ایران کے پاس خاتمے سے قبل آخری موقع ہے: صدر ڈونلڈ ٹرمپ
اسماعیل بقائی نے کہا کہ صرف عمان کے ساتھ معاہدہ ہو جانا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ تہران کی تردید کے باوجود ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں جبکہ اس کو ’خاتمے سے قبل آخری موقع‘ مل رہا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر ممالک کی درخواست پر ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
دوسری جانب پیر کو ایران کی وزارت خارجہ کی جانب سے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کی تردید کی گئی، تاہم امریکی صدر نے اصرار کیا کہ ’ہم اس وقت بھی بات چیت کر رہے ہیں۔‘
صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ’ایک اچھے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے یہ آخری موقع ہے، میں چاہتا ہوں کہ انہیں خاتمے سے قبل ایک موقع دیا جائے۔‘
اس سے قبل پیر کو ایران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی تردید پر انہوں نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک کوئی معاہدہ نہیں ہو جاتا یا ایران مکمل طور پر ہتھیار نہیں ڈال دیتا، اس وقت تک ایران کی فوجی ناکہ بندی برقرار رہے گی۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ایران کو ’دوغلا‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کھلے عام اور فخر سے یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہا۔
انہوں نے لکھا کہ ’ایران چاہے اس کا اعتراف کرے یا نہ کرے، حقیقت یہ ہے کہ ہم اس مسئلے کے حل پر بات کر رہے ہیں، جو انہوں نے کئی دہائیوں سے پیدا کر رکھا ہے۔‘
دوسری جانب، ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز کہا کہ تہران اس وقت امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کر رہا۔ انہوں نے بتایا کہ ایران اس وقت عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں عارضی محفوظ بحری راستہ قائم کرنے کے حوالے سے بات چیت کر رہا ہے۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ صرف عمان کے ساتھ معاہدہ ہو جانا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کافی نہیں ہوگا، کیونکہ جب تک امریکی ’جارحیت‘ جاری رہے گی، صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی
انہوں نے بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں ایک نیا بحری راستہ بنانے پر بات چیت ہو رہی ہے، جس میں داخلے اور اخراج کے لیے الگ الگ لینز (راستے) ہوں گے۔
بقائی کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ انہوں نے قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی اتحادیوں کے اصرار پر ایران کے خلاف نئے فضائی حملوں کا حکم دینے کا فیصلہ مؤخر کر دیا۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ امریکی افواج نے اتوار کے لیے ’دوسری جنگِ عظیم کے بعد سب سے بڑے حملے‘ کا منصوبہ تیار کر رکھا تھا، لیکن سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمیت اہم خلیجی رہنماؤں سے گفتگو اور بعض ایرانی حکام کی درخواست کے بعد انہوں نے حملہ منسوخ کر کے سفارتی کوششوں کو مزید وقت دینے کا فیصلہ کیا۔
صدر ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے ولی عہد سے پوچھا، آپ کیا چاہتے ہیں؟ کیا ہم حملہ کریں یا نہ کریں؟ انہوں نے کہا کہ ہم حملے کے بجائے معاہدے کو ترجیح دیں گے، کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ ایسے حملوں کا انجام کہاں تک جا سکتا ہے۔‘
صدر ٹرمپ اور سعودی ولی عہد کے درمیان ہفتے کے روز گفتگو ہوئی تھی، جس کے بعد امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے اتحادی تقریباً ایک ایسے معاہدے کے خدوخال پر متفق ہو چکے ہیں جس سے پانچ ماہ سے جاری جنگ ختم ہو سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ نئے مذاکرات پیر سے شروع ہوں گے، کیونکہ انہوں نے جنگ کو ختم کرنے کے لیے فوجی کارروائی کے بجائے سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان کے مطابق ان مذاکرات میں آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، اور بالآخر ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے پر بھی بات ہوگی۔
دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ وہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں نئے بحری راستے کے حوالے سے معاہدے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ اتوار کو اسی علاقے کے قریب ایک آئل ٹینکر میں دھماکے کی اطلاع بھی ملی، جس سے اس اہم آبی گزرگاہ کی غیر یقینی صورتحال ایک بار پھر نمایاں ہوئی۔
ٹرمپ کے مذاکرات کے اعلان کے بعد پیر کو ایشیائی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 4.7 فیصد گر کر 80.72 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی 28 فروری سے جاری ہے، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر اچانک حملے کیے تھے۔ اگرچہ اس دوران وقفے وقفے سے سفارتی کوششیں بھی ہوتی رہیں، جن کے باعث بعض اوقات حالات نسبتاً پرسکون رہے۔