چین کا امریکی تجارتی پابندیوں کے جواب میں ’جوابی اقدامات‘ کا اعلان
چین کا امریکی تجارتی پابندیوں کے جواب میں ’جوابی اقدامات‘ کا اعلان
بدھ 5 اگست 2026 12:50
گذشتہ برس اکتوبر میں صدر ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ کی ملاقات کے بعد تجارتی جنگ بندی ہوئی تھی (فوٹو: اے ایف پی)
چین نے واشنگٹن کی جانب سے جبری مشقت اور قومی سلامتی کے خدشات کے تحت لگائی گئی حالیہ تجارتی پابندیوں کے ردِعمل میں امریکہ کے خلاف جوابی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
چین کے جوابی اقدامات میں ڈرونز اور ان کے اہم پرزہ جات و ٹیکنالوجی کی برآمد پر سخت کنٹرول اور چھ امریکی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنا شامل ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب امریکہ نے چین اور 59 دیگر ممالک پر نیا ٹیرف لگایا جو حالیہ تجارتی اقدامات کی ایک کڑی ہے۔
چینی وزارتِ تجارت کے ترجمان نے کہا کہ ’امریکی اقدامات چین کے جائز حقوق اور مفادات کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ چین صرف ضروری جوابی اقدامات ہی کر سکتا ہے، جن میں امریکہ کو ڈرونز اور ان کے اہم پرزہ جات و ٹیکنالوجی کی برآمد پر کنٹرول سخت کرنا شامل ہے۔‘
بیجنگ کے اقدامات میں چینی سرٹیفیکیشن اداروں کی فیکٹری انسپیکشن معطل کرنا، امریکی کمپلائنس ٹیسٹنگ کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنا اور دفتر کے پرنٹرز اور کاپی مشینوں کی درآمد پر قومی سلامتی کی تحقیقات شروع کرنا شامل ہے۔
چین نے جن چھ امریکی کمپنیوں پر پابندیاں لگائیں ان میں ’اپلائیڈ ڈی این اے سائنسز‘ اور ’سڑاٹم ریزروائر‘ بھی شامل ہیں۔ چین نے کہا کہ یہ کمپنیاں ’غیر قانونی امریکی پابندیوں میں مدد اور حمایت کر رہی تھیں‘ اور ان کی سرگرمیوں کی نوعیت ’انتہائی سنگین‘ ہے۔
اقوامِ متحدہ نے سنکیانگ میں زیادہ تر مسلم ایغور اقلیت کے خلاف ممکنہ جرائمِ انسانیت کی وارننگ دی ہے، جسے چین سختی سے رد کرتا ہے۔
چین کے اعلیٰ تجارتی اہلکار ہی لیفینگ نے امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر سے فون پر بات کرتے ہوئے ’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا۔
گذشتہ ہفتے جب واشنگٹن نے بیرونِ ملک تیار کردہ انسان نما اور روبوٹس کی درآمد پر پابندی لگائی تھی تو چین نے امریکہ پر الزام لگایا تھا کہ وہ چینی کمپنیوں کو ’دبانے‘ کی کوشش کر رہا ہے۔
چین پر امریکہ نے 12.5 فیصد ٹیرف لگا کر ایغور اقلیت کو جبری مشقت کیمپوں میں رکھنے کا الزام لگایا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
چین اور امریکہ پچھلے سال زیادہ تر وقت تجارتی جنگ میں الجھے رہے، لیکن اکتوبر میں صدر ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ کی ملاقات کے بعد یہ جنگ بندی ہوئی تھی۔ تازہ امریکی ٹیرف نے اس جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا ہے، اور بیجنگ نے واشنگٹن کو تجارتی جنگ نہ چھیڑنے کی وارننگ دی ہے۔
گذشتہ ماہ ٹرمپ انتظامیہ نے چین، پاکستان اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک سے آنے والی اشیا پر 10 فیصد اور 12.5 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا تھا۔ اور کہا تھا کہ یہ اقدام جبری مشقت پر پابندیوں کے کمزور نفاذ کے الزامات کے تحت کیا جا رہا ہے۔
چین پر امریکہ نے 12.5 فیصد ٹیرف لگا کر ایغور اقلیت کو جبری مشقت کیمپوں میں رکھنے کا الزام لگایا تھا۔ اس کے بعد امریکہ نے 43 چینی کمپنیوں کو ’اینٹٹی لسٹ‘ میں شامل کیا، جس پر چین کا شدید ردعمل سامنے آیا۔
چینی اخبار گلوبل ٹائمز کے مطابق امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے گذشتہ جمعے کو 43 چینی کمپنیوں کو ’ایغور فورسڈ لیبر پریونشن ایکٹ‘ کے تحت ’اینٹٹی لسٹ میں شامل کیا، جن میں کپاس کی ٹیکسٹائل انٹرپرائزز بھی شامل ہیں۔