آسٹریلیا میں سرفر شارک کے حملے سے زخمی، ہسپتال منتقل کر دیا گیا
آسٹریلیا میں سرفر شارک کے حملے سے زخمی، ہسپتال منتقل کر دیا گیا
پیر 14 ستمبر 2026 7:12
جنوری میں سڈنی ہاربر میں تیراکی کے دوران بھی ایک 12 سالہ لڑکا شارک کے حملے کا نشانہ بنا تھا (فوٹو: اے بی سی)
آسٹریلیا میں ایک شخص شارک کے حملے میں شدید زخمی ہو گیا جسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق محکمہ بنیادی صحت نے شارک کے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ جیرالڈٹن کے شمال میں واقع گلین فیلڈ بیچ پر پیش آیا جو کہ پرتھ سے 430 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق واقعہ پیر کی صبح اس وقت پیش آیا جب ایک شخص ساحل کے قریب سرفنگ کر رہا تھا، واقعے کی اطلاع 9 بج کر 45 منٹ پر سامنے آئی جس کے بعد متعلقہ حکام حرکت میں آ گئے اور محکمہ ماہی گیری کے حکام کے ساتھ مل کر ریسکیو آپریشن کیا۔
واقعے میں زخمی ہونے والے شخص کا نام رپورٹ میں شامل نہیں تاہم یہ بتایا گیا ہے کہ ان کی عمر 50 سال ہے۔
ان کو جیرالڈٹن کے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کو طبی امداد دی جا رہی ہے تاہم ان کی حالت کے حوالے سے مزید تفصیل نہیں بتائی گئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اطلاع سامنے آتے ہی ساحل کی طرف دو ایمبولینسز روانہ کر دی گئی تھیں۔
واقعے کے بعد حکام کی جانب سے لوگوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ساحل کے قریب محتاط رہیں۔
جنوری میں سڈنی ہاربر میں تیراکی کے دوران بھی ایک 12 سالہ لڑکا شارک کے حملے کا نشانہ بنا تھا، جس کی وجہ سے ہلاک ہو گیا تھا۔
مئی اور جون کے دوران الگ الگ واقعات میں تین غوطہ خور بھی شارک کے حملوں میں جان سے گئے تھے، ان میں سے ایک واقعہ آسٹریلیا کے مغربی حصے جبکہ دوسرا کوئینز لینڈ میں پیش آیا تھا۔
آسٹریلیا میں پہلے بھی انسانوں پر شارکس کے حملے ہوتے رہے ہیں (فائل فوٹو: اے بی سی)
جون میں ہی سڈنی کے ساحل کے قریب ایک خاتون پر شارک نے حملہ کیا تھا تاہم وہ خود کو چھڑانے میں کامیاب رہی تھیں تاہم ان کو کافی روز تک بے ہوش رکھا گیا اور بازو کا کچھ حصہ کاٹنا پڑا تھا۔
اعداد و شمار کے مطابق 1719 سے لے کر اب تک آسٹریلیا کے مختلف حصوں میں ایک ہزار تین سو کے قریب شارک کے حملوں کے واقعات ہو چکے ہیں، جن میں دو 60 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
آسٹریلوی سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ سمندروں میں انسانوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور پانی کے بڑھتے درجہ حرارت کی وجہ سے شارک کی نقل مکانی کے طریقے بدل رہے ہیں، جس کے باعث ایسے حملوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