اگر آپ کا خیال ہے کہ محض تُکے لگا کر ’کون بنے گا کروڑپتی‘ جیسا شو جیتا جا سکتا ہے تو یقیناً ایسا نہیں، ہاں اگر عین درست وقت پر ابھرنے والی کھانسی ساتھ دے تو پھر آپ کروڑوں روپے نہیں بلکہ پاؤنڈز بھی جیت سکتے ہیں۔
اس پر اگر کسی کے ذہن میں یہ آتا ہے کہ میلینیئر شو سے کھانسی کا کیا تعلق ہے تو اگرچہ وہ اصولی طور پر غلط نہیں مگر تکنیکی لحاظ سے ہے ۔۔۔ کیسے؟
اس کے لیے مشہور برطانوی شو ’ہو وانٹس ٹو بی میلینیئر‘ میں ہونے والے ایک عجیب واقعے پر نظر ڈالنا ہو گی جس میں سوال و جواب کے بیچ بیک گراؤنڈ میں گونجتی دھک دھک کے ساتھ ہلکی سی ’کف کف‘ بھی ہوتی، جو بلاوجہ نہیں تھی۔
مزید پڑھیں
-
انڈیا میں خریدی گئی سموں کے ذریعے فراڈ کیسے ہوتا ہے؟Node ID: 759576
-
’کون بنے گا کروڑ پتی،‘ آٹھویں جماعت کے طالب علم کا ریکارڈNode ID: 816196
-
’آن لائن فراڈ‘، ایپس کی تشہیر کے لیے میڈیا اینکرز کا استعمالNode ID: 883701
اس واقعے کے بارے میں دی آرٹیکل، ٹیلی گراف، فینڈم اور میڈیم ڈاٹ جیسی کئی ویب سائٹس پر کافی مواد موجود ہے جبکہ یوٹیوب پر ویڈیوز بھی دستیاب ہیں۔
ہوا کیا تھا؟
برطانوی فوج کے ایک سابق میجر چارلس اینگرام 2001 میں مشہور شو ’ہو وانٹس ٹو بی میلینیئر‘ میں پہنچے، ہاٹ سیٹ پر براجمان ہونے سے قبل میزبان کریس ٹیرانٹ نے ان کا استقبال کیا جو اپنی اہلیہ ڈیانا اینگرام اور دوست ٹیکوین ویٹاک کے ساتھ پہنچے تھے۔
اس سے قبل ڈیانا اینگرام بھی شو میں حصہ لے چکی تھیں اور 32 ہزار پاؤنڈ جیت چکی تھیں۔
وہ دونوں آڈینس میں بیھٹے اور چارلس نے وہ اونچی کرسی سنبھالی ، جس کے سامنے کمپیوٹر سکرین اور پیچھے سینیما نما بڑی سکرین لگی تھی۔

چارلس اینگرام کافی پرجوش دکھائی دے رہے تھے اور میزبان کریس کیرانٹ کے ساتھ ہونے والی رسمی بات چیت میں انہوں نے بتایا کہ پروگرام میں شرکت کرنا ان کی بڑی خواہش تھی۔
پھر سوالات کا سلسلہ شروع ہوا، جس کے جواب لیے چار آپشنز دی جاتی ہیں، جن میں سے ایک یعنی درست کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔
اس پروگرام کا پیٹرن ایسا ہے کہ شروع میں آسان سوال ہوتے ہیں اور درست جواب پر رقم بھی تھوڑی ہوتی ہے جو آگے ضرب کھاتی جاتی ہے اور جوں جوں یہ سلسلہ آگے بڑھتا ہے سوالات بھی مشکل ہوتے جاتے ہیں۔
اس دوران حصہ لینے والے کو چند لائف لائنز بھی ملتی ہیں جو کہیں پھنس جانے پر استعمال کی جاتی ہیں۔
چارلس اینگرام سے پہلا سوال ’بورن ٹو ڈو اِٹ‘میوزک البم کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ کس کا تھا۔
اس کے جواب میں انہوں نے کافی وقت لیا او اس دوران اس کھانسی پر کسی نے دھیان نہیں دیا جو آڈینس میں سے آئی تھی۔

بہرحال چارلس نے درست جواب دیتے ہوئے ابتدائی رقم جیتی اور اس کے بعد یہ سلسلہ آگے بڑھتا رہا جو کچھ اقساط کے بعد اس آخری سوال تک بھی پہنچا جو انہیں 10 لاکھ پاؤنڈ دلانے والا تھا۔
اس سے قبل وہ اپنی لائف لائنز پوری کر چکے تھے یعنی ان کے پاس گنجائش بہت کم تھی اور آخری سوال کا درست جواب نہ دینے کی صورت میں وہ رقم سے محروم ہو سکتے تھے، مگر حیرت انگیز طور پر انہوں نے تمام سوالات کے جواب بالکل درست دیے۔
آخری اور 10 لاکھ پاؤنڈ کا سوال
10 لاکھ پاؤنڈز کے لیے کریس ٹیرانٹ نے پوچھا کہ ’اس ہندسے کو کیا کہا جاتا ہے جس میں ایک کے ساتھ 100 صفریں لگتی ہیں؟‘
جواب کے لیے گوگول، میگاٹرون، گیگا بٹ اور نینومول کی آپشنز سکرین پر ابھریں، جنہیں دیکھ کر چارلس کافی پریشان لگ رہے تھے، اس دوران دھک دھک کی گونج کچھ زیادہ ہو گئی۔
چارلس اینگرام سوچتے ہوئے بار بار چاروں آپشنز کو دوہراتے پھر کچھ کہنے لگتے مگر رک جاتے، جس سے عیاں تھا کہ وہ فیصلہ نہیں کر پا رہے۔
اس دوران میزبان بھی بار بار بتاتے کہ غلط جواب کی صورت میں وہ کتنی رقم سے محروم ہوں گے۔

