Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی سعودی عرب پر حملوں کی مذمت، حقِ دفاع کی حمایت

سلامتی کونسل نے سعودی عرب کی حمایت کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون کے تحت مملکت کے اپنے دفاع کے فطری حق کی توثیق کی (یو این فائل فوٹو)
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعے کے روز سعودی عرب کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے حوثی باغیوں کی جانب سے مملکت پر جاری حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ ریاض کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ حوثیوں کے سعودی سرزمین پر حملوں میں فی الحال کوئی کمی آتی دکھائی نہیں دے رہی۔
سلامتی کونسل کے ارکان نے ایک بیان میں مملکت کے خلاف حوثیوں کے جاری حملوں کی مذمت کی، جن میں شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ اِن حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد شہری زخمی ہوئے ہیں۔
کونسل نے براہِ راست ریاض کی حمایت کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون کے مطابق مملکت کے اپنے دفاع کے فطری حق کی توثیق کی اور مملکت پر شہریوں اور شہری تنصیبات کو متاثر کرنے والے حملوں کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔
سلامتی کونسل نے بحیرۂ احمر اور باب المندب میں تجارتی جہاز رانی کے خلاف حملوں اور دھمکیوں کی بھی مذمت کی۔ ارکان نے زور دیا کہ حوثی فورسز بین الاقوامی قانون اور بالخصوص اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے کنونشن کا احترام کریں اور آزادانہ بحری نقل و حرکت کو یقینی بنائیں۔
کونسل نے عملی تعاون پر بھی زور دیا، جس میں یمن کی حکومت کے ساتھ تعاون بھی شامل ہے جبکہ سلامتی کونسل نے یمن کے اندر بگڑتی ہوئی انسانی صورتِ حال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق حوثیوں کی تازہ کارروائیوں کے باعث ستمبر کے آغاز سے اب تک ملک بھر میں کم از کم ایک لاکھ 25 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
سلامتی کونسل کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کی خانہ جنگی میں کئی سال سے جاری جنگ بندی جولائی میں ختم ہونے کے بعد سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کا سلسلہ اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔
سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے مطابق 8 ستمبر کو ہونے والے حوثیوں کے حملوں کے ایک بڑے سلسلے میں 73 افراد زخمی ہوئے جبکہ یمن کی سرحد کے قریب سعودی توانائی کمپنی آرامکو کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا، جسے تنازع کے دوبارہ شدت اختیار کرنے کے بعد ہونے والے شدید ترین حملوں میں شمار کیا گیا۔
اس کے بعد ستمبر کے وسط تک خمیس مشیط، ابہا، جازان اور نجران کو تقریباً روزانہ حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ 14 ستمبر کو ہونے والے ایک حملے میں مزید 13 شہری زخمی ہوئے جبکہ گھروں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

شیئر: