کشمیر میں 23 نشستوں پر کامیابی، کیا مسلم لیگ (ن) حکومت بنانے کے قریب ہے؟
پیر 3 اگست 2026 18:57
فرحان خان، اردو نیوز۔ اسلام آباد
پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں جاری کشیدگی، احتجاج اور پرتشدد واقعات کے درمیان عام انتخابات کے دوسرے مرحلے کے نتائج کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے مظفرآباد ڈویژن کے سات حلقوں کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے جن میں سے چار نشستوں پر مسلم لیگ (ن) جبکہ تین پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابی عمل کے دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن کے باقی ماندہ دو حلقوں (ایل اے 27 کوٹلہ اور ایل اے 28 لچھراٹ) کے ملتوی شدہ پولنگ سٹیشنز پر ووٹنگ منگل، چار اگست کو ہو گی جس کے لیے مقامی انتظامیہ نے ان علاقوں میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔
اس سے قبل 27 جولائی کو ہونے والے پہلے مرحلے کے دوران میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں کے نتائج کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جا چکا ہے جن میں سے 9 پر مسلم لیگ (ن) اور چار پر پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔
علاوہ ازیں پاکستان میں مقیم مہاجرین جموں کشمیر کے 12 حلقوں کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق بھی مسلم لیگ (ن) کے 10 امیدوار فتح یاب ہوئے ہیں۔
مظفرآباد ڈویژن کے حتمی نتائج
الیکشن کمیشن کے مطابق مظفرآباد ڈویژن سے اعلان کردہ نتائج کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
ایل اے 25 (نیلم 1): مسلم لیگ (ن) کے شاہ غلام قادر 19ہزار201 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ پیپلز پارٹی کے میاں عبد الوحید 13ہزار826 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔
ایل اے 26 (نیلم 2): پیپلز پارٹی کے میاں عبد الوحید 16ہزار 524 ووٹ حاصل کر کے فاتح رہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے شاہ غلام قادر 14ہزار501 ووٹ لے سکے۔
ایل اے 29 (مظفرآباد 3): پیپلز پارٹی کے سردار مختار احمد 20045 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے، مسلم لیگ ن کے بیرسٹر افتخار گیلانی 16ہزار 507 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔
ایل اے 30 (مظفرآباد 4): مسلم لیگ (ن) کے ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر 17 ہزار895 ووٹ حاصل کر کے پہلے نمبر پر رہے۔ 12 ہزار 323 ووٹ کے ساتھ مبشر منیر اعوان کا دوسرا نمبر تھا۔
ایل اے 31 (مظفرآباد 5): مسلم لیگ (ن) کے ثاقب مجید راجہ 32ہزار511 ووٹ لے کر فاتح رہے۔ پی پی پی کے چوہدری لطیف اکبر 23 ہزار 657 ووٹ لے سکے۔
ایل اے 32 (مظفرآباد 6): مسلم لیگ (ن) کے سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان 21 ہزار613 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ پیپلز پارٹی کے اشفاق ظفر 19ہزار274 ووٹ حاصل کر سکے۔
ایل اے 33 (مظفرآباد 7): پیپلز پارٹی کے دیوان علی خان 26ہزار 357 ووٹ لے کر فتح یاب ہوئے جبکہ 21 ہزار 841 ووٹ کے ساتھ پاکستان مسلم لیگ ن کے چوہدری محمد رشید دوسرے نمبر پر رہے۔
یوں اب تک ہونے والے الیکشن کے پہلے دو مرحلوں میں پاکستان میں برسراقتدار مسلم لیگ ن کو کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے 53 ارکان کے ایوان میں 23 نشستوں پر کامیابی حاصل ہے جبکہ پونچھ ڈویژن کی 11 نشستوں پر ابھی الیکشن ہونا باقی ہے۔
پولنگ کے دوران پرتشدد واقعات اور کم ٹرن آؤٹ
یہ انتخابات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب خطے میں شدید سیاسی بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔
دارالحکومت مظفرآباد میں پولنگ کے روز لوئر پلیٹ، چہلہ بانڈی اور بالا پیر سمیت متعدد علاقوں میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں دیکھنے کو ملیں جہاں پتھراؤ کے جواب میں پولیس نے شیلنگ اور فائرنگ کی۔
مظفرآباد میں موجود صحافی امیر الدین مغل نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’شہر کے اکثر پولنگ سٹیشنز پر ووٹرز کی آمد بہت کم رہی۔ ان کے مطابق پولنگ سے دو روز قبل شروع ہونے والے احتجاج کے باعث کاروباری مراکز بند رہے اور مظاہرین نے سیاسی جماعتوں کے بینرز اور پوسٹرز بھی نذرِ آتش کر دیے تھے۔‘
گزشتہ تین دنوں کے دوران مظفرآباد میں کشیدگی اور جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم تین افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں جبکہ پیر کے روز ضلع باغ کے علاقے قادر آباد میں بھی مظاہرین اور فورسز کے درمیان تصادم ہوا جہاں ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی گئی۔
دو ماہ سے جاری بحران اور حکومتی موقف
خطے میں گزشتہ دو ماہ سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت میں حقوق کی تحریک اور دھرنے جاری ہیں جن کے دوران ہونے والے پرتشدد واقعات اور فائرنگ سے اب تک 40 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
یہ اسی تحریک کا تسلسل ہے جو گزشتہ تین برسوں سے اس خطے میں چلی آ رہی ہے اور اس دوران کمیٹی اور حکومت کے درمیان کئی مذاکرات کے کئی دور بھی ہو چکے ہیں۔ 30 مئی کو مذاکرات کی ناکامی کے چن دن بعد حکومت نے جون کے پہلے ہفتے میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت اس تنظیم کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔
پیر کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کے سیکرٹری اطلاعات راشد حنیف نے حکومت کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’کالعدم تنظیم کے الزامات سکیورٹی اداروں کے خلاف مسلح کارروائیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہیں۔ 27 تا 31 جولائی کے دوران کالعدم تنظیم کے مسلح عناصر کی فائرنگ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 7 اہلکار شہید اور 45 سے زائد زخمی ہوئے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’سکیورٹی اداروں نے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور حکومت کے پاس کوئی لاش تحویل میں ہونے یا بلااشتعال فائرنگ کے الزامات درست نہیں ہیں۔ دوسری جانب، عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف رہا ہے کہ ان کی تحریک پرامن ہے اور فورسز کی جانب سے طاقت کا بے جا استعمال کیا جا رہا ہے۔‘
انٹرنیٹ بلیک آؤٹ اور آئندہ کا مرحلہ
خطے میں مواصلاتی نظام کی بندش نے بھی انتخابی عمل اور ابلاغ کو شدید متاثر کیا ہے۔ گزشتہ دو ماہ سے انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں۔ 31 جولائی کو مظفرآباد میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروسز جزوی طور پر بحال کی گئی تھیں تاہم اچانک مظاہرے پھوٹ پڑنے کے بعد اسے دوبارہ معطل کر دیا گیا۔ صحافیوں اور میڈیا نمائندگان کے لیے الیکشن کمیشن کے کیمپ آفس میں محدود انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی گئی۔
انتخابات کا تیسرا اور آخری مرحلہ 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں ہونا طے ہے جہاں راولاکوٹ سمیت دیگر علاقوں میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق آزاد امیدوار کی وفات کے باعث ملتوی ہونے والے حلقہ ایل اے 24 پونچھ و سدھنوتی (بلوچ) میں بھی اب پولنگ اسی روز ہو گی۔