’کسی سیاسی جماعت کو سڑکیں بند کرنے کا کوئی اختیار نہیں‘، پی ٹی آئی کے ممکنہ لانگ مارچ پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ
فیصلے کے مطابق کوئی سرکاری افسر احتجاج یا ریلی میں شرکت پر مجبور کرنے والے حکم پر عملدرآمد نہ کرے (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے ممکنہ احتجاج اور لانگ مارچ سے متعلق درخواست نمٹا دی ہے۔
پیر کو چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں لارجر بینچ نے شہری وقاص احمد کی جانب سے دائر درخواست پر کیس کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ’کسی سیاسی جماعت یا رہنما کو عوامی سڑکوں، شاہراہوں یا دیگر مقامات پر قبضے کا قانونی حق نہیں، جبکہ کسی سیاسی جماعت یا رہنما کو شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنے کا بھی اختیار نہیں۔‘
اسلام آباد ہائی کورٹ نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ ’مارچ، جلوس یا ریلی کے لیے سرکاری وسائل استعمال نہ ہونے دیے جائیں۔‘
عدالت نے وزرائے اعلیٰ کو یقینی بنانے کی ہدایت کی کہ سرکاری فنڈز یا سرکاری افسران احتجاجی سرگرمیوں میں استعمال نہ ہوں۔
عدالت نے واضح کیا کہ ’مارچ، جلوس یا ریلی کے لیے سرکاری گاڑیاں، مشینری یا دیگر سرکاری سامان استعمال نہیں کیا جا سکتا اور کسی سرکاری ملازم کو احتجاج، مارچ یا ریلی میں شرکت پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔‘
اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ’کوئی سرکاری افسر احتجاج یا ریلی میں شرکت پر مجبور کرنے والے حکم پر عملدرآمد نہ کرے۔ کسی افسر کو زبردستی مجبور کیا جائے تو وہ فوری طور پر اپنے صوبے کے چیف سیکریٹری، چیف کمشنر یا آئی جی کو آگاہ کرے۔‘
عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ ’کوئی سرکاری افسر اپنے ماتحت اہلکاروں کو اسلام آباد کی جانب آنے والے کسی مارچ یا احتجاج میں شامل نہ ہونے دے۔‘
تحریری حکم میں اسلام آباد انتظامیہ اور وزارت داخلہ کو شہریوں کے آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
عدالت نے چیف سیکریٹریز، آئی جیز پولیس، وفاقی سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد کو عدالتی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ کسی سیاسی جماعت یا پبلک آفس ہولڈر کے پاس اسلام آباد کی سڑکیں بند کرنے کا اختیار نہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ اور ملک گیر احتجاج کی کال دے رکھی ہے جس کے تناظر میں شہری وقاص احمد نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔
شہری وقاص احمد نے اِس مجوزہ احتجاج کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ’اس ممکنہ احتجاج سے وفاقی دارالحکومت میں معمولاتِ زندگی، ٹریفک کی روانی اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں اور شہریوں کے آئینی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔‘
