انڈین ریسلنگ فیڈریشن کے سابق صدر خواتین ریسلرز کی جانب سے دائر جنسی ہراسانی کے 'مشہور' مقدمے سے بری
انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کی ایک عدالت نے پیر کو انڈین ریسلنگ فیڈریشن کے سابق سربراہ برج بھوشن شرن سنگھ کو خواتین پہلوانوں کی جانب سے دائر کیے گئے جنسی ہراسانی کے مقدمے میں بری کر دیا۔
انڈیا کی جانب سے تمغے جیتنے والی متعدد خواتین ریسلرزنے برج بھوشن شرن سنگھ پر جسمانی چھیڑ چھاڑ اور جنسی رعایتوں کا مطالبہ کرنے کے الزامات عائد کیے تھے، جن کی وہ ہمیشہ تردید کرتے رہے۔
واضح رہے کہ 69 برس کے برج بھوشن شرن سنگھ، وزیراعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے پارلیمنٹ کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔
اس مقدمے کے بعد 2023 میں کئی ہفتوں تک ملک گیر احتجاج ہوا، جس کی قیادت عالمی چیمپئن ونیش پھوگاٹ اور اولمپکس میں برونز میڈل جیتنے والی ساکشی ملک سمیت دیگر نامور ریسلرز نے کی۔
بڑے پیمانے پر ہونے والے ان مظاہروں میں مظاہرین نے برج بھوشن کو ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کی سربراہی سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔
برج بھوشن سنگھ کے وکیل راجیو موہن کا کہنا تھا ان کے مؤکل کو 'باعزت بری' کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق عدالت نے گواہوں کے بیانات میں تضادات اور اہم نکات پر واضح اختلافات کی بنیاد پر یہ فیصلہ سنایا۔
عدالتی فیصلے کے بعد برج بھوشن سنگھ کے حامیوں نے ان کی بریت کی خوشی میں آتش بازی کی، اُن پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور نعرے بازی کی۔
بعد ازاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے برج بھوشن شرن سنگھ نے کہا کہ 'میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ اگر مجھ پر جُرم ثابت ہوا تو میں خودکشی کر لوں گا۔ آج میں باعزت بری ہو کر آزاد ہوں۔'
دوسری جانب ریسلر ونیش پھوگاٹ نے موقف اختیار کیا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اعلٰی عدالت میں اپیل دائر کریں گی اور اپنی قانونی جدوجہد جاری رکھیں گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ 'ہمیں حکمران جماعت کے ایک طاقتور رہنما کے خلاف شکایت درج کروانے اور سڑکوں پر نکلنے کے لیے بہت ہمت درکار تھی۔'
واضح رہے کہ دہلی پولیس نے 2023 میں ہونے والے طویل احتجاج اور بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کے بعد برج بھوشن شرن سنگھ پر خواتین پہلوانوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور ان کا تعاقب کرنے کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی تھی۔
یاد رہے کہ ریسلرز کے اس احتجاج نے انڈیا بھر میں توجہ حاصل کی تھی۔ متعدد معروف ریسلرز نے کئی روز تک نئی دہلی میں احتجاجی کیمپ لگائے رکھا اور حکام پر الزام لگایا کہ ان کی شکایات پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
اس دوران ونیش پھوگاٹ اور دیگر ریسلرز نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا تو انہیں حراست میں لے لیا گیا اور ان کیتصاویر سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہوئی تھیں۔
