Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چین اور ایران نے جاسوسی کے لیے اے آئی استعمال کی، اینتھروپک کا انکشاف

اینتھروپک کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعات جنوری سے جولائی کے درمیان سامنے آئے (فوٹو: اے پی)
سان فرانسسکو کی اے آئی لیب اینتھروپک نے کہا ہے کہ اس نے چین، ایران اور مغربی افریقہ سمیت کئی ریاستی سرپرستی میں چلنے والے نگرانی کے منصوبے بند کیے ہیں جن میں اس کے مصنوعی ذہانت ماڈلز کا استعمال کیا گیا تھا۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق کمپنی نے خبردار کیا کہ حکومتیں اور ریاست سے منسلک عناصر اے آئی کو نسلی اقلیتوں اور مخالفین پر جاسوسی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
اینتھروپک کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعات جنوری سے جولائی کے درمیان سامنے آئے اور انہیں ناکام بنایا گیا۔ یہ منصوبے چین، ایران اور مغربی افریقہ سے شروع ہوئے تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ نگرانی مہمات انہی جلاوطن اور مخالف کمیونٹیز کو نشانہ بنا رہی تھیں جنہیں یہ حکومتیں تاریخی طور پر نشانہ بناتی رہی ہیں، جیسے ہانگ کانگ کے جمہوریت پسند رہنما، تبت اور فالون گونگ کمیونٹیز، اور بیرونِ ملک ایرانی اقلیتیں و حکومت مخالفین۔
ایک واقعے میں ایرانی عناصر نے لوگوں کو ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے شناخت کرنے کا طریقہ بنایا، جبکہ مالی کے قومی سلامتی حکام کے لیے کام کرنے والے ایک کنٹریکٹر نے کلاؤڈ کا استعمال کرتے ہوئے انٹیلیجنس جمع کرنے کے لیے بنیادی سافٹ ویئر تیار کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ’اب اے آئی انجینئرنگ ورک فورس کی جگہ استعمال ہو رہی ہے۔‘
اینتھروپک نے مزید بتایا کہ اس نے ایسے صارفین کی کوششیں بھی ناکام بنائیں جو ہتھیار بنانے، مشکوک حیاتیاتی تحقیق کرنے اور ڈیٹنگ فراڈ سکیمیں تیار کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
کمپنی نے الزام لگایا کہ چینی ڈویلپرز نے دھوکے سے کلاؤڈ کو استعمال کرتے ہوئے صارفین کے سوالات کے جوابات تیار کیے اور ساتھ ہی ان ڈیٹا کو اپنے ماڈلز بہتر بنانے کے لیے ’ڈسٹل‘ کیا۔ یہ عمل دراصل ایک اے آئی ماڈل کو دوسرے ماڈل کی تربیت کے لیے استعمال کرنے کا طریقہ ہے۔

درخواستوں میں حساس صارفین کا ڈیٹا بھی شامل تھا، جو پرائیویسی معاہدوں کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

اینتھروپک نے کہا کہ چین کی ’مون شاٹ‘ اور ’ڈپ سیک‘ نے بھی خفیہ طور پر کلاؤڈ کو استعمال کیا۔ رپورٹ کے مطابق ایک موقع پر مون شوٹ نے دس دن کے عرصے میں تقریباً تین لاکھ صارفین کی درخواستیں اینتھروپک کو بھیجیں، جو پانچ ہزار سے زائد جعلی اکاؤنٹس کے نیٹ ورک کے ذریعے کی گئیں، جن میں زیادہ تر سنگاپور اور جاپان میں موجود دکھائی دیتے تھے۔
ان درخواستوں میں حساس صارفین کا ڈیٹا بھی شامل تھا، جو پرائیویسی معاہدوں کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔
حیاتیاتی ہتھیاروں سے متعلق تحقیق کے بارے میں اینتھروپک نے کہا کہ اس میں شامل افراد سائنسدان تھے اور کمپنی نے ان کے نام یا لیبارٹریاں ظاہر نہیں کیں تاکہ انہیں نقصان نہ پہنچے۔ ان تحقیقات میں چکن گونیا وائرس، انتہائی خطرناک برڈ فلو، چیچک اور ایم پاکس جیسے وائرس، زہریلے مادے اور دیگر ٹاکسنز شامل تھے۔

 

شیئر: