Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کابل ایئرپورٹ پر حملے میں ملوث افغان شہری شریف اللہ کو 20 سال کی قید کی سزا

2021 میں ہونے والے اس حملے میں کم سے کم 170 افغان شہری اور 13 امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے (فائل فوٹو: اے پی)
امریکہ میں ایک افغان شہری کو تنظیم داعش کی ایک شاخ کو مدد فراہم کرنے پر 20 برس کی سزا سنائی گئی ہے، یہ وہی گروپ ہے جو 2021 میں کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے خودکش حملے میں ملوث تھا۔
داعش خراسان (آئی ایس کے) کے رکن محمد شریف اللہ کو اپریل میں ورجینیا کی وفاقی عدالت نے دہشت گرد تنظیم کو مادی مدد فراہم کرنے کا مجرم قرار دیا تھا۔
استغاثہ کی جانب سے شریف اللہ کو کابل ایئرپورٹ پر حملے کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی تاہم جیوری اس حملے میں ملزم میں کے کردار کی حد پر متفق نہیں ہو سکی۔
اس حملے میں کم سے کم 170 افغان شہری اور 13 امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
جیوری نے شریف اللہ کو داعش خراسان کو مدد فراہم کرنے کی سازش کے جرم میں قصور وار قرار دیا تاہم دو روز کے غور و خوص کے بعد کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے خودکش دھماکے میں اس کے مبینہ کردار کے بارے میں کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پچھلے برس کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے شریف اللہ کو کابل ایئر پورٹ پر حملے کا ’اہم ترین دہشت گرد‘ قرار دیا تھا۔
استغاثہ کے مطابق شریف اللہ نے ایئر پورٹ جانے والے راستے کی پہلے مانیٹرنگ کی تھی، بعد میں اسی راستے پر ایک خودکش بمبار نے ان لوگوں کو نشانہ بنایا جو طالبان کے کابل پر قبضے کی وجہ سے ملک سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

اگست 2021 میں امریکی افواج کے نکلتے ہی طالبان نے ایک بار پھر ملک پر قبضہ کر لیا تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

امریکہ نے اگست 2021 میں افغانستان سے باقی کے فوجی بھی واپس بلا لیے تھے جس کے ساتھ ہی افغان شہریوں میں افراتفری پھیل گئی کیونکہ طالبان واپس آنے لگے تھے اس لیے ہزاروں افغان شہریوں نے ملک سے فرار ہونے کی کوشش کی جن میں کابل ایئر پورٹ سے بیرون ملک جانے والے جہازوں پر سوار ہونے کی کوششیں بھی شامل تھیں۔
شریف اللہ کو مارچ 2025 میں پاکستان نے امریکہ کے حوالے کیا تھا جہاں بعدازاں دارالحکومت واشنگٹن کے ایک مضافاتی شہر الیگزینڈریا میں ان کے خلاف مقدمہ چلایا گیا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ شریف اللہ 2016 سے 2025 میں گرفتاری تک، داعش خراسان کی جانب سے ہونے والے کئی حملوں میں ملوث رہا ہے۔
ان حملوں میں جون 2016 میں کابل میں کینیڈین سفارت خانے کی حفاظت پر مامور نیپالی سکیورٹی گارڈز پر ہونے والا خودکش حملہ بھی شامل تھا۔
شریف اللہ پر الزام تھا کہ انہوں نے حملے سے قبل علاقے کی نگرانی کی اور خودکش حملہ آور تک مطلوبہ مقام تک پہنچایا۔
یہ الزام بھی عائد کیا گیا تھا کہ شریف اللہ نے مارچ 2024 میں ماسکو کے قریب کروکس سٹی ہال پر حملہ کرنے والے داعش خراسان کے کارکنوں کو ہتھیار چلانے کی تربیت بھی دی تھی۔

شیئر: