انڈیا میں نوجوانوں کا احتجاج: ’ناقابل شکست برانڈ مودی‘ کو 25 سال میں سب سے بڑا دھچکہ
انڈیا میں نوجوانوں کا احتجاج: ’ناقابل شکست برانڈ مودی‘ کو 25 سال میں سب سے بڑا دھچکہ
بدھ 29 جولائی 2026 18:16
تجزیہ کاروں کے مطابق، مودی کو صرف سڑکوں پر ہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی دھچکہ پہنچا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی کی بڑی احتیاط سے بنائی گئی ناقابلِ شکست رہنما کے امیج کو اب تک کے سخت ترین امتحان کا سامنا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، امتحانی بے ضابطگیوں اور روزگار کے محدود مواقع کے خلاف نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے سامنے حکومت کے پسپا ہونے سے نریندر مودی کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حکومت کی یہ پسپائی ایک ایسے رہنما کے لیے غیر معمولی واقعہ ہے جس کی سیاسی شناخت گزشتہ ایک دہائی سے طاقت، مضبوط قیادت اور کسی دباؤ کے سامنے نہ جھکنے پر قائم رہی ہے۔
گزشتہ ہفتے کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں ہونے والے مظاہرے نئی دہلی سے شروع ہو کر ملک بھر کے شہروں تک پھیل گئے، جس کے نتیجے میں وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا پڑا۔
حکومت نے یہ بھی اعلان کیا کہ احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی، جبکہ دیگر مطالبات بھی تسلیم کیے گئے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگلے سال ہونے والے اہم ریاستی انتخابات سے قبل یہ ان چند مواقع میں سے ایک ہے جب عوامی دباؤ نے 75 سالہ مودی کو، جو 2014 سے اقتدار میں ہیں، اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔
مودی کی سوانح عمری کے مصنف اور تجزیہ کار نیلانجن مکھوپادھیائے نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’استعفیٰ یقیناً حیران کن ہے، کیونکہ مودی کے مزاج میں پیچھے ہٹنا شامل نہیں۔‘
ان کے مطابق، 2001 میں گجرات کے وزیرِ اعلیٰ بننے کے بعد سے ’برانڈ مودی‘ کو یہ سب سے بڑا دھچکہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’پچیس برس کی برانڈ سازی کو شدید نقصان پہنچا ہے، اور مجھے یقین نہیں کہ وہ اس نقصان سے فوری طور پر سنبھل سکیں گے۔‘
رکاوٹیں ٹوٹ گئیں
ابتدا میں حکومت کو یقین تھا کہ وہ احتجاج کو قابو میں کر لے گی۔
اجے بوس کے مطابق اس احتجاج نے مودی اور بی جے پی کی ناقابلِ شکست ہونے کی عوامی تاثر کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
لیکن 20 جولائی کو پارلیمان کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی الٹا اثر دکھا گئی۔ اس سے تحریک کو مزید حمایت ملی اور امتحانی پرچوں کے لیک ہونے پر غصہ نوجوانوں کی وسیع تر بے چینی اور مایوسی کا اظہار بن گیا۔
اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی کے مختلف حلقوں نے بھی مظاہرین کی حمایت کی، جبکہ پولیس کارروائی کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئیں۔
جوں جوں احتجاج زور پکڑتا گیا، حکومت کے لیے اپنے مؤقف پر قائم رہنے کی سیاسی قیمت بڑھتی گئی۔
سیاسی مبصر اجے بوس نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ان نوجوانوں نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر آپ ڈٹ کر کھڑے ہوں تو کامیابی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے خوف کی دیوار توڑ دی ہے۔‘
اجے بوس کے مطابق، ان احتجاجوں نے مودی اور ان کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی ناقابلِ شکست ہونے کی عوامی تاثر کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔
اگرچہ ان مشکلات کے باوجود مودی اب بھی قومی سیاست پر غالب ہیں، تاہم حکومت نے بحران پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی اصلاحات اور فوری سزا کا وعدہ کیا ہے۔
انڈیا کی منتشر اپوزیشن کے لیے یہ احتجاج حکومت پر دباؤ بڑھانے کا ایک نادر موقع ثابت ہوا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بی جے پی پنجاب، گجرات اور اتر پردیش میں ہونے والے انتخابی معرکوں کی تیاری کر رہی ہے۔
انڈیا کی منتشر اپوزیشن کے لیے یہ احتجاج حکومت پر دباؤ بڑھانے کا ایک نادر موقع ثابت ہوا ہے۔
تاہم اجے بوس کا کہنا ہے کہ آیا اپوزیشن نوجوانوں کی ناراضی کو انتخابی کامیابی میں بدل سکے گی یا نہیں، اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ بی جے پی کے خلاف متحد ہو کر سامنے آ سکتی ہے یا نہیں۔
میمز اور ریلز
تجزیہ کاروں کے مطابق، مودی کو صرف سڑکوں پر ہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی دھچکہ پہنچا، کیونکہ ان احتجاجوں نے بدلتے ہوئے ڈیجیٹل منظرنامے کو نمایاں کر دیا جہاں بی جے پی اب وہ برتری برقرار نہیں رکھ سکی جو کبھی اس کے پاس تھی۔
یونیورسٹی آف مشیگن کے پروفیسر جویوجیت پال نے کہا کہ ’حکومت نے اپنے نیٹ ورک کو مضبوط بنانے پر توجہ دی، لیکن اس نے یہ نہیں دیکھا کہ سوشل میڈیا کے الگورتھمز کس طرح تبدیل ہو رہے ہیں۔‘
بدھ کے روز تک بی جے پی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ کے 96 لاکھ فالوورز ہیں، جبکہ صرف مئی میں قائم ہونے والی سی جے پی کے فالوورز کی تعداد 2 کروڑ 60 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔
بی جے پی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ کے 96 لاکھ فالوورز ہیں، جبکہ مئی میں قائم ہونے والی سی جے پی کے فالوورز کی تعداد 2 کروڑ 60 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
اپنی کہانی پر قابو رکھنے کے بجائے، بی جے پی کو انسٹاگرام اور ایکس پر میمز اور مختصر ویڈیوز کی ایک بڑی لہر کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ خاص طور پر جنریشن زی کے درمیان اختلافِ رائے کا اظہار اب انٹرنیٹ کلچر کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں ہو رہا ہے۔
اس نوجوان طبقے سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش میں مودی نے سیلفی انداز میں عمودی ویڈیوز جاری کیں، جن میں انہوں نے امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف مزید سخت کارروائی کا وعدہ کیا۔
یہ انداز ان کی روایتی، مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ تیار کی جانے والی ویڈیوز سے مختلف تھا، لیکن یہی ویڈیوز بعد میں سوشل میڈیا پر مزید طنز و مزاح کا موضوع بن گئیں۔
پال کے مطابق، اس واقعے نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اب ان چند جگہوں میں شامل ہیں جہاں حکومت پر تنقید تیزی سے عوامی توجہ حاصل کر سکتی ہے۔
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’سوشل میڈیا اب انڈیا کے چھوٹے سے چھوٹے قصبوں تک پہنچ چکا ہے اور نوجوان انڈینز کی زندگی کا تقریباً لازمی حصہ بن گیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’جب حکومت پر تنقید کے مواقع کم ہوتے جاتے ہیں، تو جو بھی نئی جگہ میسر آتی ہے، وہ اختلافِ رائے کے اظہار کا ایک اہم پلیٹ فارم بن جاتی ہے۔‘