Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد امریکہ یکطرفہ ٹیرف ختم کرے: چین

صدر ٹرمپ نے عدالتی فیصلے کے بعد مزید ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
چین نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کی جانب سے صدر ٹرمپ کے زیادہ تر اقدامات کو مسترد کیے جانے کے بعد ان ٹیرفس کو منسوخ کرے جن کا اعلان امریکی صدر نے یکطرفہ طور پر کیا تھا۔
 فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی عدالت نے جمعے کو چھ تین کے تناسب سے فیصلہ سنایا تھا کہ 1977 کے قانون کے تحت صدر ٹرمپ ٹیرف لگانے کا اختیار نہیں رکھتے، جس کے تحت انہوں نے کئی ممالک پر ٹیکس لگائے اور عالمی طور پر تجارت میں شدید اتار چڑھاؤ آیا۔
صدر ٹرمپ نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایک اور قانونی اختیار کے تحت درآمدات پر 10 فیصد نئی ڈیوٹی لگانے اور سنیچر تک 15 فیصد تک بڑھانے کا اعلان کیا۔
چین کی وزارت تجارت نے پیر کو کہا کہ وہ اس فیصلے کے اثرات کا ’جامع طور پر جائزہ‘ لے رہی ہے اور واشنگٹن سے ٹیرف ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔‘
وزارت تجارت کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’چین امریکہ پر زور دیتا ہے کہ وہ تجارتی شراکت داروں پر لگائے گئے ٹیرف کینسل کرے۔ تجارتی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا اور تحفظ پسندی کا راستہ کہیں نہیں جاتا۔‘
رپورٹس کے مطابق 15 فیصد نئی ڈیوٹیز منگل کو شروع ہونے والی ہیں جو 150 روز تک برقرار رہیں گی جبکہ ان میں کچھ مصنوعات کے لیے چھوٹ بھی موجود ہے۔
چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے محصولات کے بڑھتے سلسلے پر ’گہری توجہ‘ دی جا رہی ہے۔
بیان کے مطابق ’امریکہ اس وقت اپنے تجارتی شراکت داروں پر عائد کیے گئے محصولات کو برقرار رکھنے کے لیے ’تجارتی تحقیقات‘ جیسے متبادل اقدامات کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، چین اس پر سنجیدگی سے توجہ دے گا اور اپنے مفادات کا ٹھوس انداز میں دفاع کرے گا۔‘
امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کو عدلیہ کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک ’حیران کن سرزنش‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے حالانکہ عہدے پر آنے کے بعد سے زیادہ تر اس نے صدر ٹرمپ کا ساتھ دیا ہے۔
اس فیصلے سے صدر ٹرمپ کی اس مخصوص اقتصادی پالیسی کو دھچکا لگا ہے جس کی وجہ سے عالمی تجارتی طریقہ کار بری متاثر ہوا ہے
فیصلے کے بعد کئی ممالک نے کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے اور صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کے بعد لگائے گئے ٹیرف کا جائزہ لے رہے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے اتوار کو میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم کے بعد بھی چین، یورپی یونین اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ تجارتی معاہدے نافذ رہیں گے۔

شیئر: