کاکروچ تحریک نے نریندر مودی کے سیاسی امیج کو کس طرح اور کتنا نقصان پہنچایا؟
کاکروچ تحریک نے نریندر مودی کے سیاسی امیج کو کس طرح اور کتنا نقصان پہنچایا؟
منگل 4 اگست 2026 10:37
کاکروچ تحریک نریندر مودی کے لیے بہت بڑا چیلنج ثابت ہوئی (فوٹو: انڈیا ٹوڈے)
انڈیا کی سڑکوں پر کئی ہفتے تک رہنے والے نوجوان جب خود کو ’کاکروچ‘ کہتے ہوئے نکلے تو حکومت نے ان کو سنجیدہ نہیں لیا تھا مگر پھر جو ہوا وہ سب نے دیکھا اور وہ اپنا مطالبہ منوانے میں کامیاب رہے۔
خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ میں کاکروچ جنتا پارٹی کی اس جدوجہد پر بات کی گئی ہے جس نے نریندر مودی حکومت کو کافی نقصان پہنچایا۔
رپورٹ کے مطابق جین زی سے تعلق رکھنے والے ان لڑکے لڑکیوں نے جو حاصل کیا ہے وہ نریندر مودی کی حکومت سے 12 برس کے دوران کوئی اور نہیں لے پایا۔
نریندر مودی انڈیا کے ان چند بااثر ترین وزرائے اعظم میں سے ایک ہیں جنہوں نے فیصلہ کن اکثریت سے انتخابات جیتے اور ان کی حکومت کو عوامی دباؤ میں شاذ ہی آتے دیکھا گیا۔
تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ پچھلے ماہ جین زی کی تحریک نے جو کچھ بی جے پی حکومت کے ساتھ کیا وہ بہت اہم ہے جبکہ وزیر تعلیم کا استعفیٰ اس سے بھی زیادہ اہم نکتہ ہے۔
اس تحریک سے انڈیا میں 25 برس سے کم عمر کے افراد کا بڑھتا سیاسی اثر و رسوخ بھی نمایاں ہوا ہے جو بہت بڑی آبادی پر مشتمل ہے۔
اسی طرح اس موومنٹ سے نوجوانوں کی ڈیجیٹیل تنظیم سازی کی قوت بھی کھل کر سامنے آئی ہے۔
نریندر مودی کی سوانح عمری لکھنے والے سیاسی تجزیہ کار نلانجن مکھو پادھیا کا کہنا ہے کہ ’نوجوانوں کا احتجاج مسٹر مودی کی ایک اہم شکست پر منتج ہوا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ تعلیم کے استعفے سے ان لوگوں کو حوصلہ ملا ہے جو ایسی حکومت کے خلاف احتجاج سے خوفزدہ تھے جس پر تنقید کرنے والوں کو دبانے کے الزام لگتے رہے ہیں۔
تحریک کے دوران ہزاروں نوجوان کئی ہفتے تک سڑکوں پر رہے (فوٹو: اے ایف پی)
ان کے مطابق ’خوف کا عنصر ختم ہو چکا ہے، لوگ اب باہر نکلنے اور احتجاج کرنے سے نہیں ڈرتے۔‘
’سیاسی جماعت نہیں، واچ ڈاگ‘
طنز و مزاح پر مبنی جملوں اور کتبوں کے ساتھ احتجاج کا یہ سلسلہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے بعد شروع ہوا تھا جس میں وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ بار بار دوہرایا جاتا رہا۔
اس سلسلے کو جلد ہی ان نوجوانوں کی توجہ بھی مل گئی جو کاکروچ تحریک کا حصہ نہیں تھے مگر پھر اس کی حمایت میں نکلنا شروع ہوئے اور یہ احتجاج احتساب کی ایک وسیع تحریک میں تبدیل ہوتا گیا۔
اس کی بدولت ان لوگوں کو بھی اپنا غصہ نکالنے کا موقع ملا جو بے روزگاری، مناسب مواقع نہ ملنے اور حکومتی اداروں کے طرز عمل پر خوش نہیں تھے۔
مکھو پادھیا کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ پہلا موقع تھا کہ طلبہ کی قیادت میں چلنے والی تحریک نے تب تک اپنا اثر برقرار رکھا جب تک حکومت اس کا مرکزی مطالبہ ماننے پر مجبور نہیں ہو گئی۔
نوجوان وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ منوانے میں کامیاب رہے (فوٹو: اے ایف پی)
تاہم کاکروچ کی جانب سے اہم کامیابی حاصل ہو جانے کے بعد یہ بات ابھی تک واضح نہیں ہے کہ آیا نوجوانوں میں پھیلنے والے اس جذبے کو مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف پڑنے والے ووٹوں میں بدلا جا سکتا ہے یا نہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان سارو داس کا کہنا ہے کہ اس تحریک سے جمہوریت میں عوامی دباؤ کی طاقت ایک بار پھر ابھر کر سامنے آئی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ گروپ کوئی سیاسی جماعت بننے کے بجائے ایک واچ ڈاگ بن کر رہنا چاہتا ہے۔
ان کے مطابق ’ایک مغرور حکومت جو 12 برس میں ٹس سے مس نہیں ہوئی تھی، وہ متحد ہونے والے نوجوانوں کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو گئی۔‘
ان کے بقول ’ہم ایک پریشر گروپ کے طور پر کام کرنا چاہتے ہیں۔‘
یہ تحریک بی جے پی کے اندر کچھ تبدیلیوں کا موجب بنتی دکھائی دے رہی ہے۔
نوجوانوں کی یہ تحریک بی جے پی کے اندر تبدیلیوں کا باعث بھی بنی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
کئی ہفتے تک جاری رہنے والے اس احتجاج کے بعد اب وزیراعظم کی جو ویڈیوز سامنے آ رہی ہیں وہ عمودی شکل میں ہوتی ہیں جو کہ موبائل پر دیکھی جاتی ہیں۔
اس سے قبل ان کی ویڈیوز عام سی ہوتی تھیں، اسی طرح حکومت کی سوشل میڈیا ٹیمز بھی زیادہ متحرک دکھائی دینا شروع ہو گئی ہیں اور رہنماؤں کی تقاریر اور دوسری سرگرمیوں کی ویڈیوز کو زیادہ اپ لوڈ کیا جا رہا ہے جس کا مقصد جین زی کے ساتھ لنک بڑھانا ہے۔
اس وقت انڈیا کی کابینہ میں جو لوگ موجود ہیں ان میں زیادہ تر کی عمریں 60 برس یا اس سے زیادہ ہیں۔
خیال رہے نوجوانوں کو اس وقت ایک منفرد نام مل گیا تھا جب احتجاج کے بعد ملک کی سب سے بڑی عدالت نے ان کو ’کاکروچ‘ سے تشبیہہ دی تھی جس کے بعد اس کے سربراہ ابھیجیت دیپکے نے ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ ’سب کاکروچ اکٹھے ہو جائیں تو کیا ہو گا۔‘