Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چینی صدر شی جن پنگ کا دورۂ امریکہ، صدر ٹرمپ ایئرپورٹ پر خود استقبال کریں گے

امریکہ اور چین کچھ غیر سٹریٹجک اشیا پر عائد ٹیرف میں کمی کے لیے تیار ہوسکتے ہیں (فائل فوٹو: روئٹرز)
چین کے سربراہ کا ایک دہائی سے زیادہ عرصے بعد پہلا سرکاری دورۂ امریکہ اگلے ہفتے ہونے جا رہا ہے، جب صدر شی جن پنگ واشنگٹن پہنچیں گے جہاں وہ وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اہم اور حساس معاملات پر مذاکرات کرنے کے علاوہ غیر رسمی رابطے بھی بڑھائیں گے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی ایک رپورٹ کے مطابق سینیئر امریکی انتظامی حکام نے جمعے کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بدھ کے روز جب شی جن پنگ کا طیارہ واشنگٹن کے مضافات میں واقع جوائنٹ بیس اینڈریوز پر اترے گا تو صدر ٹرمپ استقبال کے لیے خود وہاں موجود ہوں گے اور چینی صدر کا سرکاری دورے پر خیرمقدم کریں گے۔ یہ غیر معمولی بات ہے، کیونکہ صدر ٹرمپ عموماً غیر ملکی سربراہان سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کرتے ہیں۔
دورے کا اہم ترین مرحلہ جمعرات کو ہو گا، جب صدر ٹرمپ اور خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے سٹیٹ فلور پر اندرونِ عمارت منعقد ہونے والی استقبالیہ تقریب میں صدر شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پنگ لی یوان کا خیرمقدم کریں گے۔ صدر ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ روز گارڈن میں فوجی دستوں کا معائنہ بھی کریں گے، جس کے بعد دونوں رہنما بند کمرے میں مذاکرات کے لیے چلے جائیں گے۔
خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ اور پنگ لی یوان کی اس دوران الگ ملاقات ہوگی، جبکہ دونوں کے شوہر اہم مذاکرات میں مصروف ہوں گے۔ جمعے کو صحافیوں کو شی جن پنگ کے دورے کے بارے میں بریفنگ دینے والے حکام نے اس ملاقات کی مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔
سرکاری عشائیے کے مہمانوں کی فہرست جاری
جمعرات کی شب صدر شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پنگ لی یوان اس سرکاری عشائیے میں مہمانِ خصوصی ہوں گے جو صدر ٹرمپ اور خاتونِ اول وائٹ ہاؤس کے ایسٹ روم میں چینی وفد کے اعزاز میں دیں گے۔ صدر ٹرمپ نے اس عشائیے کو ایسا پروگرام قرار دیا ہے جس میں ہر کوئی شرکت کرنا چاہتا ہے۔ دونوں رہنما تقریب سے خطاب بھی کریں گے۔
ٹرمپ نے جمعے کو اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہزاروں لوگ اس عشائیے میں شرکت کرنا چاہیں گے۔‘
وائٹ ہاؤس نے سرکاری عشائیے کے کچھ مہمانوں کے نام جاری کر دیے ہیں اور وائٹ ہاؤس کے مطابق سرکاری عشائیے میں شرکت کرنے والے کاروباری رہنماؤں میں ایمازون کے بانی جیف بیزوس، ٹیسلا اور سپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک، گوگل کے سُندر پچائی، ڈیل ٹیکنالوجیز کے چیف ایگزیکٹو مائیکل ڈیل سمیت ٹیکنالوجی کے شعبے کی کئی اہم شخصیات شامل ہیں۔
بعدازاں جمعے کو شی جن پنگ اور پنگ لی یوان دوبارہ وائٹ ہاؤس آئیں گے، جہاں ان کی صدر ٹرمپ اور خاتونِ اول کے ساتھ چائے کی نجی نشست ہوگی۔ اس کے بعد ٹرمپ جوڑے کو نیشنل آرکائیوز کا دورہ کرائیں گے۔
ٹیرف، اے آئی اور نایاب معدنیات ایجنڈے میں
امریکی حکام نے دورے کے دیگر اہم اور پالیسی سے متعلق امور کے بارے میں کہا کہ امریکہ اور چین کچھ غیر سٹریٹجک اشیا پر عائد ٹیرف میں کمی کے لیے تیار ہوسکتے ہیں۔

صدر شی آخری بار ڈیموکریٹ صدر براک اوبامہ کے دورِ حکومت میں ستمبر 2015 میں امریکہ کے سرکاری دورے پر آئے تھے (فائل فوٹو: لاس اینجلس ٹائمز)

سینئر امریکی حکام نے صحافیوں کو دورے کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے ایسی محدود نوعیت کی اشیا متاثر ہوسکتی ہیں جس سے دونوں ممالک کو فائدہ پہنچے۔
حکام نے یہ اعتراف ضرور کیا کہ انہیں توقع نہیں کہ امریکہ اپنی برآمدی پابندیوں میں ایسی نرمی کے لیے تیار ہوگا جس سے نایاب معدنیات کی عالمی منڈی میں رسد میں نمایاں اضافہ ہوسکے۔ یہ معدنیات مصنوعات کی ایک وسیع رینج میں استعمال ہونے والے اہم اجزا ہیں۔
امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ ہفتے کے اختتام پر الگ سے نیویارک میں چین کے نائب وزیرِ اعظم حے لِفِنگ سے ملاقات کریں گے، جس میں متعدد اقتصادی امور پر بات ہوگی۔ منصوبے سے واقف ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ کہا کہ مصنوعی ذہانت بھی مذاکرات کا ایک اہم موضوع ہوگی۔
ایجنڈے میں چین کے پاس موجود نایاب معدنیات کے ذخائر بھی شامل ہوں گے، جو سمارٹ فونز سے لے کر لڑاکا طیاروں تک ہر چیز کی تیاری کے لیے ضروری ہیں۔ بیجنگ نے ان معدنیات پر اپنی تقریباً اجارہ داری کو امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے استعمال کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مئی میں چین کا دورہ کیا تھا اور اپنے پہلے صدارتی دور میں بھی وہاں گئے تھے، جہاں انہوں نے شی جن پنگ سے مذاکرات کیے تھے۔ اس موقع پر چینی صدر نے اپنے امریکی ہم منصب کا انتہائی پرتکلف استقبال کیا تھا۔
شی جن پنگ آخری مرتبہ ستمبر 2015 میں امریکہ کے سرکاری دورے پر آئے تھے، جب ڈیموکریٹ صدر براک اوباما کے دورِ حکومت میں انہوں نے امریکہ کا دورہ کیا تھا۔

شیئر: