ایک ہفتے میں دوسرا حملہ، آسٹریلیا میں شارک کے حملے سے تیراک ہلاک
پولیس کے مطابق تیراک شارک کے حملے کے نتیجے میں ہلاک ہوا (فوٹو: ڈیلی سن)
آسٹریلیا کے مغربی شہر پرتھ کے قریب ایک معروف ساحل پر شارک کے حملے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق مقامی پولیس نے بتایا ہے کہ ’جمعہ کی صبح سیرینٹو بیچ کے قریب سمندر میں تیراکی کے دوران ایک مرد تیراک کو شارک نے کاٹ لیا، جس کے نتیجے میں وہ جانبر نہ ہوسکا۔‘
مغربی آسٹریلیا کی ریاستی پولیس کی ترجمان نے بتایا کہ ’تیراک شارک کے حملے کے نتیجے میں ہلاک ہوا۔‘
واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد امدادی اداروں نے سیرینٹو بیچ کا رخ کیا، جبکہ پولیس کے ہیلی کاپٹروں اور کشتیوں کے ذریعے ساحل کے قریب سمندر میں تیراک کی تلاش کی گئی۔
حکام نے واقعے کے بعد اس علاقے کے ساحلوں کو آئندہ اطلاع تک بند کردیا ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق عینی شاہدین نے سمندر کے پانی میں خون دیکھا، جبکہ ایک عینی شاہد نے مقامی نشریاتی ادارے ’سیون‘ کو بتایا کہ منظر انتہائی خوفناک تھا۔
’سرف لائف سیونگ ڈبلیو اے‘ کے مطابق ’حملے میں شارک کی نسل کی شناخت نہیں ہوسکی، تاہم شارک نے ساحل سے تقریباً 50 میٹر دور تیراک پر حملہ کیا۔‘
یہ رواں ہفتے مغربی آسٹریلیا میں شارک کے حملے کا دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل پرتھ کے شمال میں گلنفیلڈ بیچ پر ایک شخص شارک کے حملے میں اپنی ٹانگ کا کچھ حصہ کھو بیٹھا تھا۔
آسٹریلیا میں رواں سال شارک کے حملوں میں متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ جنوری میں سڈنی ہاربر میں تیراکی کے دوران شارک کے کاٹنے سے 12 سالہ بچہ ہلاک ہوگیا تھا۔
مئی اور جون کے دوران الگ الگ واقعات میں تین غوطہ خور بھی شارک کے حملوں میں ہلاک ہوئے، جن میں دو واقعات مغربی آسٹریلیا اور ایک کوئنزلینڈ میں پیش آیا۔
جون میں سڈنی کے معروف کوگی بیچ پر شارک کے حملے میں ایک خاتون کے بائیں بازو کا کچھ حصہ کاٹنا پڑا تھا۔
ایک ڈیٹا بیس کے مطابق 1791 سے اب تک آسٹریلیا میں انسانوں اور شارکس کے درمیان تقریباً 13 سو واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں، جن میں 260 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
