیل انعام بھی کہا جاتا ہے۔

سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال، اور نوجوانوں کی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے دھرنے سے لاکھوں طلبہ متاثر ہوئے (فوٹو: روئٹرز)

سال 1966 میں لداخ کے دور افتادہ گاؤں اولایتوکپو میں پیدا ہونے والے سونم وانگچک نے 19 برس کی عمر میں کشمیر کے ایک سرکاری ادارے میں انجینئرنگ کی تعلیم کے دوران انگریزی اور ریاضی جیسے بنیادی مضامین کی کوچنگ شروع کی، جس سے سینکڑوں طلبہ مستفید ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے ’سٹوڈنٹس ایجوکیشنل اینڈ کلچرل موومنٹ آف لداخ‘ کی بنیاد رکھی۔
اپنے مقصد کے لیے جان دینے کو تیار
سونم وانگچک نے ماحولیاتی تبدیلی کے باعث پانی کی قلت بڑھنے پر ’آئس اسٹوپا‘ کے نام سے مصنوعی گلیشیئرز تیار کیے۔ سردیوں میں مخروطی شکل کے برفانی یہ ڈھانچے پانی ذخیرہ کرتے ہیں اور گرمیوں میں پگھل کر آبپاشی کے لیے پانی فراہم کرتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں وہ لداخ کے ماحولیاتی تحفظ اور زیادہ خودمختاری کے بڑے داعی بن کر سامنے آئے ہیں۔ سال 2025 میں انہیں اس خطے کو ریاست کا درجہ دینے کے مطالبے پر ہونے والے مہلک مظاہروں کے بعد تقریباً چھ ماہ قید بھی کاٹنا پڑی، تاہم انہوں نے تشدد بھڑکانے کے الزامات کی تردید کی۔
انڈین میڈیا کے مطابق، ان کے والد سونم وانگیال سابق ریاست جموں و کشمیر میں وزیر رہ چکے ہیں، جبکہ سابق وزیرِ اعظم اندرا گاندھی نے لداخ کے عوام کے لیے مخصوص سہولیات کے مطالبے پر ان کی ایک بھوک ہڑتال ختم کرانے میں کردار ادا کیا تھا۔

سونم وانگچک نے وزیرِتعلیم دھرمندر پردھان کے استعفے پر اپنے ہسپتال کے بستر سے کہا کہ یہ جمہوریت کی جیت ہے (فوٹو: فرنٹ لائن)

سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی جے اینگمو بھی شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں، اور وہ ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنے مقاصد کے لیے جان دینے کو بھی تیار ہیں۔
انہوں نے سنیچر کو اپنے ہسپتال کے بستر سے فتح کا نشان بناتے ہوئے کہا کہ ’اب احتساب سے آگے بڑھ کر اصلاحات کی جانب جانا ہے۔‘

شیئر: