کراچی میں پٹرولیم مصنوعات کی ریکارڈ قیمتوں اور آسمان چھوتی مہنگائی نے رکشہ ڈرائیوروں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ پٹرول 390 روپے اور ڈیزل 424 روپے فی لیٹر تک پہنچنے کے بعد دہاڑی دار ڈرائیوروں کے لیے روزمرہ کے اخراجات پورے کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ اگرچہ حکومت نے 16 ستمبر سے فیول سبسڈی کا آغاز کیا ہے، لیکن متاثرہ ڈرائیوروں کے مطابق یہ اقدامات ان کے معاشی بحران کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ روئٹرز کی رپورٹ