30 جولائی کو 60 ہزار کے قریب تارکین سرحدی چوکی کو عبور کرتے ہوئے یا سمندر کے راستے تیر کر مراکش سے سیوتا پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
سپین اور وہاں سے دیگر یورپی ممالک پہنچنے کے خواہش مند ایسے افراد کی بڑی منزل ہے کیونکہ شمالی افریقہ میں مراکش کے ساحل پر واقع سیوتا جغرافیائی طور پر افریقہ میں ہے لیکن انتظامی طور پر سپین کا خودمختار شہر اور یورپی یونین کا حصہ ہے۔
سیوتا غیر قانونی تارکین کے اہم ترین مراکز کے علاوہ ایک تاریخی شہر بھی ہے۔۔ تفصیل اردو نیوز کے نامہ نگار ادیب یوسفزئی کی اس ڈیجیٹل رپورٹ میں