بہرحال اس صورت کے بیچ بھی ایک دو بار وہی پراسرار کھانسی کی آواز آئی، جس کی طرف نہ پچھلی اقساط میں کسی نے دھیان دیاتھا نہ اس وقت دیا۔
سنسنی خیز ساڑھے نو منٹ اور پھٹا چیک
اس جواب سے قبل جو رقم چارلس اینگرام جیت چکے تھے، میزبان نے اس کا چیک سائن کر کے انہیں دے دیا تھا جو ظاہر ہے 10 لاکھ پاؤنڈ سے کافی کم تھا اور درست جواب نہ دینے کی صورت میں انہیں اسی پراکتفا کرنا پڑتا۔
اس سنسنی خیز صورت حال کا قریباً ساڑھے نو منٹ پر مشتمل کلپ یوٹیوب پر موجود ہے، چارلس اینگرام کبھی ایک آپشن کی طرف جاتے ہیں اور کبھی دوسری، اور بظاہر کھانسی کی اس آواز پر دھیان نہیں دے رہے تھے جو آپشنز دوہراتے ہوئے ابھرتی۔
بہرحال کافی وقت اسی کشمکش میں بیتتا ہے اور چارلس اینگرام جواب کے لیے ’گوگول‘ آپشن کو لاک کر دیتے ہیں۔

جس کے بعد صورت حال مزید گمبھیر لگنا شروع ہو جاتی کیونکہ ہوسٹ کا انداز بتاتا ہے کہ جیسے سب کچھ ختم ہو گیا اور ایسا ہی آڈینس کو بھی لگتا ہے جن میں بیٹھی چارلس کی اہلیہ بھی کافی پریشان دکھائی دیتی ہیں۔
یہ سسپنس یونہی کچھ دیر چلتا ہے، پھر کریس چارلس سے وہ چیک واپس مانگتے ہیں جو اس سے قبل دے چکے تھے، چارلس وہ جھجکتے ہوئے واپس کرتے ہیں اور کریس اسے تھامتے ہی پھاڑ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب آپ کو اس کی ضرورت نہیں کیونکہ 10 لاکھ کا انعام جیت چکے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی چارلس اینگرم جشن مناتے ہیں، ان کی اہلیہ بھی اٹھ کر سٹیج پر آتی ہیں اور انہیں 10 لاکھ پاؤنڈ کا چیک دے دیا جاتا ہے۔ یہ رقم دو تین روز میں ان کے اکاؤنٹ میں ٹرانفسر ہونا تھی، یعنی سب کچھ ٹھیک تھا اور سب خوشی خوشی لوٹ گئے۔
ہلکا سا شک، جس نے سب بدل دیا
اسی پروگرام کے پروڈیوسرز کی ٹیم میں شامل ایک ٹیم ممبر نے اس چیز پر دھیان دے دیا تھا جسے سب نے نظرانداز کیا مگر کسی کو بتایا نہیں اور سٹوڈیو میں جا کر ریکارڈنگز دوبارہ دیکھیں جبکہ غیر ایڈٹ شدہ ریکارڈنگز کو بھی دوبارہ چلایا تو پتہ چلا کہ کچھ گڑ بڑ ہے۔
اسی کی نشاندہی پر میزبان کریس کیرانٹ کے علاوہ ساری ٹیم نے ریکارڈنگز دوبارہ دیکھیں اور پولیس کو مطلع کردیا گیا۔

طریقہ واردت، ٹی وی کی تاریخ کا سب سے بڑا سکینڈل
پروگرام کی ٹیم نے دعویٰ کیا کہ چارلس اینگرم اپنے ساتھ اہلیہ اور دوست کو ساتھ لاتے مگر وہ ایک دوسرے دور سیٹس پر بیٹھتے، اہلیہ ڈیانا اینگرم پہلی نشستوں پر بیٹھتیں اور یہ اس طریقہ کار حصہ تھا۔
یہ طے کیا گیا تھا کہ چارلس پھنسنے کی صورت میں چاروں آپشنز کو سوچنے کے انداز میں دوہرائیں گے اور جب وہ درست آپشن پر آئیں گے تو دو دفعہ کھانسی کی آواز آئے گی۔
اسی طریقہ کار کے تحت انہیں سگنل ملتا رہا اور وہ اور وہ مقابلے میں آگے بڑھتے رہے۔
اس واقعے کو ٹی وی کی تاریخ کا سب سے بڑا سکینڈل بھی قرار دیا جاتا ہے۔
قانونی کارروائی اور سزا
سکینڈل کے سامنے آتے ہی قانونی کارروائی شروع ہوئی اور چارلس اینگرام، ڈیانا اینگرام اور ٹیکوین ویٹاک کو دھوکہ دہی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزا سنائی گئی جبکہ رقم کی ادائیگی کا عمل بھی روک دیا گیا۔
’دھوکہ نہیں کیا، تُکے لگائے‘
سماعت کے دوران چارلس کا موقف تھا کہ انہوں نے کوئی دھوکہ نہیں کیا اور تکے لگا کر درست جواب دیے۔












