Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اس وقت امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، ایران

ایران نے کہا ہے کہ وہ اس وقت امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کر رہا، بلکہ آبنائے ہرمز سے عارضی محفوظ راستہ بنانے کے حوالے سے عمان کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ بات پیر کے روز ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہی۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ صرف عمان کے ساتھ معاہدہ ہو جانا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کافی نہیں ہوگا، کیونکہ جب تک امریکی ’جارحیت‘ جاری رہے گی، صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں ایک نیا بحری راستہ بنانے پر بات چیت ہو رہی ہے، جس میں داخلے اور اخراج کے لیے الگ الگ لینز (راستے) ہوں گے۔
بقائی کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ انہوں نے قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی اتحادیوں کے اصرار پر ایران کے خلاف نئے فضائی حملوں کا حکم دینے کا فیصلہ مؤخر کر دیا۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ امریکی افواج نے اتوار کے لیے ’دوسری جنگِ عظیم کے بعد سب سے بڑے حملے‘ کا منصوبہ تیار کر رکھا تھا، لیکن سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمیت اہم خلیجی رہنماؤں سے گفتگو اور بعض ایرانی حکام کی درخواست کے بعد انہوں نے حملہ منسوخ کر کے سفارتی کوششوں کو مزید وقت دینے کا فیصلہ کیا۔
صدر ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے ولی عہد سے پوچھا، آپ کیا چاہتے ہیں؟ کیا ہم حملہ کریں یا نہ کریں؟ انہوں نے کہا کہ ہم حملے کے بجائے معاہدے کو ترجیح دیں گے، کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ ایسے حملوں کا انجام کہاں تک جا سکتا ہے۔‘
صدر ٹرمپ اور سعودی ولی عہد کے درمیان ہفتے کے روز گفتگو ہوئی تھی، جس کے بعد امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے اتحادی تقریباً ایک ایسے معاہدے کے خدوخال پر متفق ہو چکے ہیں جس سے پانچ ماہ سے جاری جنگ ختم ہو سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ نئے مذاکرات پیر سے شروع ہوں گے، کیونکہ انہوں نے جنگ کو ختم کرنے کے لیے فوجی کارروائی کے بجائے سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان کے مطابق ان مذاکرات میں آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، اور بالآخر ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے پر بھی بات ہوگی۔
دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ وہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں نئے بحری راستے کے حوالے سے معاہدے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ اتوار کو اسی علاقے کے قریب ایک آئل ٹینکر میں دھماکے کی اطلاع بھی ملی، جس سے اس اہم آبی گزرگاہ کی غیر یقینی صورتحال ایک بار پھر نمایاں ہوئی۔
ٹرمپ کے مذاکرات کے اعلان کے بعد پیر کو ایشیائی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 4.7 فیصد گر کر 80.72 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی 28 فروری سے جاری ہے، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر اچانک حملے کیے تھے۔ اگرچہ اس دوران وقفے وقفے سے سفارتی کوششیں بھی ہوتی رہیں، جن کے باعث بعض اوقات حالات نسبتاً پرسکون رہے۔

شیئر: