انڈین ریسلنگ فیڈریشن کے سابق صدر خواتین ریسلرز کے ساتھ جنسی ہراسانی کے مقدمے سے بری
انڈین ریسلنگ فیڈریشن کے سابق صدر خواتین ریسلرز کے ساتھ جنسی ہراسانی کے مقدمے سے بری
پیر 3 اگست 2026 17:38
بریج بھوشن شرن سنگھ خواتین ریسلرز کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی ہمیشہ تردید کرتے رہے (فائل فوٹو: اے این آئی)
انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کی ایک عدالت نے پیر کو انڈین ریسلنگ فیڈریشن کے سابق سربراہ بریج بھوشن شرن سنگھ کو خواتین ریسلرز کی جانب سے دائر کیے گئے جنسی ہراسانی کے مقدمے میں بری کر دیا۔
انڈیا کی جانب سے تمغے جیتنے والی متعدد خواتین ریسلرزنے بریج بھوشن شرن سنگھ پر جسمانی چھیڑ چھاڑ اور جنسی رعایتوں کا مطالبہ کرنے کے الزامات عائد کیے تھے، جن کی وہ ہمیشہ تردید کرتے رہے۔
واضح رہے کہ 69 برس کے بریج بھوشن شرن سنگھ، وزیراعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے پارلیمنٹ کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔
اس مقدمے کے بعد 2023 میں کئی ہفتوں تک ملک گیر احتجاج ہوا، جس کی قیادت عالمی چیمپئن ونیش پھوگاٹ اور اولمپکس میں برونز میڈل جیتنے والی ساکشی ملک سمیت دیگر نامور ریسلرز نے کی۔
بڑے پیمانے پر ہونے والے ان مظاہروں میں مظاہرین نے بریج بھوشن کو ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کی سربراہی سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔
برج بھوشن سنگھ کے وکیل راجیو موہن کا کہنا تھا ان کے مؤکل کو 'باعزت بری' کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق عدالت نے گواہوں کے بیانات میں تضادات اور اہم نکات پر واضح اختلافات کی بنیاد پر یہ فیصلہ سنایا۔
عدالتی فیصلے کے بعد برج بھوشن سنگھ کے حامیوں نے ان کی بریت کی خوشی میں آتش بازی کی، اُن پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور نعرے بازی کی۔
بعد ازاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بریج بھوشن شرن سنگھ نے کہا کہ 'میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ اگر مجھ پر جُرم ثابت ہوا تو میں خودکشی کر لوں گا۔ آج میں باعزت بری ہو کر آزاد ہوں۔'
دوسری جانب ریسلر ونیش پھوگاٹ نے موقف اختیار کیا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اعلٰی عدالت میں اپیل دائر کریں گی اور اپنی قانونی جدوجہد جاری رکھیں گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ 'ہمیں حکمران جماعت کے ایک طاقتور رہنما کے خلاف شکایت درج کروانے اور سڑکوں پر نکلنے کے لیے بہت ہمت درکار تھی۔'
سنہ 2023 میں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے دوران خواتین ریسلرز کو حراست میں لینے کی تصاویر وائرل ہو گئیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
واضح رہے کہ دہلی پولیس نے 2023 میں ہونے والے طویل احتجاج اور بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کے بعد بریج بھوشن شرن سنگھ پر خواتین پہلوانوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور ان کا تعاقب کرنے کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی تھی۔
یاد رہے کہ ریسلرز کے اس احتجاج نے انڈیا بھر میں توجہ حاصل کی تھی۔ متعدد معروف ریسلرز نے کئی روز تک نئی دہلی میں احتجاجی کیمپ لگائے رکھا اور حکام پر الزام لگایا کہ ان کی شکایات پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
اس دوران ونیش پھوگاٹ اور دیگر ریسلرز نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا تو انہیں حراست میں لے لیا گیا اور ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہوئی تھیں۔ بریج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف ایف آئی آرز اور شکایات
سات خواتین ریسلرز کی شکایت پر ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے سربراہ بریج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف درج ایف آئی آر میں کئی دیگر نکات بھی شامل ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق ’بریج بھوشن شرن سنگھ نے سانس چیک کرنے کے بہانے خواتین سے چھیڑ چھاڑ کی، ذاتی نوعیت کے سوالات پوچھے اور علاج کے اخراجات کے بدلے میں جنسی تعلق قائم کرنے کی پیش کش کی۔‘
خیال رہے کہ بریج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف نئی دہلی کے کناٹ پولیس سٹیشن میں 28 اپریل 2026 کو دو ایف آئی آرز درج کی گئیں جن میں خواتین ریسلرز اور ایک نابالغ ایتھلیٹ کے والد کی شکایات شامل تھیں۔
شکایات میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ایتھلیٹس نے بریج بھوشن شرن سنگھ سے بچنے کے لیے اپنے کمروں سے نکلنے کے بعد گروپ میں رہنا شروع کر دیا تھا، جس پر انہوں نے ایک ایک کر کے خواتین کو پاس بلایا اور نامناسب سوالات پوچھے جن کا جواب دینا ان کے لیے ناگوار تھا۔
ایک ایتھلیٹ کا کہنا تھا کہ ’سانس چیک کرنے کے لیے جب انہوں نے مجھے بلایا تو میری ٹی شرٹ کو کھینچا۔‘
’انہوں نے مجھے ایسی غذا کھلانے کی بھی پیش کش کی جس کی منظوری غذائی ماہر اور کوچ سے منظور شدہ نہیں۔ انہوں (بریج بھوشن شرن سنگھ) نے بتایا تھا کہ اس سے پرفارمنس بہتر ہوتی ہے۔‘