Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آسٹریلیا میں شارک کے حملے سے ایک شخص زخمی، ’ساحل کے قریب محتاط رہیں‘

رپورٹ کے مطابق واقعہ پیر کو جیرالڈٹن کے شمال میں واقع گلین فیلڈ بیچ پر پیش آیا (فوٹو: اے بی سی)
آسٹریلیا میں ایک شخص شارک کے حملے میں شدید زخمی ہو گیا جسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق محکمہ بنیادی صحت نے ’شارک کے حملے‘ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ جیرالڈٹن کے شمال میں واقع گلین فیلڈ بیچ پر پیش آیا جو کہ پرتھ سے 430 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق واقعہ پیر کی صبح پیش آیا جس کی اطلاع نو بج کر 45 منٹ پر سامنے آئی جس کے بعد متعلقہ حکام حرکت میں آ گئے اور محکمہ ماہی گیری کے حکام کے ساتھ مل کر ریسکیو آپریشن کیا۔
واقعے میں زخمی ہونے والے شخص کا نام رپورٹ میں شامل نہیں تاہم یہ بتایا گیا ہے کہ ان کی عمر 50 سال ہے۔
ان کو جیرالڈٹن کے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کو طبی امداد دی جا رہی ہے تاہم ان کی حالت کے حوالے سے مزید تفصیل نہیں بتائی گئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اطلاع سامنے آتے ہی ساحل کی طرف دو ایمبولینسز روانہ کر دی گئی تھیں۔
 واقعے کے بعد حکام کی جانب سے لوگوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ساحل کے قریب محتاط رہیں۔
آسٹریلیا میں شارک انسانوں پر حملوں کے واقعات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1791 سے لے کر اب تک شارک کے حملوں کے ایک ہزار تین سو کے قریب حملے ہو چکے ہیں، جن میں سے 260 مہلک ثابت ہوئے۔

آسٹریلیا میں پہلے بھی انسانوں پر شارکس کے حملے ہوتے رہے ہیں (فائل فوٹو: اے بی سی)

ماہرین کا خیال ہے کہ ایسے واقعات بڑھنے کی وجہ سمندروں میں انسانوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے علاوہ پانی کے درجہ حرارت کا بڑھنا بھی ہے اور اسی کی وجہ سے شارکس کی نقل مکانی کا طریقہ کار تبدیل ہو رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق آسٹریلیا کے سمندروں میں شارک کی 180 سے زائد قسمیں پائی جاتی ہیں جن میں کچھ بے ضرر بھی ہیں تاہم آسٹریلیا دنیا کے ان ممالک میں سر فہرست ہے جہاں انسانوں پر شارکس کے سب سے زیادہ حملے ہوتے ہیں۔
انسانوں پر حملوں کے واقعات کے ریکارڈ کے مطابق ان میں زیادہ تر حملے گریٹ وائٹ شارک، ٹائیگر شارک اور بل شارک کی جانب سے کیے گئے، بڑی جسامت اور جارحانہ مزاج رکھنے والی یہ مچھلیاں ساحلی علاقوں میں آنے کے علاوہ دریاؤں میں داخل ہونے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔

شیئر: