آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد ورفت چھ ماہ کی بلند ترین سطح پر: امریکی افواج
امریکی ناکہ بندی کے باعث ایران کی جانب سے تیل کی برآمد ’صفر بیرل‘ رہی ہے ( فوٹو: عرب نیوز)
مشرق وسطی میں امریکی افواج کے سربراہ نے سنیچر کو بتایا کہ امریکی فوج نے ’گزشتہ چند ماہ‘ کے دوران خلیج عرب سے ایک ارب بیرل تیل کی ترسیل میں مدد کی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق اس کے ساتھ ایڈمرل بریڈ کوپر نے آبنائے ہرمز (جہاں سے آئل ٹینکرز گزرتے ہیں) کے بارے میں ایک وڈیو اپ ڈیٹ میں کہا کہ اسی عرصے کے دوران امریکی ناکہ بندی کے باعث ایران کی جانب سے تیل کی برآمد ’صفر بیرل‘ رہی ہے۔
امریکہ کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے تقریبا سات ماہ قبل ہونے کے بعد ایران کی جانب سے اس آبی گزر گاہ کے ذریعے جہاز رانی پر حملوں اور دھمکیوں کے بعد آبنائے سے گزرنے والے ٹینکروں کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔
تاہم امریکی فوج نے اس آبی گزر گاہ کے جنوبی حصے سے ٹینکروں کے لیے ایک کوریڈور قائم کرنے پر کام کیا ہے جس سے خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔
ایڈمرل بریڈ کوپر نے بتایا امریکی افواج نے ’کوآرڈینیٹٹ پروٹیکشن‘ فراپم کرتے ہوئےآبنائے ہرمز سے دو ہزار تجارتی جہازوں کے گزرنے میں معاونت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے خام تیل، قدرتی گیس اور کارگو کی مقدار گزشتہ چھ ماہ میں سب سے زیادہ رہی ہے۔
تنازع شروع ہونے سے قبل دنیا بھر کا تیل اور مائع قدرتی گیس کا تقریبا پانچواں حصہ آبنائے پرمز سے گزرتا تھا جس میں یومیہ تقریبا پندرہ ملین بیرل خام تیل شامل ہے۔
ٹینکروں کی آمد و رفت میں اضافے کے باجود ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنی والی ٹینکر ٹریفک کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔
ایران کا کہنا ہے اس نے جمعرات کی رات ٹوگو کے پرچم بردار ایک آئل ٹینکر پر حملہ کیا جبکہ میری ٹائم انسیڈینٹ مانیٹرزکا کہنا ہے بدھ کو بھی ایک جہاز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ آبی گزر گاہوں کو محفوظ بنانے کی امریکی کوششوں کے تحت امریکہ نے آبنائے کی پرائمری ٹرانزٹ لائنز سے ایرانی بارودی سرنگیں ہٹا دی ہیں۔
