چین کے صدر شی جن پنگ کی دہلی آمد: کیا انڈیا، چین تعلقات میں برف پگھلے گی؟
چین کے صدر شی جن پنگ کی دہلی آمد: کیا انڈیا، چین تعلقات میں برف پگھلے گی؟
جمعرات 10 ستمبر 2026 15:27
انڈین حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق چین اب انڈیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
چین کے صدر شی جن پنگ ہفتے کے روز ایک سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے انڈیا پہنچ رہے ہیں۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان برسوں کی کشیدگی کے بعد تعلقات میں محتاط بہتری کی جانب سب سے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شی جن پنگ کا 12 اور 13 ستمبر کو ہونے والے برکس اجلاس کے لیے انڈیا کا یہ دورہ اکتوبر 2019 کے بعد ان کا پہلا دورۂ انڈیا ہوگا۔ یہ دورہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے اگست 2025 میں چین کے دورے کے بعد ہو رہا ہے۔
جوہری طاقت رکھنے والے ان دونوں ایشیائی ممالک نے 2020 کی ایک خونریز سرحدی جھڑپ کے بعد آہستہ آہستہ اپنے تعلقات بہتر کیے ہیں۔ پروازیں، بعض ویزے اور اعلیٰ سطح کے رابطے بتدریج بحال ہوئے ہیں۔
تاہم گہری بداعتمادی اب بھی موجود ہے۔ ہمالیہ میں متنازع سرحد، چین کے ساتھ انڈیا کا بھاری تجارتی خسارہ اور دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی مسابقت تعلقات کو پیچیدہ بنائے ہوئے ہیں۔
اس حوالے سے یہاں جاننے کے لیے پانچ اہم باتیں ہیں:
سرحد سب سے پہلے
جون 2020 میں ہمالیائی سرحد پر ہونے والی جھڑپ نے دونوں ممالک کے تعلقات کو یکسر تبدیل کر دیا تھا۔ لداخ میں ہونے والی لڑائی میں 20 انڈین اور چار چینی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
اکتوبر 2024 میں بیجنگ اور نئی دہلی نے سرحد پر گشت کے انتظامات پر اتفاق کیا، جس کے بعد سیاسی رابطوں کی بحالی کی راہ ہموار ہوئی۔
لیکن بنیادی علاقائی تنازع اب بھی حل طلب ہے، اور دونوں ممالک تبت کے ساتھ تقریباً 3,500 کلومیٹر (2,175 میل) طویل، بلند پہاڑی سرحد پر بڑی تعداد میں فوجی تعینات کیے ہوئے ہیں۔
یونیورسٹی آف میلبورن کے چین، انڈیا امور کے ماہر پردیپ تنیجا کا کہنا ہے کہ ’جہاں تک سرحدی مسئلے کا تعلق ہے، وہ 'جلد اور نمایاں پیش رفت' چاہتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’آپ سرحد پر اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ نہیں کر سکتے... اور ساتھ ہی یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں عوامی سطح پر اور اقتصادی تعلقات جاری رکھنے چاہییں۔‘
دلائی لامہ بھی انڈیا میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ بدھ مت کے روحانی پیشوا نے 1959 میں چینی فوج کی جانب سے بغاوت کچلنے کے بعد تبت کے دارالحکومت لہاسا سے فرار ہو کر انڈیا میں پناہ لی تھی۔
بیجنگ دلائی لامہ کو باغی اور علیحدگی پسند قرار دیتا ہے۔
غیر مساوی تجارتی تعلقات
انڈین حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق چین اب انڈیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ مالی سال 2025-26 میں دونوں ممالک کے درمیان اشیا کی تجارت 151 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
لیکن یہ تجارتی تعلقات چین کے حق میں بہت زیادہ جھکے ہوئے ہیں۔
2024 کے بعد سے انڈیا اور چین کے تعلقات میں آہستہ آہستہ بہتری آئی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا نے چین سے 131 ارب ڈالر کی اشیا درآمد کیں، جبکہ چین کو انڈین برآمدات صرف 19 ارب ڈالر رہیں۔ اس طرح انڈیا کا ریکارڈ 112 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ سامنے آیا۔
مودی حکومت مقامی پیداوار کو فروغ دے رہی ہے اور مشینری، الیکٹرانکس، کیمیکلز اور صنعتی پرزہ جات کے لیے چین پر انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
انڈیا اور چین: شراکت دار بھی، حریف بھی
اندیا اور چین دونوں برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ہیں۔
پردیپ تنیجا کے مطابق، بیجنگ کے لیے شی جن پنگ کے انڈیا آنے کی ’بنیادی وجہ‘ برکس کو امریکہ کے زیرِ اثر عالمی اداروں کے ایک ’متبادل ادارے‘ کے طور پر مزید مضبوط کرنا ہے۔
لیکن اس کے باوجود دونوں ممالک ایک دوسرے کے حریف بھی ہیں۔
امریکہ کے ساتھ انڈیا کی سکیورٹی شراکت داری، جس میں جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ نام نہاد کواڈسکیورٹی اتحاد میں انڈیا بھی شامل ہے، چین کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
دوسری طرف، چین کے انڈیا کے سب سے بڑے حریف پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات کو نئی دہلی تشویش کی نظر سے دیکھتا ہے۔
ایشیا گروپ کے اشوک ملک نے کہا کہ ’صرف یہ حقیقت کہ صدر شی انڈیا آ رہے ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ... اگرچہ اس کی وجہ امریکہ کی وجہ سے پیدا ہونے والی عالمی بے چینی بھی ہو سکتی ہے، لیکن دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ قابلِ عمل تعلقات رکھنا چاہتے ہیں۔‘
اعتماد سازی کے اقدامات
2024 کے بعد سے انڈیا اور چین کے تعلقات میں آہستہ آہستہ بہتری آئی ہے۔
اس میں ہمالیہ کے سرحدی علاقے میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت دوبارہ شروع کرنے، ویزا کے عمل کو آسان بنانے اور انڈین شہریوں کو تبت میں واقع ماؤنٹ کیلاش کی اہم ہندو مذہبی یاترا دوبارہ کرنے کی اجازت دینے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
پانچ سال سے زیادہ عرصے تک معطل رہنے والی براہِ راست پروازیں اکتوبر 2025 میں دوبارہ شروع ہوئیں۔
انڈیا کی آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے ہرش وی پنت نے کہا کہ ’اب تعلقات کو دوبارہ درست راستے پر لایا جا رہا ہے۔‘
تاہم انہوں نے مزید کہا کہ ’لیکن یہ کسی بڑی یا ڈرامائی تبدیلی کے بجائے زیادہ تر تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش ہے۔‘
پیش رفت کا امتحان، کوئی بڑی کامیابی نہیں
مودی اور شی جن پنگ نے آخری مرتبہ اگست 2025 میں تیانجن میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر باضابطہ دوطرفہ مذاکرات کیے تھے۔
اسی ماہ بشکیک میں ہونے والے ایس سی او سربراہی اجلاس میں دونوں رہنماؤں کی مختصر ملاقات نے بھی تعلقات میں بہتری کا ایک عوامی اشارہ دیا۔
تاہم تجزیہ کار اب بھی محتاط ہیں۔ ہرش وی پنت نے کہا کہ ’انڈیا اور چین کے درمیان بداعتمادی بہت زیادہ ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’جب تک چینی رویے میں واضح اور قابلِ مشاہدہ تبدیلی نظر نہیں آتی، اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ انڈیا میں بہت سے لوگ انڈیا اور چین کی دوستی کے بیانیے کو قبول کریں گے۔‘