Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بنگلہ دیش میں خسرہ کا بحران: ایک ہزار سے زائد بچوں کی ہلاکت

ڈی جی ایچ ایس کے ترجمان زاہد ریحان نے بتایا کہ اب تک ایک کروڑ 80 لاکھ سے زائد بچوں کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔ (فوٹو: اے پی)
بنگلہ دیش میں مارچ سے اب تک خسرہ کے باعث ایک ہزار سے زائد بچوں کی ہلاکت ہو چکی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزارت صحت کے حکام نے بدھ کے روز اعتراف کیا کہ ویکسینیشن مہم میں ناکامی اس وبا کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ بن سکتی ہے۔
170 ملین آبادی والے جنوبی ایشیائی ملک میں اب تک بچوں میں 1,002 اموات اور 187,484 خسرہ کے کیسز ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جس سے یہ رواں سال کی وبا گزشتہ کئی دہائیوں کی مہلک ترین وبا بن گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز  نے جاری کیے ہیں۔
خسرہ ایک انتہائی متعدی بیماری ہے، جو کھانسی اور چھینک کے ذریعے پھیلتی ہے، اور ایک بار بیماری لاحق ہونے کے بعد اس کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں۔
اس بیماری کی پیچیدگیوں میں دماغ میں سوجن اور سانس لینے میں شدید دشواری شامل ہیں۔ اگرچہ ہر عمر کا فرد اس کا شکار ہو سکتا ہے، تاہم کم عمر بچے اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
صحت حکام کی جانب سے بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مہم شروع کیے جانے کے باوجود بنگلہ دیش میں خسرہ کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔
ڈی جی ایچ ایس کے ترجمان زاہد ریحان نے بتایا کہ اب تک ایک کروڑ 80 لاکھ سے زائد بچوں کو ویکسین لگائی جا چکی ہے، جبکہ ٹیمیں ایسے بچوں کی تلاش میں ہیں جو ویکسین سے محروم رہ گئے۔
انہوں نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اجتماعی مدافعت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 40 لاکھ بچے ویکسینیشن مہم سے محروم رہ گئے، جس کے باعث کئی علاقوں میں بیماری کے پھیلاؤ کا خطرہ برقرار رہا اور ماہرین کے مطابق یہی وبا کے شدت اختیار کرنے کی ایک اہم وجہ بنی۔
زاہد رئیحان نے کہا، "خسرہ کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں، ہمارا مقصد اموات میں کمی لانا تھا۔ ہم اپنے بچوں کی ویکسینیشن کا عمل جاری رکھیں گے۔"
انہوں نے کہا کہ وبا پر قابو پانے کے لیے صرف ویکسین کافی نہیں، بلکہ بچوں میں پائی جانے والی دائمی غذائی قلت پر قابو پانا بھی ضروری ہے، کیونکہ غذائی قلت بیماری کی شدت میں اضافہ کرتی ہے۔
دوسری جانب خسرہ کے بڑھتے ہوئے بحران نے پہلے سے دباؤ کا شکار صحت کے نظام پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے، کیونکہ ملک میں اسی دوران ڈینگی کے مریضوں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
زاہد ریحان نے کہا، "جن اسپتالوں کی گنجائش 50 ڈینگی مریضوں کی تھی، وہاں اب 500 مریض زیر علاج ہیں۔"
محکمہ صحت کے مطابق صرف منگل کے روز ڈینگی سے 9 افراد فوت  ہوئے، جبکہ 1,571 نئے مریض ہسپتالوں میں داخل کیے گئے۔
رواں سال جنوری سے اب تک بنگلہ دیش میں 45,475 ڈینگی کیسز اور 130 اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔ جبکہ 2023 میں مچھروں سے پھیلنے والی اس بیماری کے تین لاکھ  21 ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے تھے، جو ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ تعداد تھی۔
جونئیر وزیر صحت ایم اے محیت نے خبردار کیا کہ آئندہ چند ہفتوں میں ڈینگی کے کیسز میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے بدھ کے روز ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "اگر ہم اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف رکھیں تو ڈینگی کے پھیلاؤ میں کمی آ سکتی ہے۔"
وزیراعظم طارق رحمان ہفتے کے روز ملک بھر میں تین ماہ پر محیط انسدادِ ڈینگی مہم کا افتتاح کریں گے۔

شیئر: