اسرائیل کو میزائل تنصیبات کی معلومات دینے کے الزام میں ایرانی شہری کو پھانسی
عدالتی حکام کے مطابق یہ مقدمہ اس سے قبل میڈیا میں رپورٹ نہیں ہوا تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ایران کی عدلیہ نے اسرائیلی انٹیلی جنس کو ایرانی میزائل تنصیبات سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے الزام میں ایک شخص کو پھانسی دینے کا اعلان کیا ہے۔
اے ایف پی نے ایرانی عدالتی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ حسین پدران کو وسطی ایران کے صوبے اصفہان میں میزائل تنصیبات سے متعلق معلومات موساد کو فراہم کرنے کے الزام میں سزائے موت دی گئی۔
حکام نے یہ نہیں بتایا کہ حسین پدران کو کب گرفتار کیا گیا یا ان کے خلاف مقدمہ کب چلایا گیا۔
عدلیہ کے مطابق حسین پدران کو اسرائیل کے حق میں جاسوسی اور انٹیلی جنس تعاون کے الزامات کا سامنا تھا۔ ایرانی عدلیہ نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے بھی ان کی سزائے موت برقرار رکھی تھی۔
عدالتی حکام کے مطابق یہ مقدمہ اس سے قبل میڈیا میں رپورٹ نہیں ہوا تھا۔
ایرانی حکام نے فروری میں شروع ہونے والی مشرق وسطیٰ کی جنگ اور جنوری میں عروج پر پہنچنے والے ملک گیر احتجاج کے تناظر میں گرفتاریوں اور پھانسیوں میں اضافہ کیا ہے۔
جنگ کے دوران ایران کی متعدد میزائل تنصیبات کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔ جنگ کے آغاز میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی ہلاک ہوگئے تھے۔
ایران کا صوبہ اصفہان، جہاں ایرانی جوہری تنصیبات بھی موجود ہیں، جنگ کے دوران سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل رہا ہے۔
اگست میں بھی ایرانی عدلیہ نے دو افراد کو اسرائیل کو حساس فوجی اور سکیورٹی تنصیبات کے نقاط محل وقوع فراہم کرنے کے الزام میں پھانسی دینے کا اعلان کیا تھا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق چین کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ سزائے موت پر عمل درآمد ایران میں کیا جاتا ہے۔
