انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کی نئی ویڈیو پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے طنزیہ تبصرہ کیا ہے۔
نریندر مودی نے جمعرات کو سوشل میڈیا پر ایک سیلفی انداز کی ویڈیو جاری کی، جس میں انہوں نے پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے ’پبلک ایگزامینیشنز (پریوینشن آف انفئیر مینز) ترمیمی بل 2026‘ کا خیرمقدم کیا۔
مزید پڑھیں
-
فیس بک سے نریندر مودی کے خطاب کی ویڈیو غائب، وجہ کیا تھی؟Node ID: 906886
مودی نے کہا کہ یہ قانون ملک میں امتحانی نظام کو زیادہ شفاف اور قابلِ اعتماد بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امتحانی پرچے لیک کرنے والے عناصر، جنہیں انہوں نے ’پیپر مافیا‘ کہا، کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی اور حکومت ٹیکنالوجی اور سخت قوانین کے ذریعے امتحانی نظام کو مزید بہتر بنائے گی۔
وزیراعظم مودی نے ویڈیو میں کہا کہ حکومت ٹیکنالوجی، شفافیت اور سخت قوانین کے ذریعے امتحانی نظام کو مزید قابلِ اعتماد بنانے کے لیے اصلاحات جاری رکھے گی۔
تاہم مودی کی اس ویڈیو پر انسٹاگرام پر تبصرہ کرتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے لکھا، ’آپ کی جلد ملک کے مستقبل سے زیادہ روشن ہے۔‘

یہ تبصرہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب انڈیا میں مختلف سرکاری امتحانات کے سوالیہ پرچے لیک ہونے کے واقعات پر طلبہ کی جانب سے مسلسل احتجاج کیا جا رہا ہے، جبکہ اسی تناظر میں پارلیمنٹ نے امتحانی دھوکہ دہی کے خلاف نیا قانون بھی منظور کیا ہے۔
قانون کے تحت پرچہ لیک اور امتحانی فراڈ میں ملوث افراد کے لیے زیادہ سخت سزائیں، بھاری جرمانے، مقررہ مدت میں تحقیقات اور ایسے مقدمات کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کی شقیں شامل کی گئی ہیں۔
تاہم کاکروچ جنتا پارٹی نے بل کی منظوری سے قبل ہی ان مجوزہ ترامیم پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ قانون میں پرچہ لیک ہونے کے بعد سزا پر تو زور دیا گیا ہے، لیکن ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بنیادی اصلاحات پر مناسب توجہ نہیں دی گئی۔
کروچ جنتا پارٹی کے ترجمان آشوتوش رانکا نے پارلیمنٹ میں بل منظور ہونے کے بعد ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ حکومت نے سخت سزاؤں، جرمانوں اور فاسٹ ٹریک عدالتوں کی تو بات کی، لیکن یہ نہیں بتایا کہ پرچہ لیک ہونے سے پہلے اسے روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی میں اصلاحات، امتحانی نظام میں زیادہ شفافیت اور اس کے انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے۔
Are we really trying to stop paper leaks? pic.twitter.com/OSsutev9AK
— Ashutosh Ranka (@AshutoshRanka) July 29, 2026











