انڈیا کے ایوانِ زیریں (لوک سبھا) نے بدھ کے روز ایک ایسا بل منظور کیا ہے جس کے تحت امتحانی پرچے لیک کرنے پر سزاؤں کو مزید سخت کیا جائے گا۔
یہ اقدام نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد سامنے آیا، جن میں تعلیمی نظام میں وسیع اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا تھا اور ان مظاہروں کے باعث ہی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔
نئے قانون کے تحت امتحانی پرچے لیک کرنے میں ملوث افراد کے لیے زیادہ سے زیادہ قید کی سزا دوگنی کر کے 10 سال کر دی گئی ہے، جبکہ جرمانے کی زیادہ سے زیادہ حد بڑھا کر 10 لاکھ ڈالر سے بھی زیادہ کر دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں
انڈیا کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق، قانون سازوں نے گھنٹوں جاری رہنے والی ہنگامہ خیز بحث کے بعد اس بل کی منظوری دی۔
اب یہ بل ایوانِ بالا (راجیہ سبھا) میں پیش کیا جائے گا، جہاں وزیرِ اعظم نریندر مودی کے حکمران اتحاد کو اکثریت حاصل ہے۔
یہ ووٹنگ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف کئی ہفتوں سے جاری بڑے پیمانے پر ہونے والے احتجاج کے بعد ہوئی، جو بالآخر ہفتے کے روز وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے پر منتج ہوا تھا۔
یہ احتجاجی مظاہرے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘کی قیادت میں ہوئے، جنہیں ملک بھر کے طلبہ کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی اور انہوں نے مودی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج پیدا کر دیا۔
مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے کہا کہ وہ تعلیمی نظام کی موجودہ صورتِ حال پر نوجوانوں کی مایوسی کا بخوبی ادراک رکھتے ہیں۔

انہوں نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ غصہ نہیں تھا، یہ نفرت نہیں تھی، بلکہ یہ اس ملک کے نوجوانوں، اس کے مستقبل کی ایک گہری آواز تھی، اور میرا خیال ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ان کی رائے کا احترام کرنا چاہیے۔‘
سینئر وزیر جتیندر سنگھ نے منگل کے روز پارلیمان کو بتایا کہ یہ ترامیم طلبہ اور نوجوانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے حکومت کے ’گہرے عزم‘ کی عکاسی کرتی ہیں جنہیں کابینہ نے گزشتہ ہفتے منظور کیا تھا۔
وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے ووٹنگ کے بعد اس بل کو ’انڈیا کے امتحانی نظام کی شفافیت کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت‘ قرار دیا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ’یہ بل سخت سزاؤں، خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتوں، مقررہ مدت میں تفتیش، خصوصی سرکاری وکلا اور تیز رفتار اپیل کے نظام کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے، تاکہ پرچہ لیک کرنے اور منظم امتحانی دھوکہ دہی میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔‘
دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں تیز رفتار معاشی ترقی کے باوجود لاکھوں نوجوانوں کو مناسب تنخواہ والی ملازمتوں کی کمی اور کیریئر کے حصول کے لیے شدید مقابلے کا سامنا ہے۔
کامیابی کے اس شدید دباؤ نے کوچنگ سینٹرز کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کر دیا ہے جس کے باعث جرائم پیشہ گروہوں کے لیے یہ موقع پیدا ہوا ہے کہ وہ لیک شدہ امتحانی سوالات فروخت کر کے منافع کمائیں۔
حکومت کی بار بار کی کارروائیوں کے باوجود امتحانی پرچے لیک ہونے کے ایسے واقعات قومی اور ریاستی سطح کے امتحانات میں ایک مستقل مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔
’سڑکوں پر نکل آئیں گے‘
نئی دہلی میں پرچوں کی لیک کے خلاف مظاہرے 20 جولائی کو اس وقت پرتشدد رُخ اختیار کر گئے جب بڑی تعداد میں مظاہرین نے دارالحکومت کے احتجاجی مرکز جنتر منتر سے پارلیمان کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی۔
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور لاٹھی چارج کیا، جس کے نتیجے میں جھڑپیں ہوئیں اور متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔
پارلیمان گزشتہ ہفتے اپنے مون سون اجلاس کے لیے دوبارہ جمع ہوئی، تاہم ابتدائی چند دن اپوزیشن ارکان کی جانب سے طلبہ کے احتجاج پر پولیس کریک ڈاؤن کے حوالے سے جواب مانگنے کے باعث بار بار متاثر ہوتے رہے۔
سپریم کورٹ نے منگل کے روز حکم دیا کہ 18 سال سے کم عمر اور کسی مجرمانہ ریکارڈ کے بغیر تمام زیرِ حراست مظاہرین کو رہا کیا جائے۔













